کھوج بلاگ

اب تو ان کی نقاب کشائی کر ہی دیجیے

مال و دولت سے محبت، عہدہ و منصب سے عشق۔ یہ وہ محبت ہے جو نہایت خطرناک ثابت ہوتی ہے

عشق و محبت انسان کواندھا کردیتے ہیں۔ انسان کوجب کسی سےمحبت ہوجائےتواسے دنیا میں اس کےسوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔ وہ ہر وقت اسے حاصل کرنے، اسے بچانے اوراسے اپنے پاس رکھنے کی تگ ودو میں رہتا ہے۔ اسے ہردم وہی نظر آتا ہے اوراسےحاصل کرنے کےلیے وہ دنیا جہاں سے بے نیازہوکراسی کی جستجو کرتا رہتا ہے۔ کوئی جیے یا مرے اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے معشوق کا ایک دیدارکرنے کےلیے ترستا رہتا ہے۔ اگروہ اسے مل جائے تواس سے جدا ہونا اسے نہایت گراں محسوس ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ آپ نے لیلیٰ مجنوں، ہیررانجھا وغیرہ کی کہانیوں میں پڑھا ہی ہوگا اوریہاں بھی عشق و محبت کا لفظ سن کر آپ کا ذہن یقیناً اسی طرف گیا ہوگا۔ لیکن یہ محبت صنف مخالف سے تھی اور ایسی محبت اتنی خطرناک نہیں ہوتی جتنی کہ وہ محبت ہوتی ہے جس کا میں یہاں تذکرہ کرنےلگا ہوں۔

ہرایک کی محبت کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے اورہرشخص فقط صنف مخالف سے محبت نہیں کرتا بلکہ دنیا میں اوربھی بہت کچھ ہے چاہنے اور محبت کرنے کےلیے۔ آج جس محبت کا تذکرہ میں کررہا ہوں، وہ ہے مال و دولت سے محبت، عہدہ و منصب سے عشق۔ یہ وہ محبت ہے جو نہایت خطرناک ثابت ہوتی ہے اور جب یہ کسی معاشرے میں عام ہوجائے تو یہ معاشرے کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کسی شخص کو عہدہ یا منصب حاصل ہوجائے تو وہ اس کے عشق میں مبتلا ہوجاتا ہے اور پھر اسے اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ وہ اس کے ذریعے ہر غلط کام کرتا ہے۔ اپنے منصب کو بچانے اور اپنی دولت میں اضافے کےلیے وہ معاشرے کی تباہی و بربادی کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔

اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ہمیں یہی حالت نظر آتی ہے کہ جس شخص کو کوئی عہدہ یا منصب مل جائے وہ اسے طول دینے اور بچانے کےلیے ہر ناجائز کام بھی کرتا ہے اور کسی کے نقصان کی پرواہ نہیں کرتا۔ جس سے معاشرہ تباہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مال و دولت اور عہدہ و منصب کی محبت کو زیادہ خطرناک اور معاشرے کےلیے تباہ کن قرار دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں عہدہ و منصب کے عشق میں مبتلا دو طرح کے طبقات ہیں۔ ایک طبقہ سیاستدانوں کا ہے اور دوسرا بیوروکریسی کا۔ ان دونوں طبقات سے وابستہ اکثر افراد طاقت و منصب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہیں اور اپنے مال و دولت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ان دونوں طبقات کا بھی اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو کرپٹ سیاستدان سے کرپٹ بیوروکریٹ زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ سیاستدان تو مختصر سی مدت کےلیے عہدہ حاصل کرتے ہیں، جو زیادہ سے زیادہ پانچ سال ہوتی ہے۔ وہ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد رخصت ہوجاتے ہیں، لیکن بیوروکریٹ تو پینتیس، چالیس سال کےلیے منتخب ہوتے ہیں اور اس دوران ان کی ترقی ہوتی رہتی ہے۔ ایک بیوروکریٹ کی سروس کے دوران کئی سیاستدان، وزیر، مشیر و اراکین اسمبلی آتے اور جاتے ہیں، لیکن یہ ایک معینہ مدت تک اپنے عہدے پر براجمان رہتے ہیں۔ اس لیے وہ سیاستدانوں سے زیادہ اختیارات رکھتے ہیں۔

اس کے علاوہ سیاستدان براہ راست عوامی ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہیں، لہٰذا وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں اور انہیں آئندہ انتخابات میں بھی عوامی ردعمل کا خوف رہتا ہے کہ اگر عوام کو کارکردگی نہ دکھائی اور اپنے وعدے پورے نہ کیے تو آئندہ عوام کے ووٹوں سے محرومی ان کے عہدے سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔ اس کے برعکس بیوروکریٹس کے انتخاب میں عوامی رائے یا ووٹوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اور وہ اپنی محنت، قابلیت یا کہیں رشوت و سفارش کی بنا پر منتخب ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ عوام کے سامنے جواب دہ بھی نہیں ہوتے اور ان کی ایک ہی طویل مدت ہوتی ہے۔ ایک بار تقرری ہوگئی تو دوبارہ انہیں ساٹھ سال کی عمر تک عہدے سے محرومی کا خوف نہیں ہوتا اور ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اکثر دوبارہ تعیناتی کی امید نہیں ہوتی، لہٰذا وہ بلا خوف و خطر اپنے عہدے و منصب کا غلط استعمال کرکے معاشرے کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ سیاستدانوں کو میڈیا وغیرہ کا سامنا بھی رہتا ہے لیکن اکثر بیوروکریٹس میڈیا کی نظروں سے بھی اوجھل رہتے ہیں۔ لہٰذا انہیں کھل کر کھیلنے کا بھرپور موقع ملتا ہے اور وہ اس سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

ہماری ملکی تاریخ میں بیوروکریٹس کا حکومتیں بنانے، چلانے، چلنے دینے اور گرانے میں بڑا اہم کردار رہا ہے۔ کئی بار سیاستدان بیوروکریٹس کے سامنے بے بس نظر آئے۔ کیونکہ بیوروکریٹس اکثر سیاستدانوں سے زیادہ مہارت و تجربہ رکھتے ہیں۔ لہٰذا وزرا ان کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے اصل حکومت بیوروکریسی کی ہوتی ہے۔ جب یہ اتنی طاقت رکھتے ہیں تو کوئی ان پر ہاتھ ڈالنے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت بھی نہیں کرتا۔

چند روز قبل گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے بیوروکریٹس کے خلاف ایک سخت بیان دیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی صاف پانی کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈالتی ہے۔ بیوروکریسی میں کالی بھیڑیں موجود ہیں، ان سے فائنل میٹنگ کروں گا۔ اگر وہ راہ راست پر نہ آئے تو اگلے ہفتے پریس کانفرنس میں ان کالی بھیڑوں کو بے نقاب کروں گا۔ یہ تو اس شخص نے کہا ہے جسے اگر بے اختیار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس تقریب میں بھی انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک آرڈیننس لائیں گے۔ یعنی ان کی مشاورت کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

یہاں کچھ سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں کالی بھیڑوں کو بے نقاب کروں گا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ان کالی بھیڑوں سے واقف ہیں۔ اگر وہ اتنی واقفیت رکھتے ہیں تو پھر ابھی تک انہیں ڈھیل کیوں دے رکھی ہے؟ انہیں بے نقاب کیوں نہیں کیا؟ ان کی کارکردگی کو جاننے کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟ کیا وہ انتظار کر رہے ہیں کہ یہ اچھی طرح محکموں کو تباہ کر دیں پھر ان کے خلاف کارروائی کریں گے؟ جب انہوں نے ان کالی بھیڑوں کی طرف اشارہ کر ہی دیا ہے تو اب ضروری ہے کہ وہ انہیں بے نقاب بھی کریں اور عوام کو بتائیں کہ بیوروکریسی میں کیسے کیسے کرپٹ اور بے ضمیر لوگ موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کرکے ان سے عوام کی جان چھڑائیں۔ انہیں ایسی سزا دلائیں کہ وہ دوسروں کےلیے نشان عبرت بن جائیں۔ عوام نے ان کالی بھیڑوں کے بہت ستم سہے ہیں، لہٰذا اب ان کی نقاب کشائی بہت ضروری ہے۔

بشکریہ:ضیاالرحمٰن ضیا،روزنامہ ایکسپریس

Tags
Back to top button
Close