کھوج بلاگ

ڈیڑھ کروڑ یہودی، ڈیڑھ ارب مسلمانوں پر بھاری

مسلم ممالک کے تیل کی دولت کو دیکھ کر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ ’’جہاں مسلمان ہے وہاں تیل ہے‘‘

دنیا میں تقریباً 57 مسلم اکثریتی ممالک موجود ہیں، جو ایک زنجیر کی طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان سے لے کر ایشیا و یورپ کی سرحد پر واقع ترکی تک اور مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سے شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ممالک تک اسلامی ممالک کی سرحدیں باہم ملی ہوئی ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کی کل تعداد ڈیڑھ ارب سے بھی زائد ہے، جن کی اکثریت جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں آباد ہے۔ یوں مسلم ممالک ایک بہت بڑی طاقت بن کر ابھر سکتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ ان میں باہم اتحاد و اتفاق ہو اور وہ اسلام کے سنہرے اصولوں کے مطابق نظام حکومت تشکیل دیں۔

اکثر مسلم ممالک تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ دنیا میں عالمی سطح پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تعداد 20 ہے، جن میں سے 12 اسلامی ممالک ہیں۔ مسلم ممالک کے تیل کی دولت کو دیکھ کر یہ مقولہ مشہور ہوگیا کہ ’’جہاں مسلمان ہے وہاں تیل ہے‘‘۔ مسلمانوں کے مقابلے میں یہودیوں کی تعداد نہایت قلیل ہے۔ دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد 1 کروڑ 65 لاکھ ہے، جن میں سے 60 لاکھ سے زائد یہودی اسرائیل میں رہتے ہیں، جبکہ باقی یہودی پوری دنیا کے مختلف ممالک میں بستے ہیں۔ یہ تعداد مسلمانوں کی تعداد کا تقریباً ایک فیصد ہے، یعنی مسلمان تعداد میں یہودیوں سے ننانوے فیصد زیادہ ہیں۔ اسرائیل دنیا کی واحد یہودی ریاست ہے وہ بھی فلسطینیوں سے غصب کی گئی ہے۔

اسرائیل کی چھوٹی سی ناجائز ریاست مسلم ممالک میں گھری ہوئی ہے اور غیر مسلم ریاستیں اس سے بہت فاصلے پر واقع ہیں۔ اگر مسلمانوں میں غیرت ایمانی موجود ہو اور اپنے دین کے مطابق ان میں اتحاد و اتفاق ہو تو اسرائیل کو وہ ایک لقمے میں ہی نگل جائیں۔ لیکن یہاں اس کے برعکس ہورہا ہے کہ چھوٹا سا اسرائیل جو کہ مسلم ممالک میں گھرا ہوا ہے، بجائے مسلم ممالک سے ڈرنے کے خود انہیں ڈرا رہا ہے۔ مسلم ممالک اسے کیا لقمہ بنائیں، وہی مسلم ممالک کے لقمے بنارہا ہے اور تھوڑا تھوڑا کرکے انہیں نگلتا جارہا ہے۔ فلسطین کو تو مکمل طور پر نگل چکا ہے، اب وہ رفتہ رفتہ آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کا ہدف تو مکہ اور مدینہ ہے، جہاں تک وہ کبھی نہیں پہنچ پائیں گے (انشاء اللہ)، لیکن اس ہدف کو پورا کرنے کی کوشش میں تو مگن ہیں، جس میں نہ جانے کتنی مسلم ریاستوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا اور مسلمانوں کو اور کتنے صدمے سہنے پڑیں گے؟ فلسطین کی حالت دیکھ کر دل دکھتا ہے اور ساتھ یہ خدشہ بھی رہتا ہے کہ مسلم ممالک اگر اسی طرح آنکھیں بند کرکے اپنی اپنی دنیا میں مگن رہے تو یہ ناسور ایک دن تمام ممالک میں داخل ہوکر انہیں بھی فلسطین کی طرح تباہ کردے گا اور کسی کو محسوس بھی نہیں ہونے دے گا۔

اسرائیل میں اتنی جرآت کیسے پیدا ہوئی اور یہودی تعداد میں نہایت قلیل ہوتے ہوئے بھی اتنے طاقتور کیسے بنے؟ کہتے ہیں کہ اسرائیل اتنی حقیر ریاست ہے کہ اگر ڈھائی ارب مسلمان اس پر تھوک بھی دیں تو وہ ان کے تھوک میں ہی بہہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اسرائیل یہودی ریاست ہے تو ظاہر ہے کہ ان میں تو ایمان نام کی بھی کوئی چیز نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ انہیں تعداد کی کمی کے باوجود ایمان کی طاقت نے اتنا طاقتور بنارکھا ہے۔ ان کی طاقت کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی قو م کے ساتھ مخلص ہیں۔ وہ پوری دنیا کو دھوکا دیتے ہیں، دغابازی کرتے ہیں، لیکن اپنی قوم کی راحت کا ہر طرح سے خیال رکھتے ہیں۔ وہ اپنے نظریات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کےلیے ہمہ وقت کمربستہ رہتے ہیں اور اس کےلیے محنت و کوشش بھی کرتے ہیں۔

دوسری وجہ جو انہیں قوت فراہم کرتی ہے وہ عالمی طاقتوں کی پشت پناہی ہے۔ امریکا اور برطانیہ اسرائیل کی پشت پناہی میں اول نمبر پر ہیں۔ انہوں نے ہی اپنے مفادات کےلیے مسلم دنیا کے عین وسط میں اسرائیل جیسی ناجائز ریاست قائم کی، جس کا مقصد مسلم دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنا تھا۔ اگر آج یہ ریاستیں اسرائیل کی پشت سے ہاتھ اٹھالیں تو اسرائیل کچھ بھی نہیں رہے گا۔ لیکن اسے مدد دینا ان بڑے ممالک کی مجبوری ہے۔ ان کی اسی مجبوری نے یہودیوں میں تکبر بھردیا ہے۔ اب وہ ان کے مطالبات بھی کم ہی مانتے ہیں۔ زیادہ تر اپنے مفادات کےلیے کام کرتے ہیں اور ان ممالک سے اپنے مطالبات منواتے ہیں۔ جیسے حالیہ دنوں ٹرمپ کی طرف سے ’’ڈیل آف دی سینچری‘‘ کے نام سے فلسطین کو مکمل طور پر اسرائیلیوں کے حوالے کرنے کی ظالمانہ کوشش کی گئی۔ یہ بھی یہودیوں کی ہی سازش کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کی بے وقوفی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے حق میں اس قسم کا اعلان کرالیا۔ ان عالمی قوتوں کی پشت پناہی کی وجہ سے ہی یہودی نہایت قلیل تعداد میں ہونے کے باوجود اس قدر طاقتور معلوم ہوتے ہیں۔

یہودیوں کے برعکس مسلمان تو گویا خود ہی اپنی تباہی پر کمربستہ ہیں۔ مسلمان اپنی بربادی کےلیے محنت کررہے ہیں۔ حکمران طبقے اور اہل علم کے درمیان بہت بڑا خلا پایا جاتا ہے۔ علما و دانشوروں کی بات مان لینا تو مسلم حکمرانوں نے گویا اپنے اوپر حرام کررکھا ہے۔ ہر ایک اپنے مفادات کی تکمیل اور اپنی دولت کے انبار میں اضافے کا طالب ہے۔ خواہ اس کےلیے اسلام دشمنوں سے کتنے بڑے سودے ہی کیوں نہ کرنے پڑیں۔ انہیں اپنی قوم اور اپنے مذہب سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ اپنی دولت اپنے ہی خون کے پیاسوں کے پاس بطور امانت رکھوائی ہوئی ہے۔ جس سے وہ منافع حاصل کرکے انہی کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ تمام مسلم ممالک اتحاد و اتفاق سے ناآشنا ہوچکے ہیں۔ اپنی افرادی قوت اور بہترین جغرافیائی قرابتوں سے فائدہ اٹھا کر ایک مضبوط قوم بننے کے بجائے سات سمندر پار بیٹھے اپنے ہی دشمنوں سے دوستیوں کی فکرمیں لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں ہوتے ہوئے بھی ہم دنیا میں رسوا ہورہے ہیں اور ہمارے دشمن ہم پر بڑھ بڑھ کر وار کررہے ہیں۔ اگر اب بھی ہم کم از کم گزشتہ ایک صدی پر محیط اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرکے سنبھلتے نہیں ہیں تو آنے والا وقت مسلمانوں کےلیے بہت زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوگا۔

بشکریہ ضیاالرحمٰن ضیا روزنامہ ایسپریس

(Visited 1 times, 1 visits today)
Tags
Back to top button
Close