انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

فلسطینی صدر محمود عباس کی اسرائیل کو مقبوضہ علاقہ کو چھوڑنے کے لئے ایک سال کی مہلت، اگر علاقہ نہ چھوڑا تو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہونے کا اعلان

اسرائیل اور فلسطین کی ریاستوں کی حتمی حیثیت کے مسئلے کو حل کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کام کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی

فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل کو مقبوضہ علاقہ چھوڑنے کے لیے ایک سال کی مہلت دے دی اور کہا کہ اگر اسرائیل نے ہمارا فیصلہ نا مانا تو ہم اس کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو جائیں گے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے ورچوئل خطاب میں فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقہ چھوڑنے کے لیے ایک سال کا وقت دیتے ہیں اگر اسرائیل نے مقبوضہ علاقے کو نہیں چھوڑا تو وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل پریہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بیت المقدس سمیت فلسطینی مقبوضہ علاقے چھوڑنے کے لیے اس کے پاس ایک سال ہے، اگر اسرائیل نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو کیوں 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر اسرائیل کی تسلیم کو برقرار رکھا جائے؟

فلسطینی صدر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی امن کانفرنس کا انعقاد کریں۔ اس موقع پر محمود عباس نے اسرائیل اور فلسطین کی ریاستوں کی حتمی حیثیت کے مسئلے کو حل کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کام کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی اپنی مقبوضہ زمین کی قانونی حیثیت کے مسئلے پر عالمی عدالت انصاف جانے کے لیے بھی تیار ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.