انٹرنیشنلفیچرڈ پوسٹ

گلی سڑی لاشوں کو بھنبھوڑتے ہوئے لگڑ بگھے، ہوائی حملوں میں تباہ ہونے والے قصبے ‘شہر، عمر رسیدہ مردوں اور جوان عورتوں کی فوج میں جبری بھرتیوں کا سنسنی خیز انکشاف

خوفناک مناظر جو ایتھوپیا کے تاریخی علاقے ٹیگرے سے سامنے آ رہے ہیں جہاں اب تک لاکھوں نہیں تو دسیوں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں

گلی سڑی لاشوں کو بھنبھوڑتے ہوئے لگڑ بگھے، ہوائی حملوں میں تباہ ہونے والے قصبے ‘شہر، عمر رسیدہ مردوں اور جوان عورتوں کی فوج میں جبری بھرتیوں کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔

انٹرنیشنل رپورٹ کے مطابق دیہاتیوں کی گلی سڑی لاشوں کو بھنبھوڑتے ہوئے لکڑ بگے، ہوائی حملوں میں تباہ ہونے والے قصبے اور شہر، اور عمر رسیدہ مردوں اور جوان عورتوں کی فوج میں جبری بھرتیاںوالے خوفناک مناظر جو ایھتوپیا کے تاریخی علاقے ٹیگرے سے ابھر کے سامنے آ رہے ہیں جہاں اب تک لاکھوں نہیں تو دسیوں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ ٹیگرے کا علاقہ ایک زمانے میں ایتھوپیا کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز ہوا کرتا تھا اور دنیا بھر سے لوگ تراشے ہوئے پتھر کے کلیساں، اسلامی مزاروں اور زمانہ قدیم کی گیز زبان میں لکھی ہوئی مذہبی تحریروں کی تلاش میں یہاں کچھے چلے آتے تھے لیکن اب یہ علاقہ ایک طویل خانہ جنگی کا نقشہ پیش کر رہا ہے جہاں ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجیں ٹیِگرے پیپلز لبریشن فرنٹ نامی تنظیم کی فوج سے لڑ رہی ہیں۔ ہر فریق یہی سمجھتا ہے کہ جو بھی ٹیگرے پر اپنا تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے، ایتھوپیا (جو تاریخی طور پر حبشہ کا حصہ ہوا کرتا تھا) پر اسی کی حکمرانی قائم ہو جاتی ہے۔ گزشتہ 17 برس سے ٹیگرے پر شدید پابندیاں عائد ہیں اور نہ تو یہاں بینک، ٹیلیفون یا انٹرنیٹ کی سہولت پائی جاتی ہے اور یہ خطہ ذرائع ابلاغ کی پہنچ سے بھی باہر ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اس خانہ جنگی میں مسلسل اتار چڑھا آتے رہے ہیں، جس میں کبھی ایک فریق حاوی ہو جاتا ہے تو کبھی دوسرا۔ نومبر سنہ 2020 میں ٹی پی ایل ایف کی جانب سے مبینہ بغاوت کے بعد ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجوں نے ٹیگرے کے دارالخلافے،مکیلے پر قبضہ کر لیا تھا۔

اس کے جواب میں ٹی پی ایل ایف نے اپنے حامیوں کی مدد سے مکیلے کے قریبی علاقوں امہارا اور افار میں لڑائی کا آغاز کر دیا اور ایک سال میں باغی فوجی ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا کے قریب پہنچ گئے اور پھر حال میں ہی ایتھوپیا اور اریٹیریا کی افواج نے ٹیگرے کے کچھ حصوں پر اپنا دوبارہ کنٹرول قائم کرنا شروع کر دیا ہے جس میں شائر کا اہم شہر بھی شامل ہے۔اس بات کا امکان بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ ایک بار پھر مکیلے پر بھی قبضہ کر لیں گے۔ ورلڈ پیس فانڈیشن کیڈائریکٹر ایلکس ڈی وال کہتے ہیں کہ ‘ اریٹیریا اور ایتھوپیا کے کم از کم پانچ لاکھ فوجی اس جنگ میں پوری طرح فعال ہیں، جبکہ مخالف جانب سے دو لاکھ افراد اس میں حصہ لے رہے ہیں۔’ پروفیسر ایلکس کے بقول پچاس دن کی مسلسل لڑائی کے بعد، اس ہفتے شائر کے علاقے پر مبینہ ٹیگرے کے فوجیوں کی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے کیونکہ انھیں گولہ بارود نہیں مل رہا ہے اگرچہ ایتھوپیا کی حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ شائر کے لوگوں کو امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرتی رہے گی لیکن پروفیسر ایلکس کو خدشہ ہے کہ ‘ٹیگرے کے فوجیوں کو اس سے بہت دھچکہ پہنچا ہے کیونکہ اس علاقے کے لوگوں کو قتل عام، خواتین کے ریپ اور بھوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔’

ٹیگرے کے پورے علاقے میں پائے جانے والے انسانی بحران کا اندازہ شائر کی صورت حال سے لگایا جا سکتا ہے جس کے بارے میں ایک امدادی کارکن کا کہنا تھا کہ تقریبا چھ لاکھ افراد اس شہر میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں جو ان علاقوں سے بے گھر ہو کر یہاں پہنچے ہیں جہاں ایک عرصے سے جنگ جاری ہے۔ اپنی شناحت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگ کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں جو درختوں اور جھاڑیوں میں سونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔’ ایتھوپیا کی افواج کی جانب سے خوفناک بمباری کے بعد شائر میں موجود تقریبا تمام امدادی کارکن شہر سے نکل آئے ہیں۔

امدادی تنظیموں کے علاوہ ہزاروں شہری بھی قتل و غارت کے خوف سے شائر سے نکل کر قریبی علاقوں میں پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ ایتھوپیا اور اریٹیریا کے کی فوجوں نے جن علاقوں پر پہلے قبضہ کیا وہاں بھی عام شہریوں کو اسی قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ امدادی کارکن کے مطابق ‘چار چشم دید گواہوں نے بتایا ہے کہ ستمبر میں شمبیلنا نامی گاں میں (فوجیوں نے)46 افراد کو پکڑ کر گولی مار دی تھی۔ مقامی لوگوں کو ان افراد کی لاشیں ان مرے ہوئے جانوروں کے درمیان پڑی ملی تھیں جنھیں فوجیوں نے گولی مار دی تھی۔ جب مقامی لوگ وہاں پہنچے تو ‘لکڑ بگے چند انسانی لاشوں کو نوچ نوچ کر کھا چکے تھے اور مرنے والوں کی شناخت صرف ان کے کپڑوں کی باقیات کو دیکھ کر کی گئی تھی۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس لاشوں کو دفن کرنے کا وقت بھی نہیں تھا اور اب تک لکڑ بگے بچی کھچی لاشوں کو بھی کھا چکے ہوں گے۔’

امدادی کارکن کا کہنا تھا کہ جو بات اس قتل و غارت کو خاص بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کا شکار ہونے والے لوگوں میں سے اکثر کا تعلق ایک چھوٹے قبیلے، کنامنا سے ہے اور یہ قبیلہ لڑائی میں شامل بھی نہیں تھا۔ ‘دونوں جانب سے فوجی مارے جا رہے ہیں لیکن جب یہ فوجی کسی گاں میں جاتے ہیں تو اپنا غصہ مقامی لوگوں پر نکالتے ہیں۔’ ایتھوپیا اور اریٹیریا کی فوجوں کی طرح ٹیگرے کے فوجیوں کو بھی اسی قسم کے الزامات کا سامنا ہے کہ وہ بھی ماورائے قانون قتل اور لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انھوں نے امہارا اور افار پر چڑھائی کی تھی۔ اس علاقے کی آبادی تقریبا 70 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جو کہ ایتھوپیا کی کل آباد (دس کروڑ)کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.