انٹرنیشنل

امریکا : بچوں کی اموات کی ہولناک وجوہات سامنے آگئیں

یونیورسٹی آف مشی گن میں بچوں کی موت کا سبب بننے والی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیق کی گئی

امریکا میں یونیورسٹی آف مشی گن میں بچوں کی موت کا سبب بننے والی وجوہات جاننے کے لیے ایک تحقیق کی گئی ہے۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکا میں بچوں کی موت زیادہ تر حادثات، بیماریوں اور منشیات کی وجہ سے نہیں بلکہ بندوق کے تشدد سے ہوتی ہے۔ مشی گن یونیورسٹی کے محققین نے اطلاع دی ہے کہ 2020 میں 4 ہزار 3 سو سے زیادہ بچے، جن کی عمر 1 سے 19 سال کے درمیان ہے، آتشی ہتھیاروں کے زخموں کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

محققین کہ مطابق، 2020 پہلا سال تھا جب امریکا میں بندوق کے تشدد کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد گاڑیوں کے حادثات سے ہونے والی اموات سے زیادہ تھی۔ محققین نے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں بھی یہ نتائج شائع کروائے ہیں جس کے مطابق امریکا میں 2020 میں آتشںی اسلحہ سے ہونے والی اموات کی ٹوٹل تعداد تقریباََ 45 ہزار 2 سو 22 ہے۔

اس کے بعد انہوں نے یہ جاننے کا فیصلہ کیا کہ ان میں سے کتنی اموات نوجوانوں کو متاثر کر رہی ہیں اور پتہ چلا کہ 2020 میں امریکا میں تقریباََ ہر 1 لاکھ میں سے 6 بچوں کی موت آتشی اسلحہ سے ہوئی ۔ آتشی اسلحے کے علاوہ خودکشی کی شرح میں بھی سال 2020 کے دوران ہی اضافہ ہوا۔ مشی گن کے ایک ریسرچ ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسن گولڈ اسٹک نے نوٹ کیا کہ دیگر مطالعات نےامریکا میں بندوق کے تشدد  میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جیسا کہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے کورونا وباء کے آغاز پر آتشی اسلحے کی خریداری میں اضافہ نوٹ کیاتھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.