کھوج بلاگ

گوادرکی بڑی ضرورت:سولرپینل یا یونیورسٹی؟

حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے باوجود گوادر یونیورسٹی کے ادھورے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی

آج سے 18 سال قبل جب اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے گوادر پورٹ کے افتتاح کے بعد افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ گوادر میں انجینئرنگ اور میرین یونیورسٹی بنائی جائے گی جس سے گوادر کے لوگ تکنیکی اور سمندری علوم حاصل کرکے گوادر کی ترقی میں براہ راست شراکت دار ہوں گے۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا، پرویز مشرف کو جمہوری قوتوں نے ہٹایا، یا ڈیل کے تحت وہ خود اپنے عہدے منصبی سے سبکدوش ہوگئے۔ اس کے بعد پیپلز پارٹی کے دور کا آغاز ہوا تو زرداری حکومت نے آغاز حقوق بلوچستان نامی پیکیج کے تحت بلوچستان کی محکومیوں اور محرومیوں کا ازالہ کرنے کا عندیہ دیا اور بلوچستان پیکیج کے نام پر پانچ ہزار لوگوں کو محکمہ تعلیم میں عارضی بنیادوں پر ایڈجسٹ کیا گیا۔ انہیں بعد میں ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دور وزارت اعلی میں مستقل کرکے محمکہ تعلیم میں اساتذہ کی کمی کسی حد تک پوری کی۔

پیپلز پارٹی حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے باوجود گوادر یونیورسٹی کے ادھورے خواب کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس دوران گوادر کے سیاسی اور سماجی ادارے بھی گوادر یونیورسٹی سے اپنے آپ کو بے خبر رکھتے رہے کہ مشرف دور حکومت میں گوادر کےلیے جس یونیورسٹی کا وعدہ کیا گیا تھا، اس وعدے کو عملی جامہ پہناکر گوادر کے ترقی میں مقامی نوجوانوں کو بھی شراکت داری کا موقع ملے۔ وقت کی سوئی معمول کے مطابق چلتت رہی، کبھی سنگھار ہاؤسنگ اسکیم تو کبھی نیوٹاؤن کے پلاٹوں کے حصول کےلیے سیاست سے لے کر سماج کے ٹھیکے داروں، بیوروکریٹس سے لے کر پٹواریوں، اور ماہی گیروں سے لے کر میڈیا کے لوگوں تک نے اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا اپنا فرض منصبی سمجھا، اور جس کے جو ہاتھ آیا وہ لے کر رفوچکر ہوگیا۔

نواز شریف دور حکومت میں بلوچستان میں حکومت سازی کےلیے معاہدہ بلوچستان کے بجائے جنت نما وادی مری میں طے پایا، جس کے مطابق ڈھائی سالہ میں وزارت اعلی نیشنل پارٹی اور ڈھائی سالہ وفاق میں اقتدار پرست مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئی جبکہ اسی اتحاد میں شامل پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کو بلوچستان کی گورنرشپ اور چند اہم صوبائی وزارتوں سے نوازا گیا۔

1970 میں صوبائی حیثیت ملنے کے بعد بلوچستان کے تاریخ میں پہلی مرتبہ وزارت اعلی کا تاج کسی نواب اور سردار کے بجائے مکران کے ایک مڈل کلاس سیاسی ورکر ڈاکٹر مالک کے سر پر رکھا گیا۔ ڈاکٹر مالک کے دور حکومت کو اس کے ناقدین بھی تعلیمی انقلاب کے دور کہتے ہیں جبکہ ڈاکٹر مالک نے اپنے حلقہ انتخاب میں یونیورسٹی آف تربت، مکران میڈیکل کالج اور لا کالج کا قیام میں عمل میں لاکر تعلیم کے میدان میں جو بیج بویا، آج وہ تناور درخت بننے کے قریب ہے۔ ڈاکٹر مالک نے بھی گوادر یونیورسٹی کے خواب کو شرمندہ تعیبر کرنے کےلیے یونیورسٹی آف تربت کا ایک سب کیمپس گوادر میں قائم کیا اور گوادر یونیورسٹی کے حوالے سے بھی پیش رفت ہوئی۔

نواز شریف دور حکومت میں گوادر یونیورسٹی کےلیے پانچ سو ایکڑ اراضی بھی حاصل کرنے کے بات ہوئی۔ نواز حکومت کے اختتام تک اس حوالے سے مزید پیش رفت نہیں ہوئی اور صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے یونیورسٹی آف گوادر کو منظوری مل سکی۔

2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی نئی پارٹی بلوچستان عوامی پارٹی نے اقتدار حاصل کرنے چند ماہ بعد نواز دور حکومت کے اس ادھورے منصوبے کو آگے بڑھاتے ہوئے گوادر یونیورسٹی کے ادھورے خواب کو پورا کرنے کےلیے 8 ستمبر 2018 کو یونیورسٹی کے قیام کےلیے اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وزیر اعلی بلوچستان سمیت دیگر حکام نے اس حوالے سے غور و خوص کیا۔ اس اجلاس کے بعد دو ماہ کی قلیل مدت میں بلوچستان اسمبلی نے 20 نومبر 2018 کو یونیورسٹی آف گوادر کا ایکٹ بلوچستان اسمبلی سے منظور کرلیا۔ اس ایکٹ کے تحت یونیورسٹی آف تربت کا سب کیمپس بھی یونیورسٹی آف گوادر میں ضم ہوگا۔

گوادر یونیورسٹی کے قیام کے کے منصوبے کا جائزہ لینے کےلیے منعقدہ اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا تھا کہ سی پیک کے تناظر میں گوادر یونیورسٹی کا قیام ایک اہم منصوبہ ہے، گوادر میں بین الاقوامی معیار کی یونیورسٹی کے قیام سے گوادر، مکران اور پورے صوبے میں شعبہ تعلیم میں بہتری آئے گی۔ اسی اجلاس میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف تربت پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر نے بریفنگ میں کہا تھا کہ گوادر یونیورسٹی کا منصوبہ سی پیک کے منصوبوں میں شامل ہے اور فیڈرل پی ایس ڈی پی کا حصہ ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 5 ارب روپے سے زائد ہے۔ یونیورسٹی کا ایکٹ اور چارٹر تیار ہے اور منصوبے کی فیزیبلیٹی رپورٹ بھی تیار کرلی گئی ہے۔ ایکٹ کی منظوری اور اراضی کے حصول کے بعد منصوبے کا پی سی ون تیار کیا جائے گا اور اس پر تعمیراتی کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ لیکن صوبائی اسمبلی میں اس ایکٹ کو منظور ہوئے ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزرچکا ہے اور اب تک گوادر یونیورسٹی کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے۔

دوسری جانب ایک سال پہلے چینی حکومت نے گوادر کےلیے 4200 سولرز پینل عطیہ کیےتھے۔ حالیہ لاک ڈاؤن میں گوادر پورٹ انتظامیہ نے ان سولر پینلوں کو سیاسی پارٹیوں، ماہی گیر تنظمیوں اور گوادر پریس کلب کے حوالے کرکے اپنی ذمہ داری کو یہیں پر ختم کردیا جس کے بعد گوادر میں وہ طوفان برپا ہوا کہ جو اب تک تمھنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ سوشل میڈیا میں شروع ہونے والا یہ طوفان اب گوادر کی سڑکوں پر پہنچ چکا ہے۔ جن کے ہاتھ سولر پینل نہیں آئے، وہ اس طوفان کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس خیرات میں سب سے زیادہ حصہ ماہی گیر تنظمیوں کو ملا۔

مگر کئی سال سے جو خواب ماہی گیروں کے بچے دیکھ رہے تھے، اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے سیاسی جماعتوں سے لے کر ماہی گیروں تک، سب خاموش ہیں۔ کیونکہ عالمی معیار کی گوادر یونیورسٹی نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن بلکہ بلوچستان کی صوبائی اسمبلی سے بھی یونیورسٹی آف گوادر کا ایکٹ منظور ہوچکا ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے ایکٹ کے مطابق یونیورسٹی کا نام ’’یونیورسٹی آف گوادر‘‘ ہوگا جس میں میرین سائنسز، انجینئرنگ، پورٹ مینجمٹ، بزنس اور سوشل سائنسز سمیت کئی دوسرے شعبہ جات شامل ہیں جہاں تکنیکی اور سمندری علوم کی تعلیم کےساتھ ساتھ قانون اور طب کی تعلیم بھی میسر ہوگی جبکہ سوشل سائنسز اور معاشیات کے شعبہ جات بھی یونیورسٹی آف گوادر کا حصہ ہوں گے۔

حالیہ سولر پینل اسکینڈل کے بعد اب بھی گوادر کی سیاسی اور ماہی گیر تنظیمیں پورٹ حکام سے ملاقات میں گوادر کےلیے مزید سولر پینلوں کا مطالبہ کررہی ہیں جبکہ سرد خانے میں پڑی یونیورسٹی آف گوادر کے حوالے سے خاموشی سے یہ عیاں ہورہا ہے کہ ہمارے سیاسی لوگ قوم کے نوجوانوں کے مستقبل کے بجائے صرف چند سولر پینلوں اور معمولی مراعات کو اپنے سیاسی منشور کا حصہ سمجھتے ہیں جو کسی المیے سے کم نہیں۔

بشکریہ:ظریف بلوچ،روزنامہ ایکسپریس

Tags
Back to top button
Close