انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

کیا ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو گھومنے پھرنے کی آزادی ملنی چاہیے؟ آزاد خیال زارا کو سربازار میں کیوں قتل کیا گیا؟ لرزہ خیز کہانی منظر عام پر آگئی

انھیں زارا کی موت سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ پیدل آتی جاتی تھیں، اور زارا سمجھتی تھیں کہ ہر خاتون کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ پیدل گھر لوٹ سکے

کیا ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو گھومنے پھرنے کی آزادی ملنی چاہیے؟ آزاد خیال زارا کو سربازار میں کیوں قتل کیا گیا؟ لرزہ خیز کہانی منظر عام پر آگئی ۔

انٹرنیشنل میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک خاتون جسے چند دن پہلے مشرقی لندن کی ایک سڑک پر ہلاک کر دیا گیا، وہ سمجھتی تھیں کہ ہر خاتون کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی وقت بلاخوف و خطر پیدل اپنے گھر واپس آ سکے۔سنیچر کو رات گئے جب زارا علینہ اپنے گھر سے صرف دس منٹ دور کرین بروک روڈ پر چلی جا رہی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ زارا علینہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انھیں زارا کی موت سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ وہ پیدل آتی جاتی تھیں، اور زارا سمجھتی تھیں کہ ہر خاتون کو یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ پیدل گھر لوٹ سکے۔ ایک 29 سالہ شخص، جورڈن میکسوینی کو زارا کے قتل کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے 35 سالہ زارا سے پیسے چھیننے اور اسے ریپ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ بدھ کو جورڈن میکسوینی کو مقامی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے صرف اپنے نام، تاریخ پیدائش اور پتے کی تصدیق کی اور مزید کچھ نہیں بتایا۔ اس مختصر کارروائی کے بعد ملزم کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اسے اب 27 جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ا علینہ کے خاندان والوں نے ایک بیان میں انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سارے گھر کی رونق تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی صورتِ حال ہو، وہ آگے بڑھ کر سنبھال لیتی تھی۔ وہ بڑی شخصیت کی مالک تھی، وہ کسی سے متاثر نہیں ہوتی تھی، بلکہ ہم سب اس سے متاثر تھے۔ وہ ہمارے خاندان میں چٹان کی حیثیت رکھتی تھی۔ زارا بڑی ہمت والی لڑکی تھی اور تمام لوگوں کو آپس میں جوڑ کے رکھتی تھی، وہ کبھی شکایت نہیں کرتی تھی۔ اس نے ہماری برادری کو جوڑ کے رکھا ہوا تھا۔زارا کے مبینہ قتل کے واقعہ کا علم طبی عملے کو اس وقت ہوا جب اتوار کی صبح 2 بجکر 45 منٹ پر ایک شخص نے ایمبولینس کو بلایا، مذکورہ شخص کو زارا بے ہوش حالت میں سڑک کے کنارے پڑی دکھائی دی تھیں۔ پوسٹ مارٹم کرنے پر معلوم ہوا کہ زارا کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس کے جسم پر کئی زخم تھے۔ اپنے بیان میں خاندان کا مزید کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ ہم سب خواتین اور لڑکیوں پر تشدد کی روک تھام کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.