کھوج بلاگ

بھارت اسرائیل کے نقش قدم پر

اسرائیلی وزیراعظم ایک نسل پرست اورقوم پرست فرد ہیں اوروہ صہیونیت کی ترویج کےلیےکام کررہے ہیں

یہ منظر ہے بھارتی وزیراعظم کے دورہ اسرائیل کا، جنہیں تل ابیب میں بھرپور پروٹوکول دیا گیا۔ دورے کے اختتام پر دونوں وزرائے اعظم نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ جس میں اسرائیلی وزیراعظم کے الفاظ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں چند جملے کہے۔ یہ جملے درحقیقت کشمیر کو ایک اور فلسطین بنانے کی ابتدا تھے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور اسرائیل اپنی دنیا تبدیل کر رہے ہیں اور شاید دونوں ممالک دنیا کے حصے تبدیل کررہے ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی ایک مثال ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد شاید کاتب تقدیر نے روز اول سے لکھ دی ہے، جو ہم دنیا میں مکمل کر رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کو اس وقت پاکستان کے امور خارجہ کے عہدیداران نے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ لیکن گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی حکومت کے اقدامات نے اس بیان کو حقیقت کا رنگ دے دیا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسرائیل اور بھارت کس طرح ایک دوسرے کے ساتھی ہیں؟ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر دوسرا فلسطین کیسے بن رہا ہے؟

اس بلاگ میں 5 اگست کے بعد سے بھارتی حکومت کے اقدامات اور ان چار امور پر بات کرنے کی کوشش کروں گا، جن امور کی بنیاد پر کشمیر اور فلسطین میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ کشمیر اور فلسطین دونوں مقبوضہ علاقے ہیں۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں 9 لاکھ کے قریب بھارتی فوجی تعینات ہیں اور یہ دنیا کہ سب سے بڑا خطہ ہے جہاں پر فوج گردی کی جارہی ہے۔ بھارت نے کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے کھلے پنجرے میں تبدیل کردیا ہے، جہاں انسان قید ہیں۔ اس وقت ہر چھ کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات کیا گیا ہے۔ آرٹیکل 370 اور 35 اے میں ترامیم کے بعد سے کشمیریوں کے وہ حقوق بھی سلب کرلیے گئے ہیں، جو انہیں علیحدہ شناخت دیتے تھے۔ پنجرہ ہی سہی لیکن اپنی زمین پر ان کا حق ملکیت تھا۔ ان سے رائے شماری کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ دوسری جانب اگر اسرائیل کا جائزہ لیا جائے تو یہ ملک نو آبادیاتی طریقہ کار کے تحت قبضے کی زمین پر قائم کیا گیا ہے۔ اور بھارت بھی رفتہ رفتہ اسی ڈگر پر چل نکلا ہے۔ اس نو آبادیاتی نظام کے تحت بھارتی کشمیریوں کی نسل کشی کررہا ہے۔

یکم جنوری سے تادم تحریر بھارتی فوج کی جانب سے 640 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا ہے، جن میں سے اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ہے۔ جس طرح اسرائیل مختلف منصوبوں کے تحت روزانہ فلسطین کی زمینوں پر قبضہ کررہا ہے، ایسے ہی بھارت غیر ریاستی باشندوں کے ذریعے وادی پر اپنا قبضہ مضبوط کر رہا ہے۔ بھارت نے کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب بدلنے کےلیے 25 ہزار ہندوؤں کو جعلی ڈومیسائل جاری کردیے ہیں۔ حیران کن طور پر بھارت اور اسرائیل دونوں اپنے جمہوری ہونے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ لیکن مقبوضہ کشمیراور فلسطین میں ان کی جمہوریت پسندی ختم ہوجاتی ہے۔ شہریوں کی تلاشی، پکڑدھکڑ دونوں علاقوں میں عام ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بھی گھر قابض افواج تباہ کرسکتی ہیں۔ شہریوں کے اظہار رائے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ یہی نہیں بلکہ کشمیر اور فلسطین میں آئے روز کرفیو نافذ کردیا جاتا ہے۔ فلسطین میں کسی بھی شہری کو کبھی بھی دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے نام پر یہ کام جاری ہے۔

مسئلہ کشمیراورفلسطین میں تیسری مماثلت جسمانی اورجنسی تشدد کے واقعات ہیں۔ دونوں علاقوں کے باسی ہروقت اسی خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ کب انہیں اس کرب سےگزرنا پڑے۔ مقبوضہ کشمیر میں 90 کی دہائی سے اجتماعی آبرو ریزی کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ 5 اگست کے بعد جنوبی کشمیرمیں ان واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین نہ صرف قبضے اور نو آبادیاتی نظام کی بنیاد ہی نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے مسائل ہیں۔ اسرائیل نے فلسطینی علاقے پر قبضہ کیا اور اس میں مسلسل توسیع کررہا ہے جبکہ بھارت بھی اس کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم ایک نسل پرست اور قوم پرست فرد ہیں اور وہ صہیونیت کی ترویج کےلیے کام کررہے ہیں۔ اب اگر کشمیر ایشو کا جائزہ لیا جائے تو بھارت وادی میں ہندو قوم پرستی کا نام استعمال کررہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جب 2014 میں اقتدار سنبھالا، وہ اس دن سے لے کر آج تک مسلسل ہندوتوا نظریات کےلیے کام کررہے ہیں۔ ان کے دور میں جہاں بھارت میں مسلمانوں پر زندگی تنگ ہوگئی ہے، وہیں کشمیری مسلمانوں پر بھی مظالم میں اضافہ ہورہا ہے۔ بھارت میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھ رہی ہیں۔

بھارت اسرائیل کے ساتھ مسلم مخالف بیانیے کو فروغ دینے کےلیے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نریندر مودی نے حالیہ انتخابات میں کامیابی بھی انہی نعروں کو لے کر حاصل کی۔ اسرائیل اپنے اسلحے کا 46 فیصد حصہ بھارت کو فروخت کرتا ہے۔ یوں انڈیا اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ اس وقت جہاں فلسطین کا مسئلہ پورے مشرق وسطیٰ کےلیے آتش فشاں بنا ہوا ہے، وہیں مسئلہ کشمیر کی تپش جنوبی ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اقوام متحدہ نے جس طرح فلسطین کے مسئلے پر اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ایسے ہی کشمیر کے معاملے پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

بھارت کشمیر کی جغرافیائی، معاشرتی اور ثقافتی حیثیت بدل رہا ہے۔ یہاں مسلم اکثریت کا وجود بھی خطرے میں پڑا ہوا ہے۔ لیکن ایسے موقع پر حکومت پاکستان محض سمینارز اور ٹوئٹس سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ وزیراعظم عمران خان کی تقاریر نے کشمیری نوجوانوں کو حوصلہ دیا مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث نوجوانوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان کشمیر کو دوسرا فلسطین بننے سے روکنے کےلیے اقدامات کرے۔ آزاد کشمیر حکومت اندرونی سیاسی چپقلش سے باہر نکل کر اقوام عالم کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرے۔ کیونکہ اس وقت کشمیریوں کی شناخت خطرے میں پڑگئی ہے۔ وہ آزادی کےلیے جدوجہد کے بجائے اپنی شناخت بچانے کےلیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے نہ گئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

بشکریہ:سید امجد حسین بخاری،روزنامہ ایکسپریس

Tags
Back to top button
Close