انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

پہلی شامی پنا ہ گزین پائلٹ کی کہانی، مایا غزل کو پائلٹ بننے کیلئے کون کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ مایا غزل اپنی بیتی سامنے لے آئیں، سب کے رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبر

وہ تمام مشکلات پر قابو پا کر ایک ماہر پائلٹ اور اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی کی خیر سگالی کی سفیر بھی بن گئیں

پہلی شامی پنا ہ گزین پائلٹ کی کہانی، مایا غزل کو پائلٹ بننے کیلئے کون کون سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ مایا غزل اپنی بیتی سامنے لے آئیں، سب کے رونگٹے کھڑے کر دینے والی خبر آگئی

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق مایا غزل ان لاکھوں شامی پناہ گزینوں میں سے ایک ہے جنھوں نے خانہ جنگی شروع ہوتے ہوئے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ چھ برس قبل مایا کے خاندان کو برطانیہ میں پناہ مل گئی مگر مایا کو تعلیم حاصل کرنے میں اب بھی کئی رکاوٹوں کا سامنا تھا۔ مایا نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ کیسے اس نے تمام مشکلات پر قابو پا کر ایک ماہر پائلٹ اور اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں سے متعلق ایجنسی کی خیر سگالی کی سفیر بھی بن گئیں۔ ہر بار جب میں جہاز میں داخل ہوتی ہوں تو میں بہت پرجوش ہو جاتی ہوں۔۔ میں اب ایک پائلٹ ہوں۔ یہ سوچنا ہی محال ہے کہ میں نے یہ سفر کیسے طے کر لیا۔ میں تو وہ تھی جسے سکولوں نے داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مایا غزل 16 برس کی عمر میں اپنی ماں اور بہن بھائیوں کے ہمراہ دمشق چھوڑ کر برطانیہ چلی گئیں جہاں پہلے ہی سے ان کے والد شام سے فرار ہو کر وہاں پہنچ چکے تھے۔ چھ سال بعد اب مایا پہلی شامی پناہ گزین ہیں جو اب نجی طیارے اڑانے کا لائسنس کی اہل ہیں اور اب وہ کمرشل فلائیٹس چلانے کے لیے تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ مگر یہ سب بہت مشکل سفر تھا جو مایا نے طے کیا۔جب وہ برمنگھم آئیں تو اسے یہ امید تھی کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں گی مگر اب اسے داخلہ لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ 22 برس کی مایا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے خیال میں مجھے اس وجہ سے بھی داخلے میں مشکلات کا سامنا تھا کہ میں ایک شامی ہوں، سکول والوں کے خیال میں ایک ان پڑھ لڑکی ہوں گی اور برطانیہ میں غیرقانونی طور پر آئی ہوں گی۔۔ مگر ایسا نہیں تھا۔ جب مایا برطانیہ آئیں تو اس وقت کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ حاصل کرنا یا 16 سال کی عمر کے بعد تربیت حاصل کرنا لازمی شرط نہیں تھی۔ مایا نے اپنے ملک شام میں ثانوی درجے کی تعلیم مکمل کر لی تھی اور یوں انھیں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے آگے داخلہ حاصل کرنا کوئی لازمی شرط نہیں تھی۔ مایا کا کہنا ہے کہ اس نے چار اداروں میں داخلے کے لیے درخواست دی اور فزکس اور ریاضی میں ٹیسٹ کے لیے بھی پیشکش کی مگر ان کی درخواست ہر بار مسترد کر دی گئی۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ مایا کی داخلے کی درخواست اس وجہ سے مسترد کر دی جاتی تھی کیونکہ شام سے حاصل کردہ تعلیمی اسناد کو برطانیہ میں تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ مایا کا کہنا ہے کوئی بھی میری کہانی سننے کی پرواہ نہیں کرتا تھا اور اس چیز نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ہر بار جب مجھے مسترد کیا جاتا تو میری ایسی کیفیت ہوتی تھی جیسے میرا دل ٹوٹ جاتا تھا۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق اس وقت دنیا کے کئی ممالک میں 66 لاکھ سے زائد شامی پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ تقریبا 20 ہزار کو برطانیہ میں پناہ دی گئی ہے۔ چھ برس قبل جب پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہوا تو ایسے میں ان پریشان حال پناہ گزینوں کی تصاویر میڈیا میں بھی شائع ہوئیں، جب وہ یورپ میں داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان تصاویر میں نفرت کے پیغامات بھی شامل ہو گئے۔ مایا کا کہنا ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا نے جس طرح کی کچھ لوگوں کی تصویر پیش کی اس سے یہ تاثر ملا کہ یہ پناہ گزین پیسے چوری کرنے آئے ہیں۔ میں اپنے بارے میں ایسا سوچنا بھی نہیں چاہتی کہ میں ان سے ایک ہو سکتی ہوں۔ پناہ گزین کوئی اچھا لفظ نہیں ہے جسے اپنے نام کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.