انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

کشمیری نوجوانوں کی خودکشیاں‘ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی اصل وجہ کیا ہے؟ حیران کن تفصیلات منظر عام پر آگئیں

نڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوانوں میں خودکشیاں بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ غربت، رشتوں میں تناؤ، خوف اور بے روزگاری ہے

کشمیری نوجوانوں کی خودکشیاں‘ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے رجحان کی اصل وجہ کیا ہے؟ حیران کن تفصیلات منظر عام پر آگئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کولگام کے ایک دور افتادہ گاوں میں رہنے والے یونیورسٹی طالب علم شعیب بشیر میر ان سینکڑوں نوجوانوں میں شامل ہیں جنھوں نے گذشتہ دو سال کے دوران زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی۔ ان میں سے اکثر کی جان بروقت ہسپتال پہنچانے پر بچا لی گئی لیکن شعیب ان درجنوں نوجوانوں میں سے ہیں جن کی موت ہو گئی۔ شعیب کے والد بشیر احمد میر محکمہ تعلیم میں استاد ہیں اور پچھلے دو سال سے ان کی تنخواہ محض اس لیے روک دی گئی تھی کہ وہ ماضی میں مسلح عسکریت پسندوں کے ساتھ وابستگی کے الزام میں جیل جا چکے ہیں۔ والد کی تنخواہ معطل ہونے کے سبب شعیب نے کئی ہفتوں تک مزدوری کر کے دس ہزار روپے جمع کر کے اپنے والد کے بینک کھاتے میں اس لیے جمع کروائے تھے کہ یونیورسٹی کی فیس جمع کر پائیں۔ بشیر میر ندامت اور پچھتاوے کے لہجے میں کہتے ہیں کہ وہ غصہ ہو کر ماں کے پاس آیا اور پوچھا کہ پیسے کہاں گئے، ماں نے روتے ہوئے بولا کہ تنخواہ دو سال سے بند ہے، گھر میں کھانے کا سامان نہیں تھا۔ بشیر میر کے مطابق یہ سنتے ہی شعیب گھر سے جنگل کی طرف نکلا اور شام کو جب لوٹا تو اس پر غنودگی طاری تھی اور مشکل سے بات کر پا رہا تھا۔ ہسپتال پہنچاتے پہنچاتے شعیب کی موت ہوگئی۔ اس نے میوہ درختوں کے لیے مخصوص سیال کھاد کی شیشی کی ساری مقدار پی لی تھی۔

شعیب نے اپنی جان لینے سے قبل ایک ویڈیو بنائی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ان کے والد کی تنخواہ روک دی گئی ہے اور وہ پڑھائی کرنا چاہتے تھے لیکن وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ جان دے رہے ہیں تاکہ حکومت ان کے والد کی تنخواہ بحال کرے اور ان کے بھائی کی پڑھائی مکمل ہو سکے۔ شعیب کی موت کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور حکومت نے فورا بشیر میر کی تنخواہ بحال کر دی۔ بشیر کہتے ہیں کہ کل ملا کر چھ لاکھ روپے ملے لیکن میں نے بینک سے تین لاکھ اور لوگوں سے پانچ لاکھ روپے قرض اٹھائے تھے۔ بیوی کا علاج، بیٹی کا خرچہ اور دوسرے اخراجات کے لیے سرمایہ چاہیے تھا۔ میں نے ساری تنخواہ قرض داروں کو دے دی اور پھر بھی مقروض ہوں۔

گذشتہ برس سے کشمیر کے تقریبا سبھی علاقوں سے خود کشیوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غربت، رشتوں میں تناو، خوف اور بے روزگاری اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سب سے بڑے طبی مرکز شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈینٹ ڈاکٹر کنول جیت سنگھ نے گذشتہ برس اپریل سے اب تک ہسپتال میں خودکشی کے معاملوں سے متعلق اعداد و شمار کا حوالہ دے کر بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ 18 ماہ کے دوران ہسپتال میں خودکشی کے 795 معاملے درج ہوئے جن میں سے 42 کی موت ہو گئی۔ ہسپتال میں موجود ریکارڈ کے مطابق گذشتہ برس اپریل سے اس سال مارچ تک 515 ایسے واقعات درج ہوئے جن میں 343 خواتین تھیں۔ خود کشی کے واقعات یوں تو سبھی علاقوں میں رونما ہوئے تاہم سرینگر میں آئے روز کوئی نہ کوئی نوجوان لڑکا یا لڑکی دریا میں کود جاتے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.