انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

خواتین اپنے شوہروں سے طلاق لینے میں پہل کیوں کرتی ہیں؟ کیا واقعی انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ المناک معاشرتی حقیقت سامنے آنے پر سب حیران

امریکہ میں شرحِ طلاق 70 فیصد ہے۔ خواتین کالج گریجویٹ ہوں، تو یہ شرح 90 فیصد کی حیران کن سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے

خواتین اپنے شوہروں سے طلاق لینے میں پہل کیوں کرتی ہیں؟ کیا واقعی انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟ المناک معاشرتی حقیقت سامنے آنے پر سب حیران رہ گئے ہیں۔

انٹرنیشنل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپنی شادی ختم کرنے کا فیصلہ اکثر خاصا مشکل ہوتا ہے اور جوڑے اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مہینوں اور کبھی کبھی کئی برس سوچ و بچار کرتے ہیں لیکن جب اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ لینے کا وقت آتا ہے تو اس بارے میں ایک واضح رجحان پایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں طلاق لینے میں خواتین کا ایک بڑا تناسب زیادہ تر پہل کرتا ہے۔ خاص طور پر امریکہ میں، جہاں 50 ریاستوں میں شادی ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں میں اثاثوں کی مساوی تقسیم کا قانون موجود ہے۔ کچھ اندازوں کے مطابق امریکہ میں شرحِ طلاق 70 فیصد ہے۔ خواتین کالج گریجویٹ ہوں، تو یہ شرح 90 فیصد کی حیران کن سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ برطانیہ کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2019 میں انگلینڈ اور ویلز میں 62 فیصد خواتین نے طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ اب کچھ مغربی ممالک میں طلاق لینا آسان ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں حال ہی میں نو فالٹ ڈائیورس (شادی ختم ہونے کے بعد دونوں فریقوں میں اثاثوں کی مساوی تقسیم)کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ جوڑے اب آسانی سے علیحدہ ہو سکتے ہیں۔ قوانین میں یہ تبدیلی اب ان خواتین کے لیے بھی دروازے کھول سکتی ہے، جو اس سے قبل شاید طلاق لینے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مردوں کے مقابلے میں خواتین کی زیادہ تعداد طلاق لینے میں پہل کیوں کر رہی ہیں؟ کچھ خواتین کے مطابق اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ان کے شوہر ان کی جذباتی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے لیکن کچھ خواتین کے لیے طلاق لینے کی وجوہات خاصی پیچیدہ بھی ہو سکتی ہیں۔ زیادہ تر معاشروں میں طلاق نسبتا ایک نیا رجحان ہے۔ سنہ 1914 سے پہلے تک برطانیہ میں طلاق بالکل بھی عام نہیں تھی اور 19 ویں صدی کی پہلی دہائی میں ہر 450 شادیوں میں سے صرف ایک میں طلاق ہوتی تھی۔ اب برطانیہ میں ہر برس ایک لاکھ سے زیادہ جوڑے طلاق لیتے ہیں جبکہ امریکہ میں تقریبا نصف شادیوں کا اختتام طلاق پر ہوتا ہے۔

امریکہ میں ایجوکیشن ڈویلپمنٹ سینٹر سے وابستہ ماہر نفسیات ہیدی کار کہتی ہیں کہ یہ کوئی محض اتفاق نہیں کہ طلاق کی بڑھتی شرح کا خواتین کی آزادی سے گہرا تعلق ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے شادی ختم کرنے سے پہلے معاشی خودمختاری ایک اہم عنصر ہے، چاہے وہ اکیلی ہوں یا ان کے ساتھ بچے بھی ہوں۔ گر ان کے پاس خود پیسے کمانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو خواتین کے لیے شادی ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب خواتین خود کمانا شروع کر دیتی ہیں تو صنف سے وابستہ معاشرتی ذمہ داریاں پیچیدہ ہو جاتی ہیں اور فطری طور پر شادی شدہ زندگی میں مسائل شروع ہونے لگتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں خواتین کا کام کرنا انھیں ناخوش شادیوں سے نکلنے میں مدد کرتا ہے اور وہ معاشی طور پر پرتشدد بندھنوں میں رہنے کی پابند نہیں رہتیں اور پھر خواتین بڑے پیمانے پر طلاق کی جانب بڑھتی ہیں۔ ہیدی کار کہتی ہیں کہ دنیا کی مختلف معاشروں اور علاقوں میں یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے والی خواتین، جو مالی طور پر اپنا خیال خود رکھ سکتی ہیں وہ ان خواتین کے مقابلے میں طلاق کی جانب زیادہ قدم بڑھا سکتی ہیں جو مالی طور پر اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھنے کے قابل نہیں ہوتیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.