انٹرنیشنل

امریکی سپریم کورٹ نے خواتین کو حاصل ‘اسقاط حمل’ کا حق ختم کردیا

امریکی سپریم کورٹ نے اسقاط حمل کو قانونی قرار دینے کے لگ بھگ 50 سال پرانےفیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

1973 میں رو بنام ویڈ کیس میں امریکا بھر میں اسقاط حمل کو قانونی قرار دیا گیا تھا مگر اس نئے فیصلے سے امریکی خواتین کو حاصل اسقاط حمل کا حق ختم ہوگیا ہے۔امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریاستوں کو تولیدی صحت کی سہولیات تک رسائی کو ڈرامائی حد تک محدود کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین میں اسقاط حمل کا حق نہیں دیا گیا، رو بنام ویڈ  کیس کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد اسقاط حمل کے حوالے سے اختیار عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کو واپس دیا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ ڈوبس بنام جیکسن ویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن کیس میں سنایا گیا۔

اس کیس میں ریاست مسیسپی کی جانب سے حمل کے 15 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل پر پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.