کھوج بلاگ

رنگین سائے…. امجد جاوید…. قسط نمبر7

” مجھے بھی لگتا ہے ۔“ اسد شریف نے سنجیدگی سے کہا
” لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ماورا ہے تو اتنا تجسس کیوں پھیلا رہی ہے ؟“میں نے جلے ہوئے انداز میں پوچھا
”ممکن ہے اس کی کوئی مجبوری ہو ، وہ ابھی سامنے نہ آ نا چاہتی ہو ، یا جو بھی وجہ ہو ، یہ وہی بتا سکتی ہے ؟“ اسد شریف بولا
”اور اگر وہ ماورا نہ ہوئی تو ؟“عمران جعفری نے پرخیال لہجے میں اپنی رائے دی تو چند لمحے سبھی خاموشی میں ڈوب گئے ۔ کسی کے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں تھا ۔
” میرے خیال میں کسی نے ہم شوبز رپورٹر کے ساتھ سنگین مذاق کیا ہے ۔یہ بات اس وقت زیادہ پختہ ہو جائے گی جب یہاں ایک آ دھ مزید شوبز رپورٹر آ جائے گا ۔“اسد شریف نے انتہائی سنجیدگی سے کہا
” بالکل ، اگر ماورا کو خبر بننا ہے ، یا کوئی مسئلہ درپیش ہے ، یا جو بھی کچھ ہے تو میرا خیال ہے ایک آ دھ کو اعتماد میں لے کر سب کچھ کر سکتی تھی ۔ یوں سب کو یہاں جمع کرنے کا مقصد سوائے مذاق کے اور کچھ نہیں ۔“
” صاحب جی کھانا کھائیں گے آ پ ؟“وہ ڈھابے والا ہمارے پاس آ کر بولا
” ہاں یار بھوک تو لگی ہے ۔“ میں نے کہا
”ٹھیک ہے آ پ آ رام کرو ، میں آپ کے لئے سپیشل کھانابناتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ مڑ گیا ۔
ہم یہی باتیں کر رہے تھے کہ ڈھابے کے باہر ایک کار آ ن رُکی ۔لاشعوری طور پر ہم نے انہیں دیکھا اور اس وقت حیرت زدہ انداز میں ہنس دئیے ، جب پہلے فرمان شاہ اور کے بعد صابر فاروقی کار سے باہر نکلے ۔ وہ ہمیں دیکھ کر فطری طور پر حیران ہوئے اور ایک دم سے ہنس پڑے ۔ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی کچھ ہوا تھا ، جیسے ہمارے ساتھ ہو اتھا ۔
سورج غروب ہو چکا تھا ۔ہم سب نے باری باری اسی نمبر پر پیغام بھیجے کہ ہم یہاں پر پہنچ چکے ہیں ۔ اب بتاﺅ کہاں آ نا ہے ۔ فون کرتے تو وہ کوئی رسیو ہی نہیں کر رہا تھا ۔ یہاں تک کہ فون ہی بند ہو گیا ۔فون کے بند ہو جانے کا واضح مطلب تھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا ہمارے ساتھ رابطے میں نہیں رہنا چاہتا تھا ۔ہمارا یہاں پر آ نا ایک فضول کوشش تھی ۔

ڈھابے کا کھانا کافی مزیدار تھا ۔ اسے کھانا بنانا آ تا تھا ۔ جب ہم کھاچکے تو سبھی کی یہی رائے تھی کہ کسی نے ہمارے ساتھ بڑا ہی سنگین مذاق کیا ہے ۔ اب اس سے بچنے کا حل یہی ہے کہ فوراً ایک پک نک قسم کی کہانی گھڑی جائے اور واپس چل دینا چاہئے ۔سبھی اس پر متفق ہو گئے ۔کچھ دیر مزید ٹھہر کر انہوں نے طے یہ کیا کہ رات قریبی شہر کے کسی ریسٹ ہاﺅس میں گزاری جائے اور صبح واپس جایا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی اسد شریف نے اپنے رابطے آزمانا شروع کر دئیے تاکہ ریسٹ ہاﺅس مل جائے اور وہاں سکون سے رات گزاری جا سکے ۔وہ سب طے کر رہے تھے لیکن میرا دل نہیں مان رہا تھا کہ میں یہاں سے جاﺅں ۔ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی ان دیکھی قوت مجھے وہاں رکنے پر مجبور کر رہی ہے ۔
” ہاں تو پھر چلیں؟“ اسد شریف نے پوچھا
” چلو ۔“ سبھی نے یک زبان ہو کر کہا
وہ سب اٹھ گئے تو میں بیٹھا رہا ۔تبھی فرمان شاہ نے پوچھا
” تم نے نہیں جانا ؟“
” نہیں ، میں دو چار گھنٹے یہیں گزاروں گا، پھر رات ہی واپس لاہور چلا جاﺅں گا ۔“میں نے کہا
”صبح سب اکھٹے ….“اس نے کہنا چاہا تو میں بولا
”میری فکر مت کریں ۔“ یہ کہتے ہوئے میں کھری چارپائی پر لیٹ گیا ۔
” شاید اسے اب بھی امید ہو گی ۔ چلو کوئی بات نہیں ، اگر رابطہ ہو جائے تو ہمیں بتا دینا ،ہم واپس آ جائیں گے ۔“ اسد شریف نے ہنستے ہوئے کہا تو اچانک فرمان شاہ سب کی طرف دیکھتے ہوئے عجیب سے لہجے بولا
” ویسے میں ایک بات کہوں؟“
” ہاں بولو ….“ اسد شریف نے سنجیدگی سے کہا
” یار چند گھنٹوں کی ہی تو رات ہے ۔ یہاں سے ریسٹ ہاﺅس جائیں گے ، وہاں جا کر سوئیں گے پھر صبح ناشتے کا چکر …. یہیں بیٹھتے ہیں ، صبح ہوتے ہی نکل جائیں گے ۔“ اس نے کہا
” تجھے بھی یاد ، اس کی طرح کوئی امید ہو گی ۔لیکن یہاں ہم کریں گے کیا ؟“ الطاف غنی نے پوچھا
”گپ شپ …. دیکھو ، ہم کبھی یوں مل کر نہیں بیٹھے ۔ بھاگم بھاگ زندگی، خبریں ، اخبار ، چینل …. کبھی یادیں شیئر نہیںکیں ۔ کیوں نا آج رات ہم مل کر باتیں کریں ۔ “فرمان شاہ نے کہا
” بات تمہاری ٹھیک ہے ، ہم یوں کرتے ہیں ، اپنی زندگی سے ایک ایک کہانی سناتے ہیں ۔رات گزر جائے گی ؟“ عمران جعفری نے ہنستے ہوئے کہا تو اسد شریف قہقہ لگاتے ہوئے بولا
” بالکل ، جس طرح قصہ چہار درویش میں ، وہ سارے درویش کہانیاں سناتے ہیں ، یہاں ہم سات صحافی ہیں ، تو بنے گا قصہ ہفت صحافی…. چل یار بیٹھتے ہیں، مزہ آئے گا ۔“

” تو چلو پہلے تم اپنی کہانی سناﺅ ۔“ یہ کہہ کر اس نے ڈھابے والے کی طرف دیکھ کر اونچی آ واز میں کہا،” یار چائے بنا لاﺅ ۔“
ہم سب چار پائیوں پر سکون سے بیٹھ گئی ، ہم سب کی نگاہیں اسد شریف کی طرف لگی ہوئیں تھیں ۔ وہ کسی گہری سوچ میں تھا ، کچھ دیر بعد اس نے سر اٹھ اکر سب کو دیکھا ، پھر مسکراتے ہوئے بولا
” اچھا تو پھر سنو کہانی ….“
٭….٭….٭
باقی آئندہ

Tags
Back to top button
Close