انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

مجھے ریپ اور سر قلم کرنے کی دھمکیاں کیوں دی جا تی ہیں؟ ان کی روک تمام کیوں نہیں کی جاتی؟ انٹرنیشنل خاتون صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

آن لائن سازشوں اور فیک نیوز کے اثرات کے متعلق میری رپورٹنگ۔ میں سوالات اور تنقید کے لیے تیار ہوں: بی بی سی کی پہلی سپیشیلسٹ ڈس انفارمیشن رپورٹر

مجھے ریپ اور سر قلم کرنے کی دھمکیاں کیوں دی جا تی ہیں؟ ان کی روک تمام کیوں نہیں کی جاتی؟ انٹرنیشنل خاتون صحافی کے تہلکہ خیز انکشافات نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

میں بی بی سی کی پہلی سپیشیلسٹ ڈس انفارمیشن رپورٹر ہوں اور مجھے روزانہ سوشل میڈیا پر توہین آمیز پیغامات موصول ہوتے ہیں۔ اکثر تو اتنے گندے یا گالم گلوچ سے بھرپور ہوتے ہیں کہ وہ ان کی تفصیل یہاں بیان نہیں کی جا سکتی۔ اس کا محرک کیا ہے۔۔۔ آن لائن سازشوں اور فیک نیوز کے اثرات کے متعلق میری رپورٹنگ۔ میں سوالات اور تنقید کے لیے تیار ہوں، لیکن عورتوں کے حوالے سے نفرت کا جو رویہ میرے خلاف استعمال ہوتا ہے اب وہ ایک معمول بن گیا ہے۔

ان پیغامات میں میری جنس کے حوالے سے گندی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ ریپ، سر قلم کرنے اور جنسی عوامل کے متعلق اشارے کیے جاتے ہیں۔ کچھ میں سازشی نظریے ملا کے پیش کیے جاتے ہیں، جیسے میں صہیونی کنٹرول میں ہوں، یا میں خود چھوٹے بچوں کو ریپ کرنے کی ذمہ دار ہوں۔ غلیظ گالیوں کا لگاتار استعمال کیا جاتا ہے لیکن یہ صرف میرے متعلق ہی نہیں ہے۔ دنیا بھر کے سیاستدانوں سے لے کر پروگرام لو آئی لینڈ کے ستاروں اور فرنٹ لائن ڈاکٹروں کے متعلق میں سنتی ہوں کہ خواتین کے ساتھ اسی قسم کی نفرت کا سلوک کیا جاتا ہے۔ ایک نئی تحقیق جو بی بی سی کے ساتھ شیئر کی گئی ہے بتاتی ہے کہ خواتین کو مردوں کی نسبت اسی طرح کے رویے کا زیادہ سامنا رہتا ہے، اور یہ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بری ہوتی جا رہی ہے، اور اس میں اب نسل پرستی اور ہوموفوبیا بھی شامل ہو گیا ہے۔ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے، اس سے کیا خطرہ ہے اور سوشل میڈیا سائٹس، پولیس اور حکومت کیوں اس کے متعلق زیادہ کچھ نہیں کر رہے۔ لہذا میں نے اس پر بی بی سی پینوراما کے لیے ایک فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔

ہم نے پانچ مشہور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک جعلی ٹرولز کا اکانٹ قائم کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ کس طرح ایسے صارفین میں خواتین کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں۔ اے آئی (مصنوئی ذہانت)سے تیار کردہ تصویر کا استعمال کرتے ہوئے ہم نے اپنے جعلی ٹرولز کو ان لوگوں کی طرح ڈیزائن کیا جو مجھے گالم گلوچ کرتے تھے۔ ہمارا ٹرول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مجوزہ مواد کے ساتھ مصروف رہتا تھا لیکن وہ کوئی نفرت بھرا پیغام نہیں بھیجتا تھا۔ پروگرام کے ایک حصے کے طور پر، تھنک ٹینک ڈیموز نے ریئلٹی ٹی وی کے مقابلوں میں حصہ لینے والوں کو موصول ہونے والے زیادتی بھرے پیغامات کے بارے میں ایک وسیع تحقیق کی اور 90 ہزار سے زیادہ پوسٹس اور تبصروں کا تجزیہ لیا۔ یہ شاید شروع کرنے کے لیے ایک حیران کن جگہ تھی، لیکن لو آئی لینڈ جیسے پروگرام معاشرے کے لیے تقریبا ایک مائیکروکوزم (عالم صغیر)کے طور پر کام کرتے ہیں، جن سے محققین مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے مردوں اور عورتوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کا موازنہ کر سکتے ہیں۔ ان کی مقبولیت بھی بہت زیادہ آن لائن بات چیت میں دلچسپی پیدا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.