کھوج بلاگ

سلیکٹڈ سے نہیں ہوگا!

مکمل لاک ڈاؤن ہے، مقامی سے افراد سے رابطوں سے پھیلنے والے مریضوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے

اسپین پر مسلمانوں کی گرفت کمزور ہوچکی تھی، ملک چھوٹی ریاستوں میں بٹ چکا تھا، غرناطہ واحد ریاست بچی تھی جس پر مسلمانوں کا اقتدار تھا۔ غرناطہ کو ڈوبتے دیکھ کر آخری مسلمان حکمران ابوعبد اللہ اپنی ماں سے مخاطب تھا اور روتا جارہا تھا، اپنی بے بسی پر ماتم کناں تھا۔ ماں تو ماں ہوتی ہے، اپنے بیٹے کو بلبلاتے ہوئے دیکھ کر بولی ’’جب وقت تھا تم نے اپنی سلطنت بچانے کی کوشش نہیں کی، اب بچوں کی طرح رونے کا کیا فائدہ؟ اب تو تمہاری سلطنت کا سورج ڈوب چکا ہے۔‘‘ دنیا کی طرح ملک بھر میں ہلچل جاری ہے۔ ملک میں وائرس کی وجہ سے اموات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، روز بروز ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، پہلے کی نسبت یہ تعداد زیادہ ہے۔ اچانک اضافہ ہوا، سب سے زیادہ پنجاب میں کورونا کے مریض ہیں، دوسرا نمبر سندھ کا ہے۔

تفتان سے آنے والوں کے بعد رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں شریک لوگوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ اس مرکز میں کیسوں کی تعداد زیادہ ہونے پر پورے رائیونڈ شہر کو بند کردیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور کہتے ہیں کہ تبلیغی مرکز میں ہم نے 1200 افراد کو لاک ڈاؤن میں رکھا ہوا ہے۔ تما م افراد کے ٹیسٹ ہوئے، اجتماع میں 500 غیرملکی افراد بھی شریک تھے۔ گجرات میں چار مریضوں میں سے ایک مریض سے ملنے والے 40 افراد کا ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں سے 27 افراد میں مثبت پایا گیا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیلتا ہے۔ ننکانہ صاحب میں 2 افراد میں کورونا پایا گیا جو سعودی عرب سے آئے۔ حیدرآباد، بھارہ کہو، بونیر کی بستی منگا، اور لیہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی تبلیغی اجتماع سے جانے والوں میں وائرس پایا گیا۔ اب پنجاب کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جو جو رائیونڈ اجتماع میں شریک رہا، ان سب کی فہرستیں بنائی جائیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت اننچاس فیصد مریض زائرین ہیں، 10 فیصد وہ ہیں جن کی کوئی ٹریول ہسٹری ہے، 30 فیصد ان کے میل جول رکھنے والے ہیں، 10 فیصد وہ لوگ ہیں جو تبلیغی اجتماع سے لوٹے۔ اس اجتما ع میں اندرون ملک سے ڈھائی لاکھ اور بیرون ممالک سے سیکڑوں افراد شریک ہوئے جنہیں لاہور کی مختلف جگہوں پر ٹھہرایا گیا۔ تبلیغی مرکز میں موجود 800 افراد کو لاہور کے کالا شاہ کاکو سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کی نور مسجد میں 94 تبلیغی ارکان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ کراچی میں مرنے والے 2 افراد اس اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔

اسی طرح تفتان سے آنے والے زائرین جہاں جہاں گئے، وہاں سے کورونا کے مریض ملے۔ تفتان سے آنے والوں کو بلوچستان میں ہی روکا جاسکتا تھا لیکن انہیں ہماری دور اندیش حکومت نے پورے ملک میں پھیلا دیا۔ انہیں یہاں سے لاکر سکھر، ڈی جی خان، ملتان، ڈی آئی خان، فیصل آباد، لاہور، سرگودھا تک آباد کردیا۔ کچھ ایسے زائرین بھی تھے جنہیں چپکے سے گھروں میں بھیج دیا گیا۔ ان کے گھر جانے کا نتیجہ یہ سامنے آرہا ہے کہ ہر پاکستانی مشکوک لگنے لگا ہے۔ ان کو باہر نکالنے والے مہربانوں میں وزیراعظم صاحب کے قریبی دوست کا نام آرہا ہے۔ یہ وہ بارودی سرنگیں ہیں جو ہم نے اپنے ہاتھوں سے ملک کے طول و عرض میں بچھائی ہیں۔ اگر ان سب کو وہیں لاک کردیا جاتا تو پورا ملک لاک ڈاؤن نہ کرنا پڑتا۔

پنجاب میں صورت حال یہ ہے کہ 1200 سے 1300 ٹیسٹ روزانہ ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ لیبز 500 سے 600 ٹیسٹ روزانہ کررہی ہیں۔ میو اسپتال، پی کے ایل آئی کو بھی 400 بیڈ تک جایا جارہا ہے۔ راولپنڈی کے یورولوجی اسپتال میں 200 بیڈز بڑھائے جارہے ہیں۔ ہمارے پاس ٹوٹل 1250 وینٹی لیٹرز ہیں۔ ان میں پرائیویٹ اسپتالوں کے 400 وینٹی لیٹرز بھی شامل ہیں۔ کورونا وائرس سے متاثرہ دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے۔ کراچی میں مکمل لاک ڈاؤن ہے، مقامی سے افراد سے رابطوں سے پھیلنے والے مریضوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے پہلے خطاب میں فرمایا تھا کہ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا، سندھ میں لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ وزیراعظم نے دوسرے خطاب میں فرمایا تھا کہ لاک ڈاؤن نہیں کروں گا، اگلے چند ہی گھنٹوں میں پنجاب حکومت نے لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا؛ اور پھر اگلی ہی شام ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں مکمل لاک ڈاؤن کی تفصیلات بھی بتا دیں۔

وزیر اعظم کے ایک ہفتے میں تین خطاب اور سیکڑوں ٹویٹس، لیکن منزل کا پتا نہیں۔ تیسرے خطاب میں پھر لاک ڈاؤن نہ کرنے کی ضد پر قائم رہے۔ ابھی تک اسی گردان پر ہیں کہ لاک ڈاؤن نہیں ہوگا، لیکن پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہے۔ سویلین علاقوں کی نسبت فوجی علاقوں میں لاک ڈاؤن بہت سخت ہے، ایسا لاک ڈاؤن کہ کینٹ سے باہر کا کوئی بندہ داخل نہیں ہوسکتا۔ اگر داخل ہو بھی جائے تو اس کا وہاں سے نکلنا مشکل ہے۔ ملک کو اس مرض سے نمٹنے کےلیے ایسے ہی لاک ڈاؤن کی ضرورت تھی جو بدقسمتی سے وزیراعظم کی کنفیوژن کے باعث نہ ہوسکا۔

وزیراعظم صاحب نے اپنے تیسرے خطاب میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے دو گُر بتائے ہیں: ایک ایمان اور دوسرا ٹائیگر فورس۔ ٹائیگر فورس تو خالصتاً سیاسی فیصلہ ہے جسے کوئی بھی قبول کرنے کے موڈ میں نہیں۔ وزیراعظم صاحب کو کسی نے مشورہ دیا ہے کہ اس فورس سے کورونا کے بعد ہونے والے بلدیاتی الیکشن میں بہت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے، اسی لئے ہر یونین کونسل تک ان کو لانچ کیا جائے گا۔ پیسہ سرکار کا ہوگا اور مشہوری اپنی کمپنی کی کی جائے گی۔

بات ایمان کی ہے تو یہ پتا کون چلائے کہ کس کا ایمان کتنا پختہ ہے اور کورونا سے نمٹنے کےلیے کتنا کارآمد ہے۔ بات ایمان تک آن پہنچی ہے تو بیت اللہ بند نہیں ہونا چاہیے تھا۔ جو سب کو اپنی جانوں سے عزیز ہیں، ان کی مسجد نبویﷺ خالی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بات ایمان کی ہوتی تو ایران، عراق میں اسلام کےلیے سر کٹانے والوں کے مزارات پر تالے نہ لگتے۔ بات ایمان کی ہوتی تو دیگر مذاہب کے عبادت خانوں میں عبادت جاری رہتی۔ بات نااہلی کی ہے، بات نالائقی کی ہے، لوگ ایسے ہی نہیں کہہ رہے کہ سلیکٹڈ سے نہیں ہوگا۔

کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا جدید دور میں عوام کی نبض ہے، اور اسی نبض نے دیکھا کہ کورونا وائرس پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں قومی کمیٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت تو وہی شخص کررہا تھا لیکن مخاطب کوئی اور۔ نظریں کسی اور پر تھیں، بریفنگ کرسی صدارت پر موجود شخص کو نہیں بلکہ… شاید اسی لیے رولز آف بزنس کے خلاف پریس ریلیز بھی کہیں اور سے جاری ہوئی۔ کل تک جو وزراء لاک ڈاؤن کے خلاف تھے، وہ پریس کانفرنس میں اس کے فضائل بیان کررہے تھے، اور اسی لئے اس لاک ڈاؤن کو مزید دس دن بڑھاتے ہوئے وہ کہہ رہے تھے کہ لاک ڈاؤن سے حالات قابو میں ہیں، صورتحال بہتر ہے۔

بشکریہ،اظہرتھراج،روزنامہ ایکسپریس

Tags
Back to top button
Close