انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

ایس 400 میزائل سسٹم: امریکہ کی ترکی پر پابندی لیکن بھارت کو خریدنے کی اجازت کیوں؟ دنیا بھر میں سنسنی مچا کر رکھ دینے والا سچ سب کے سامنے آگیا

روس سے خاص طور پر ایس 400 دفاعی میزائل نظام خریدنے کے لیے انڈیا کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے

ایس 400 میزائل سسٹم: امریکہ کی ترکی پر پابندی لیکن بھارت کو خریدنے کی اجازت کیوں؟ دنیا بھر میں سنسنی مچا کر رکھ دینے والا سچ سب کے سامنے آگیا ۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق گذشتہ ہفتے امریکی ایوانِ نمائندگان نے اپنے ایک قانون میں ترمیم منظور کی ہے جو انڈیا کو روس سے دفاعی نظام خریدنے کی خصوصی اجازت دیتی ہے۔ امریکہ کے کانٹرنگ امریکاز ایڈورسریز تھرو سینکشنز ایکٹ یا سی اے اے ٹی ایس اے نامی اس قانون کی سخت دفعات کے تحت روس، ایران اور شمالی کوریا سے دفاعی ساز و سامان خریدنے پر پابندی ہے۔

اگرچہ قانون میں انڈیا کے لیے اس خصوصی رعایت پر عمل درآمد کرنے کے لیے ابھی بھی امریکی صدر کے دستخط کی ضرورت ہو گی لیکن یہ قدم اہم ہے کیونکہ یہ روس سے خاص طور پر ایس 400 دفاعی میزائل نظام خریدنے کے لیے انڈیا کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔ ایس400 روس کا تیار کردہ جدید دفاعی میزائل نظام ہے جو کہ زمین سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انڈیا نے سنہ 2018ء میں روس سے یہ دفاعی سسٹم پانچ ارب امریکی ڈالر میں خریدا تھا اور تب سے قیاس آرائیاں جاری تھیں کہ امریکہ سی اے اے ٹی ایس اے کے تحت انڈیا پر پابندیاں لگا سکتا ہے۔ اسی قانون کے تحت امریکہ نے اپنے نیٹو اتحادی ترکی کے بھی ایس 400 میزائل سسٹم خریدنے پر پابندی لگا دی تھی۔

تجزیہ کار اس رعایت کو انڈیا اور باقی دنیا کے لیے ایک اہم سیاسی اشارہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ انڈیا کی دفاعی ضروریات کے ساتھ ساتھ اسے چین کو قابو میں کرنے کے لیے ایک اہم طاقت بھی سمجھتا ہے۔ دفاعی اور سٹریٹجک امور کے ماہر سوشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ اس رعایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ انڈیا کو اس قدر اہمیت دیتا ہے کہ وہ رعایت دینے کی قیمت پر بھی اس کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار ہے، جو اس نے ترکی کو نہیں دی۔ امریکہ نے ترکی کے علاوہ چین پر بھی روس سے ایس 400 دفاعی سسٹم خریدنے پر پابندی عائد کی ہے لیکن حالیہ برسوں میں امریکہ اور انڈیا کی بڑھتی قربت کے ساتھ ساتھ اس پر پابندیاں عائد کرنا دونوں ممالک کے تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ انڈیا امریکہ کا ایک اہم دفاعی و اقتصادی پارٹنر ہے۔

دفاعی امور کے ماہر راہول بیدی کہتے ہیں کہ امریکہ کے لیے یہ رعایت (انڈیا پر پابندی نہ لگانا)سب سے کم مزاحمت کا راستہ تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ یقینی ہے کہ ایس 400 دفاعی میزائل نظام انڈیا کی دفاعی صلاحیتوں کو کافی بہتر بنانے میں مدد کرے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انڈیا چین کے ساتھ سرحد پر ایک پیچیدہ تنازعے میں گھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ بھی چین کے عروج سے فکر مند ہے جو کہ ان بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے امریکہ نے انڈیا کو یہ رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکہ چین کو قابو کرنا چاہتا ہے اور اس کو یقین ہے کہ انڈیا اس سمت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ سوشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ امریکہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی بھی صورت میں انڈیا کو کھونا نہیں چاہتا۔ جو چیز رعایت کے فیصلے کو زیادہ اہم بناتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اور باقی مغربی ممالک روس کے یوکرین پر حملے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ دوسری طرف چین انڈیا کے ساتھ تنازع میں الجھا ہوا ہے اور اسے فی الحال روس کے حامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بیدی کہتے ہیں کہ میرے خیال میں امریکہ کے لیے روس وسط مدتی دشمن ہے اور چین دیرینہ دشمن ہے اور چین کے ساتھ نمٹنے کے لیے انڈیا جغرافیائی طور پر مناسب جگہ پر ہے۔ اگرچہ اس رعایت پر ابھی تک امریکی صدر کے دستخط ہونے باقی ہیں لیکن سی اے اے ٹی ایس اے کے تحت پابندی انڈیا کے لیے بھی ایک مشکل صورتحال ہوتی اور اس سے امریکہ کے لیے بھی کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.