کھوج بلاگ

ارطغرل بھائی۔۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ

وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر نشر کیے جانے والے شہرہ آفاق ترک ڈرامے” ارطغرل غازی” کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چل پڑی ہے کہ اگرغیر ملکی ڈرامے پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے جائیں گے تو ہمارے فنکاروں کا کیا ہوگا؟ جس کے بعد فنکار بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔

زیادہ تر فنکاروں نے ڈرامے کی تعریف کی ہے جبکہ بعض مخالفت بھی  کررہے ہیں البتہ اس ڈرامے کے بعد جہاں ترکی اور پاکستان مزید قریب  آئے ہیں وہیں ترکش اور پاکستانی فنکار بھی ایک دوسرے کی تعریفوں میں مصروف ہیں اور سوشل میڈیا پر آئے روز ایسا کوئی نہ کوئی پیغام دیکھنے کو ملتا ہے۔

ڈرامے میں  قائی قبیلے کے سردار سلیمان شاہ کا کردار ادا کرنے والے ’سردار گوکخان‘ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پاکستانی مداحوں کا شکریہ ادا کردیا۔ انسٹاگرام پر سردار گوکخان نے پاکستانیوں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کی تصویر شیئر کی۔

اس سے پہلے  ارطغرل کی اہلیہ’حلیمہ سلطان‘ کا کردار ادا کرنے والی اسراء بلجیک نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی اسراء نے لکھا کہ وہ پُرجوش ہیں کہ پاکستان کا دورہ کریں اور یہاں موجود اپنے مداحوں سے ملاقات کریں۔

ان کے علاوہ بھی سیریل میں کام کرنے والے دیگر فنکار بھی پاکستان آنے کی خواہش کرچکے ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی فنکار بھی اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔

اداکار یاسر حسین نے ’ارطغرل غازی‘ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ترکش اداکاروں اور ڈراموں نے پی ٹی وی پر نشر کیے جانے والے پاکستانی ڈراموں کا وقت لے لیا ہے، جس سے ہمارے مقامی فنکاروں کی آمدنی میں کمی ہوگئی ہے۔

اداکارہ منشا پاشا نے ترک ڈرامے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ڈرامے غیر ملکی ڈراموں کی طرح شاندار اس لیے نہیں ہوتے کیونکہ ہمارے پروڈیوسرز کو حکومت سپورٹ نہیں کرتی جبکہ دیگر ممالک میں حکومت انہیں سپورٹ کرتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بہترین ڈرامے بنانے کے لیے حکومت کی مدد ضروری ہے۔

ااداکارعثمان خالد بٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو ترکش ڈرامے نشر کیے جارہے ہیں اس سے مقامی ڈبنگ فنکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگااور اُمید ہے کہ اس ڈرامے کی نشریات سے حاصل ہونے والی رقم ارطغرل جیسے پاکستانی ڈرامے بنانے کے لیے استعمال کی جائے۔

اس کے علاوہ احمد علی بٹ نے بھی ارطغرل غازی سے متعلق اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ترکش ڈرامے ’ارطغرل غازی‘ کو بہت شوق سے دیکھ رہے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ پاکستان میں بھی ایسے ڈرامے بنائے جائیں۔

اداکارہ نیلم منیر نے پاکستان میں ترکش سیریز ’دیریلش ارطغرل‘ کو اردو میں ڈب کرکے سرکاری چینل پر نشر کرنے کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے خواہش کا اظہار کیا کہ ہماری انڈسٹری میں بھی ایسے ڈرامے بننے چاہئیں جن سے ہمیں فخر محسوس ہو۔

پاکستانی شائقین کا کہنا ہے کہ اس کاوش پر ہمیں  وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ساتھ ترکی کا بھی شکر گزار ہونا چاہیئے۔

Tags
Back to top button
Close