انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

آسٹریلوی سینیٹ میں دنیا کی پہلی مسلمان خاتون رکن فاطمہ پیمان کون ہیں؟ کیا چاہتی ہیں؟ اور ارادے کیا ہیں؟ حیران کن سچ سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے

ویسٹرن آسٹریلیا' کے علاقے پرتھ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ فاطمہ پیمان سینیٹ میں پہلی مسلمان اور حجاب پہننے والی خاتون رکن ہیں

آسٹریلوی سینیٹ میں دنیا کی پہلی مسلمان خاتون رکن فاطمہ پیمان کون ہیں؟ کیا چاہتی ہیں؟ اور ارادے کیا ہیں؟ حیران کن سچ سامنے آنے پر سب دنگ رہ گئے۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق فاطمہ پیمان نے آسٹریلوی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑنے سے قبل آسٹریلیا کی سیاسی جماعت لیبر پارٹی کی ویب سائٹ پر اپنا تعارف کرواتے ہوئے لکھا تھا کہ ‘میرا نام فاطمہ پیمان ہے، میں ایک افغانی نژاد آسٹریلوی مسلمان ہوں اور میری ثقافتی جڑیں افغانستان سے ہیں، میں اپنے والدین کے چار بچوں میں سے سب سے بڑی ہوں اور آسٹریلیا کے شہر پرتھ کے شمالی مضافات میں پلی بڑھی ہوں۔’ انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ‘ویسٹرن آسٹریلیا’ کے علاقے پرتھ سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ فاطمہ پیمان سینیٹ میں پہلی مسلمان اور حجاب پہننے والی خاتون رکن ہیں۔ فاطمہ پیمان آٹھ برس کی تھیں جب وہ اپنی والدہ اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ آسٹریلیا آئیں تھیں۔ان کے والد آسٹریلیا میں پناہ گزین کے طور پر کام کرتے تھے۔ فاطمہ پیمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے محنت کرنا اور ثابت قدم رہنا اپنے والد سے سیکھا اور یونین کے ساتھ کام کرتے ہوئے اس کا مشاہدہ بھی کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘2019 میں والد کی کینسر سے موت کے بعد، میں نے اپنے والد جیسے لوگوں اور محنتی آسٹریلوی لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے جو روزی کمانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔’ انھوں نے آسٹریلوی سینیٹ میں نمائندگی اور اپنے کام کے بارے میں لکھا کہ وہ آسٹریلوی معاشرے کو ان بہت سی چیزوں کے بدلے میں عزت دینا چاہتی ہیں جو انھیں اس معاشرے سے ملی ہیں۔ فاطمہ پیمان سینیٹ کی رکن منتخب ہونے سے قبل ایک ہائی سکول کے طلبا کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ ایک خیراتی ادارے کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام بھی کرتی رہی ہیں۔ انھوں نے یوتھ اینڈ پولیس سکلز ڈیولپمنٹ سینٹر کے لیے بھی کام کیا ہے۔

فاطمہ پیمان نے بتایا کہ ان کے والد نے 1999 میں کشتی کے ذریعے بحر ہند کو عبور کیا تھا اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کو بہتر زندگی فراہم کرنے کے لیے پناہ گزین کے طور پر آسٹریلیا پہنچے تھے۔ فاطمہ پیمان آسٹریلیوی سینیٹ کے لیے انتخاب لڑنے سے متعلق کہا کہ ‘ دو سو افراد کے گروپ میں صرف میں ہی تھی جس نے سینیٹ میں مقابلہ کرنے کے لیے حجاب پہنا تھا، اور یہ ایک ‘عظیم کامیابی’ ہے۔’ یہ پوچھے جانے پر کہ وہ آسٹریلوی پارلیمنٹ کی پہلی باپردہ رکن ہونے کے بارے میں کیسا محسوس کرتی ہیں، انھوں نے کہا: ‘میں چاہتی ہوں کہ جو نوجوان لڑکیاں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی ہیں وہ واقعی قابل فخر ہوں اور جانتی ہوں کہ انھیں حجاب پہننے کا پورا حق ہے۔ جب میں حجاب پہنتی ہوں تو یہ بالکل میرے لباس کا ویسے ہی حصہ ہے جیسے لوگ باہر نکلتے وقت چپل یا شارٹس پہنتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.