انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

کیا بھارت میں روحانی دارالحکومت بھی ہے؟ اگر ہے تو وہاں مہمانوں کو گوشت پیش کرنے پر پابندی کیوں ہے؟ سب کو حیران کر دینے والی کہانی منظر عام پر آگئی

انڈیا کا وارانسی یعنی بنارس شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جو سنہ 1800 قبل مسیح سے اب تک آباد ہے

کیا بھارت میں روحانی دارالحکومت بھی ہے؟ اگر ہے تو وہاں مہمانوں کو گوشت پیش کرنے پر پابندی کیوں ہے؟ سب کو حیران کر دینے والی کہانی منظر عام پر آگئی ہے۔

انڈیا کا وارانسی یعنی بنارس شہر دنیا کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جو سنہ 1800 قبل مسیح سے اب تک آباد ہے۔ یہ علاقہ تقریبا سوا دو ارب ہندو مذہب کے پیروکاروں کے لیے بھی مقدس ہے۔ ہر روز جب مندر میں گھنٹیوں کی آوازیں گونجتی ہیں تو ہزاروں عقیدت مند شہر کے 88 گھاٹوں پر آتے ہیں اور اپنے پاپ (گناہ)دھونے کے لیے گنگا میں غوطہ زن ہوتے ہیں۔ غمزدہ خاندان وارانسی میں دو شمشان گھاٹوں میں آتے ہیں جہاں ہر وقت لاشوں کو جلایا جاتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ بھگوان شیو خود نجات کے گیت ان سب کے کانوں میں گنگناتے ہیں۔ یہاں جن کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں فوری نجات ملتی ہے۔

بہرحال میری وارانسی جانے کی وجہ بالکل مختلف تھی۔ میں وہاں روح کی تسکین یا موت کا سامنا کرنے کے لیے نہیں آئی تھی۔ اس کے بجائے، میں نے شہر کے منفرد سبزی خور کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے وارانسی کا سفر کیا۔ شہر کی بھیڑ بھاڑ والی سڑکوں سے گزرتے ہوئے معروف قصہ گو اور ڈرائیور راکیش گری نے مجھے بتایا کہ ہندو عقائد کے مطابق کس طرح کائنات کو تباہ کرنے والے بھگوان شیو نے قدیم زمانے میں وارانسی کی بنیاد رکھی۔ وارانسی میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کی طرح راکیش گری بھی ایک پرجوش شیو بھگت (شیو کے عقیدت مند) ہیں اور چونکہ شیو کے عقیدت مندوں کا ماننا ہے کہ ان کا دیوتا سبزی خور ہے، اس لیے وہ اور وارانسی کے زیادہ تر لوگ ساتویک (یعنی خالص سبزی خور)کھانا کھاتے ہیں۔

راکیش گری نے کہا کہ میں اور میرا خاندان کئی نسلوں سے خالص سبزی خور ہیں۔ انڈے کھانے والوں کے گھروں میں ہم پانی پینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ وارانسی کو انڈیا کا روحانی دارالحکومت کہا جا سکتا ہے لیکن یہ شہر کھانے پینے والوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے لیے نہیں جانا جاتا۔ جو لوگ کھانے پینے کے شوقین ہیں وہ وارانسی جانے سے پہلے دلی، کولکتہ یا چینئی جیسے ملک کے مشہور فوڈ گڑھ کا دورہ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن دنیا بھر کے شیف اب وارانسی کے پکوان (خوان)سے متاثر ہو رہے ہیں اور اپنے ریستورانوں میں ویسا کھانا پکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شیف وکاس کھنہ بھی ایسے ہی لوگوں میں شامل ہیں۔ کھنہ کو سنہ 2011 سے 2016 تک ہر سال مین ہٹن میں اپنے ریستوراں جنون کے لیے مشیلین سٹار (اچھی کارکردگی کے لیے دیا جانے والا اعزاز)کا اعزاز ملا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ وارانسی کے ایک مندر میں پیش کی جانے والی ورت کے کٹو (ایک پھل کٹو کے آٹے سے تیار کردہ پوا)دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ کھنہ نے سنہ 2020 میں ٹریول میگزین لونلی پلانیٹ کو بتایا کہ میں نے مین ہٹن میں اپنے کچن میں اسے دوبارہ بنانے کی پوری کوشش کی اور اس کا ذائقہ بے مثال تھا۔ دو بار مشیلین سٹار سے نوازے جانے والے شیف اتل کوچر نے لندن میں ایک ماڈرن انڈین ریستوراں کھولا ہے۔ کوچر نے اس کا نام بنارس (وارنسی کا پرانا نام)رکھا۔ اسی نام کی اپنی کک بک میں، انھوں نے سبزی خور فیوژن کی ترکیبوں کے بارے میں لکھا ہے۔

انڈیا کے مشہور شیف سنجیو کپور نے بھی وارانسی کے بہترین سبزی خور پکوانوں کے انتخاب کے بارے میں لکھا ہے۔ یقینا جس ملک میں 80 فیصد لوگ ہندو ہیں اور 20 فیصد لوگ سبزی خور ہیں وہاں سبزی سے بنا کھانا آسانی سے دستیاب ہے تاہم وارانسی کے ان کھانوں کے بارے میں سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اس کی ساتویک اور سبزی خور خصوصیات آیوروید (علم طب اور حکمت) اور روحانیت سے براہ راست متاثر ہیں۔

ساتویک کھانا آیوروید کے اصولوں اور سناتن دھرم (ہندو دھرم کا اصلی نام) کی طرف سے تجویز کردہ سبزی خور کے سخت معیارات پر مبنی ہے۔ مثلا کھانا پکانے میں پیاز اور لہسن کا استعمال ممنوع ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا استعمال غصہ اور جارحیت جیسی بہت سی چیزوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وارانسی کے مشہور کاشی وشوناتھ مندر کے پجاری ابھیشیک شکلا نے کہا کہ وارانسی میں تقریبا ہر ہندو گھر میں شیو کی نذر ایک پنڈت (عالم) ہے اور گھر میں گوشت کھانا ناقابل تصور ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ نجات کی تلاش میں ہیں، ان کی ترجیحات میں ساتوک ہونا شامل ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ جن کو ہم کھانے کے لیے مارتے ہیں، ہماری روحیں بھی ان کی طرح تکلیف میں ہوں گی۔ گوشت، پیاز اور لہسن کھانے سے انتقامی خصوصیات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس سے توجہ مرکوز کرنا اور صحیح فیصلے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ روایتی طور پر وارانسی کے بہت سے ریستورانوں میں مغربی سیاحوں اور گوشت کھانے والے ہندو یاتریوں کو نان ویجیٹیرین کھانا پیش کیا جاتا ہے جبکہ مقامی ساتوک کھانے بنیادی طور پر گھر میں کھائے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.