انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی چینی ہم منصب کو ”ون چائنا” پالیسی حمایت کی یقین دہانی، امریکا سمیت پورے یورپی ممالک میں سنسنی پھیلا دینے والی خبر آگئی

وہ تائیوان کے معاملے میں امریکی اشتعال انگیزی کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یوکرین پر چین کے متوازن مؤقف کو سراہتے ہیں

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی چینی ہم منصب کو ”ون چائنا” پالیسی حمایت کی یقین دہانی، امریکا سمیت پورے یورپی ممالک میں سنسنی پھیلا دینے والی خبر آگئی ۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ازبکستان کے شہر سمر قند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر چینی صدر سے ملاقات کے دوران ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ وہ تائیوان کے معاملے میں امریکی اشتعال انگیزی کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یوکرین پر چین کے متوازن مؤقف کو سراہتے ہیں۔ یہ فروری میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں رہنماں کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات ہے۔ اس موقع پر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ‘ہم یوکرین کے بحران پر اپنے چینی دوستوں کے متوازن مقف کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، ہم اس حوالے سے آپ کے سوالات اور خدشات کو سمجھتے ہیں اور آج کی ملاقات میں اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں گے’۔

خیال رہے کہ یوکرین کے معاملے پر مغربی طاقتوں نے روس پر متعدد پابندیوں کا نفاذ کیا، مگر روس اور چین کے تعلقات ماضی کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوگئے۔ روسی صدر نے اپنے بیان میں اہم معاملات میں بیجنگ کے مقف کی تائید کی۔ ولادیمیر پیوٹن نے چین کے اس اصرار کا حوالہ دیا جس کے تحت بیجنگ کی جانب سے دیگر ممالک پر تائیوان کو شناخت نہ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔

روسی صدر نے کہا کہ ہم ون چائنا کے اصول کی ٹھوس انداز سے حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس امریکا اور آبنائے تائیوان میں اس کے سیٹلائیٹس کی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتا ہے۔ بنیادی طور پر انہوں نے 27 اگست کو آبنائے تائیوان کے بین الاقوامی پانیوں میں امریکی بحریہ کے جہازوں کے گزرنے کا حوالہ دیا تھا۔ امریکا کے تائیوان سے رسمی سفارتی تعلقات نہیں مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ وہ اس جزیرے کا دفاع کرے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.