انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

بھارت ، روس سے سستے داموں کتنا تیل خرید رہا ہے کیا پاکستان بھی روس سے تیل کی خریداری یقینی بنائے گا؟ حیران کن رپورٹ سامنے آنے پر سب حیران رہ گئے

انڈیا نے یوکرین پر روس کے حملے اور اس پر عائد کی گئی پابندیوں کے بعد روس سے انتہائی رعایتی نرخوں پر 34 ملین بیرل خام تیل در آمد کیا تھا

بھارت ، روس سے سستے داموں کتنا تیل خرید رہا ہے کیا پاکستان بھی روس سے تیل کی خریداری یقینی بنائے گا؟ حیران کن رپورٹ سامنے آنے پر سب حیران رہ گئے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ سیاسی وجوہات کی بنا پر بھی روس سے تیل کی درآمد بحث کا موضوع ہے۔ سابق حکومت کی جانب سے سستے روسی تیل کی خریداری کے دعوے اور اس کے بعد موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے روس سے گندم کی خریداری کے اعلان نے اس بحث میں کئی نئے سوالوں کو جنم دیا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این کی میزبان بیکی اینڈرسن کے روسی تیل کی خریداری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گذشتہ حکومت نے روس کو خط لکھا تھا جس کا جواب نہیں آیا۔ اب تک روس نے تیل فروخت کرنے کی کوئی پیشکش بھی نہیں کی اور اس وقت اس پر پابندیاں عائد ہیں، تو میرے لیے یہ سوچنا مشکل ہے کہ ہم روس سے تیل خرید سکتے ہیں۔ ایک طرف جہاں یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا روس نے سابق حکومت کو تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی یا نہیں، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان روس سے تیل درآمد کر بھی سکتا ہے یا نہیں جبکہ انڈیا ایسا کر رہا ہے؟

کیا یہ پاکستان کے لیے ایک قابل عمل منصوبہ ہو سکتا ہے اور کیا روسی خام تیل کو پاکستان کی ریفائنریز پٹرولیم مصنوعات کی تیاری کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں؟انڈیا نے فروری کے اواخر میں یوکرین پر روس کے حملے اور اس پر عائد کی گئی پابندیوں کے بعد روس سے انتہائی رعایتی نرخوں پر 34 ملین بیرل خام تیل در آمد کیا تھا۔ یہ مقدار 2021 کے پورے سال میں درآمد کیے جانے والے تیل کی مجموعی مقدار سے تین گنا زیادہ ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا نے تحقیقی ادارے رفائنیٹیو آئکون کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے ایک خبر میں بتایا ہے کہ انڈیا نے روس سے مئی میں 24 ملین بیرل خام تیل حاصل کیا۔ اپریل میں یہ مقدار 7.2 ملین بیرل تھی جبکہ مارچ میں یہ محض تین ملین بیرل تھی۔

انڈیا کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق انڈیا جون میں روس سے خام تیل کی درآمد مزید بڑھا کر اس کی مقدار 28 ملین بیرل کرنے جا رہا ہے۔ تیل کی درآمد بڑھنے سے روس سے انڈیا کی درآمد کی مالیت 24 فروری اور 26 مئی کے درمیان 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ برس اس مدت میں یہ مالیت محض دو ارب ڈالر تھی، یعنی اس میں تین گنا سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اور چین کے بعد انڈیا دنیا میں تیل کا تیسرا سب سے بڑا صارف ہے اور ملکی ضروریات کا 80 فیصد تیل دنیا سے مختلف ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔سنہ 2021 میں انڈیا نے اپنی ضروریات کا صرف دو فیصد تیل یعنی تقریبا 12 ملین بیرل خام تیل روس سے درآمد کیا تھا۔ روس، یوکرین تنازع کے باعث روسی خام تیل کی قیمت عالمی مارکیٹ میں کافی گر گئی ہے یہی وجہ ہے کہ روس نے انڈیا کو خام تیل بہت رعایتی داموں پر دیا ہے۔ تحقیقی ادارے کیپلر کے تجزیہ کار میٹ سمتھ کا کہنا ہے کہ عالمی تیل منڈی کے مقابلے روسی یورال خام تیل تقریبا 30 ڈالر فی بیرل سستا دیا جا رہا ہے۔ معمول کے دنوں میں روسی تیل اور دیگر منڈیوں کے تیل کی قیمت برابر ہوتی ہے۔ انڈیا یقینی طور پر روسی تیل اچھی رعایت پر حاصل کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.