انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

تیسری عالمی جنگ کا نقارہ’پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو خصوصی الرٹ رہنے کاحکم ‘ طاقتور جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزکو سمندرمیں اتارنے سے دنیا میں تشویش کی لہر

یوکرین کھلے عام نیٹو اور امریکا سے حمایت اور مدد چاہتا ہے اخلاقی مدد اور چوری چھپے تھوڑے بہت ہتھیاروں کی فراہمی پر یوکرینی صدر کااظہار برہمی

تیسری عالمی جنگ کا نقارہ’پیوٹن کا نیوکلیئر فورسز کو خصوصی الرٹ رہنے کاحکم ‘ طاقتور جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزکو سمندرمیں اتارنے سے دنیا میں تشویش کی لہردوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے روس کی نیوکلیئر فورسز کو خصوصی الرٹ پر رہنے کے حکم اور روس کی سب سے طاقتور جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوزکو سمندرمیں اتارنے سے دنیا میں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ پر ممکنہ تیسری عالمی جنگ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے دوسری جانب یوکرین کھلے عام نیٹو اور امریکا سے حمایت اور مدد چاہتا ہے اخلاقی مدد اور چوری چھپے تھوڑے بہت ہتھیاروں کی فراہمی پر یوکرینی صدر برہمی کا اظہار کرچکے ہیں ۔

روسی امور کے مغربی مبصرین کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے روس ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ وہ یوکرین میں کشیدگی میں اضافہ کرنے میں مداخلت نہ کریں نہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ماسکو ایک بڑی جنگ کا معاشی دبا برداشت نہیں کرسکتا۔ اس وقت دنیا میں 12400 جوہری ہتھیار میں سے 9440 نیوکلیئر ہتھیار فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں روس کے پاس 4477 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے پاس مجموعی طورپر ڈکلیئرشدہ 4178 جوہری ہتھیار ہیں جوکہ فوری طور پر میزائلوں یا جوہری آبدوزوں سے فائر کیے جانے والے دو ہزار جوہری ہتھیار تیار ہیں ۔

جوہری ہتھیاروں کی یہ تعداد اتنی ہے کہ ان کے استعمال سے دنیا کی سات ارب آبادی میں سے پانچ ارب سے زیادہ ہلاک ہو سکتی ہے تو ایسی صورتحال کے پیدا ہونے کے خدشے کے باوجود صدر پوٹن کیوں دھمکیاں دے رہے ہیں؟اس پر روسی امور کے تجزیہ کاربرطانوی پروفیسر نجم عباس کا کہنا ہے کہ صدر پوتن یوکرین کی جنگ میں بڑے نقصانات اٹھانے کے بعد اب اپنی خفگی مٹانے اور باقی دنیا کو اپنی شرائط منوانے کے لیے اس دھمکی کا سہارہ لے رہے ہیں نجم عباس لگتا نہیں ہے کہ پوٹن ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کریں گے تاہم اگر روس جوہری ہتھیار استعمال کرتا ہے اور تیسری عالمی جنگ شروع ہو جاتی ہے تو خطرہ صرف کچھ ممالک، کچھ علاقوں، جنگ کے میدانوں تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ صحیح معنوں میں پوری دنیا کے لیے ایک بقا کا مسئلہ ہو گا۔

امریکہ کے محکمہ دفاع، پینٹاگون کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ان کے خیال میں لگتا نہیں ہے کہ صدرپوٹن بڑے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی کریں گے تاہم انہوں نے اس بات کو مسترد نہیں کیا کو پوٹن چھوٹے جوہری ہتھیار جن کوٹیکٹیکل ویپنز کہا جاتا ہے استعمال کر سکتے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ وہ ایٹمی تنازع کا حصہ نہ بنیں اور تیسری عالمی جنگ شروع کر نے کی وجہ نہ بنیں تاہم اگر امریکہ یا نیٹو ممالک پر براہ راست حملہ ہوا تو بڑی جنگ شروع نہ ہونے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ایڈیٹراردوپوائنٹمیاں محمد ندیم کا خیال ہے کہ ان اقدامات سے روس ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کو خبردار کرنا چاہتا ہے کہ وہ یوکرین میں کشیدگی میں اضافہ کرنے میں مداخلت نہ کریں نہ کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.