انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

برطانوی شہری پر اڑتے جہاز سے انسانی فضلہ گرانے کی واردات، ترقی یافتہ سوسائٹی کے خود ساختہ دعویداروں کی شرمناک حرکت نے دینا کو حیرت زدہ کر دیا

ہر سال طیاروں سے جمے ہوئے فضلے کے پھینکے جانے کے کئی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ مگر یہ فضلہ جما ہوا نہیں تھا اور یہ فضلہ پورے باغ پر پھیل گیا

برطانوی شہری پر اڑتے جہاز سے انسانی فضلہ گرانے کی واردات، ترقی یافتہ سوسائٹی کے خود ساختہ دعویداروں کی شرمناک حرکت نے دینا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق لندن کے مغرب میں برکشائر کے ایک رہائشی کو اپنے اوپر آسمان سے متعلق ایک خاص شکوہ ہے۔ یہ شخص اپنے باغ میں آرام کر رہا تھا جب ایک جہاز سے انسانی فضلہ اس پر آگرا۔ یہ واقعہ جولائی کے وسط میں پیش آیا تھا مگر اس بارے میں ایک مقامی کونسل میٹنگ کے دوران پتا چلا۔ کونسلر کیرن ڈیوس نے بتایا کہ ان کے حلقے کے ایک شخص نے رابطہ کیا تھا اور وہ اس خوفناک واقعے کے بارے میں سن کر خوفزدہ ہو گئیں۔ کونسلر کیرن ڈیوس نے وضاحت کی کہ کس طرح اس شخص کا پورا باغ، باغ کی چھتریاں اور وہ خود طیارے سے گرنے والے فضلے میں لت پت ہو گئے۔

متاثرہ شخص ونڈزر کا رہائشی ہے، جو ملکہ کے محل کی وجہ سے مشہور ہے اور اس کے علاوہ یہ علاقہ ہیتھرو ایئرپورٹ کی جانب جانے والی پروازوں کا روٹ بھی ہے۔ ہیتھرو ان پانچ بڑے فضائی اڈوں میں سے ایک ہے جو لندن کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ کیرن ڈیوس کہتی ہیں کہ ہر سال طیاروں سے جمے ہوئے فضلے کے پھینکے جانے کے کئی واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ مگر یہ فضلہ جما ہوا نہیں تھا اور یہ فضلہ پورے باغ پر پھیل گیا۔ یہ شخص اس وقت باغ میں تھا۔ حقیقی معنوں میں اسے انتہائی خوفناک قسم کے تجربے کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں امید ہے کہ آئندہ ان کے کسی شہری کے ساتھ ایسا واقع پیش نہیں آئے گا۔ ایک دوسرے کونسلر جان بوڈن نے کہا ہے کہ ایسا واقعہ شاز و نادر ہی پیش آتا ہوگا۔ ان کے مطابق گرم موسم میں اس واقعے کے پیش آنے کا مطلب یہی ہے کہ یہ فضلہ مزید پگھل کر گرا۔

طیاروں کے ٹوائلٹ میں خصوصی طور پر بنائی گئی ٹینکیوں میں انسانی فضلے کو جمع کر دیا جاتا ہے اور عام طور انھیں اس وقت خالی کیا جاتا ہے جب طیارہ اپنا سفر مکمل کر کے واپس ایئرپورٹ پر اتر جاتا ہے۔ تاہم انٹرنیشنل ایوی ایشن حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ٹوائلٹ میں اس طرح کی لیکس سے ایسے حادثات پیش آ سکتے ہیں۔ اس متعلق بی بی سی برکشائر نے ایوی ایشن کے ماہر جولیان برے سے بات کی کہ اس طرح جہاز سے کتنی مقدار میں فضلہ گر سکتا ہے۔ ان کے مطابق جدید طیاروں میں ویکیوم ٹوائلٹ ہوتے ہیں جو نسبتا محفوظ ہوتے ہیں اور قدرے بہتر سیل کیے ہوتے ہیں۔ جولیان برے کے مطابق مسئلہ ٹوائلٹ میکنزم اور سٹوریج ٹینک کے درمیان ویکیوم جنکشن ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس فضلے کو مکمل مضبوطی سے سیل نہیں کیا جا سکتا اور اسے قدرے لچکدار بھی رکھا جاتا ہے کیونکہ جہاز نے کئی طرح کے دبا سے گزرنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہاز زمین کی طرف آ رہا ہے اور یہ کوئی چھ ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچتا ہے اور پھر دبا میں تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ جہاز کا ٹوائلٹ والا ٹینک لیک کر جاتا ہے اور بدقسمتی سے باغ میں موجود شخص پر فضلہ گر جاتا ہے جس سے اس باغ کا فرنیچر بھی خراب ہوا۔

جولیان برے کے مطابق یہ بہت ہی کم پیش آنے والے واقعات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق پرانے زمانے میں بلیو آئس نامی یہ فضلہ گرنے کے واقعات کثرت سے پیش آتے تھے۔ ان کے مطابق یہ پیشاب اور جراثیم کش عناصر کا مرکب ہوتا ہے جس وجہ سے اس کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے اور اسے بلیو آئس کہا جاتا ہے۔ جولیان کا کہنا ہے کہ یہ باقاعدگی سے تو نہیں ہوتا مگر پھر بھی ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ برف کے گولوں کی طرح نیچے آتا ہے اور یہ کوئی خوشگوار تجربہ نہیں ہوتا۔ آئیور کی رہائشی پال نے حقیقت میں آسمان سے بلیو آئس کو گرتے دیکھا ہے اور انھوں نے بی بی سی ریڈیو برکشائر سے اپنے اس تجربے سے متعلق بات کی ہے۔ اپنے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے پال نے کہا کہ میں پرِنسسز مارگریٹ ہسپتال سے باہر آرہا تھا اور ایئر کینیڈا کا ایک طیارہ ہیتھرو کی طرف بڑھتے ہوئے بہت کم اونچائی پر پرواز کر رہا تھا۔ میرے سامنے یہ آئس جہاز کے نچلے حصے سے گری اور درخت کی تین شاخوں چیرتی ہوئی مجھ سے 12 فٹ کی دوری پر آ گری۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.