کھوج بلاگ

ڈپریشن پر قابو پائیے

ریسرچ سےمعلوم ہوتا ہےکہ بہت سی جنک اورفاسٹ فوڈزخود ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں

ڈپریشن آج کی دنیا میں خاصی جانی پہچانی بیماری ہے۔ یہ ایک سنجیدہ نوعیت کی میڈیکل حالت ہے، جس سے متاثرہ انسان بہت زیادہ اداس اور ناامید رہتا ہے اور خود کو غیر اہم سمجھتا ہے۔ اس لیے اکثر ایک نارمل زندگی گزارنے میں ناکام رہتا ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ ربِ کائنات نے کوئی ایسی بیماری نہیں پیدا کی جس کا علاج ہمیں قرآن و سنت سے نہ ملتا ہو۔ لہٰذا ہمیں ان دونوں ذرائع سے مدد لینی چاہیے۔ پرہیز علاج سے بہتر کے مصداق، یہاں چند اہم طریقوں کا ذکر ہے جن پرعمل کرنے سے نہ صرف اس مرض سے بچا جاسکتا ہے بلکہ اس پرقابوبھی پایا جاسکتا ہے۔

صبراورنمازسےمدد لیجئے

سب سے پہلے کسی بھی بیماری سے بچنے یا لڑنے کےلیے اہم چیز صبرکرنا ہے۔ صبرایک بہت ہی اعلیٰ کوالٹی ہے جوخوش نصیبوں کو ہی ملتی ہے۔ اورصبرکی موجودگی میں انسان ہرقسم کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی زندگی کے مقاصد کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے کسی بھی عظیم شخص کی زندگی کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان سب میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت زیادہ پائی جاتی ہے۔ مثلاً انبیائے کرام ہرقسم کے حالات میں صبرکرتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں مشکلات میں صبر اور نماز سے مدد لینے کی تلقین کرنے کے ساتھ یہ بھی بتاتے ہیں کہ اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے ( 2: 153)۔

شکرگزاری

شکر ادا کرنا بظاہر ایک معمولی عمل لگتا ہے لیکن یہ انسان کےلیے دنیا بھر کے مسائل سے بچنے، خوش رہنے اور مشکلات پر قابو پانے کا اکسیر نسخہ ہے۔ جب کبھی کسی کا دل اداس ہو تو وہ اللہ کی دی ہوئی بے شمار نعمتوں کو گننا شروع کردے، اس کی اداسی منٹوں میں بھاگ جائے گی۔ لیکن انسان اکثر اپنے رب کی ناشکری کرتا ہے اور تکلیف میں گھِر جاتا ہے۔ انسان کی ناشکری کا ذکر اللہ نے کئی مقامات پر ’’قَلِیلَ مَّا تَشکَرُون‘‘ کے الفاظ میں کیا ہے۔ اسی طرح بندوں کا شکر گزار نہ ہونا بھی ایک اخلاقی خرابی ہے۔ جو بھی آپ کے ساتھ بھلائی یا احسان کا معاملہ کرے اس کا ضرور شکر ادا کیجئے اور دل میں بھی اس کے شکر گزار ہوں۔ اس طرح تعلقات میں بہتری آئے گی اور ڈپریشن کو بھگائے گی۔

دعا مانگیے

حدیث میں ہے کہ ’’الدُّعَاءُ سِلاحُ الْمُوْمِنِ‘‘ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ لہٰذا اچھے یا برے ہر قسم کے حالات میں دعائیں مانگنے کی عادت ڈالیے۔ کیونکہ اللہ انسان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کو قبول کرتا ہے (المومن: 60)۔ قرآنی اور مسنون دعاؤں کو نماز اور سجود میں خوب خوب مانگیے۔ کیونکہ سجدے میں انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے (العلق:19)۔ ساتھ ہی استغفار کی کثرت کیجئے۔

صحتمند غذا کھائیے

ریسرچ سےمعلوم ہوتا ہےکہ بہت سی جنک اورفاسٹ فوڈزخود ڈپریشن کا باعث بنتی ہیں۔ اس لیےاپنی غذا پرتوجہ دینا ضروری ہے۔ اومیگا تھری سےبھرپورغذاؤں مثلاً مچھلی اوراخروٹ وغیرہ کا استعمال انسان کوریلیکس اورخوش رکھنےمیں اہم کردارادا کرتا ہے۔ موسمی سبزیوں، پھلوں اورپانی کا استعمال آپ کی مجموعی صحت کوبہتررکھنےکےلیے ضروری ہے۔ لہٰذا انہیں اپنی خوراک کا حصہ بنائیے۔

روٹین سیٹ کیجئے

جب بھی آپ پر اداسی کا غلبہ ہوتا محسوس ہو تو مستقل مزاجی سے اپنے روزانہ کے کاموں کو ضرور کرنے کی کوشش کیجئے۔ اس سے آپ کے موڈ میں بہتری آئے گی، اسٹریس کم ہوگا۔ مصروفیت بذاتِ خود ڈپریشن کے خلاف ایک زبردست ہتھیار ہے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ’مصروف رہیے، ڈپریشن بھگائیے‘۔

صحتمند مشغلے اپنائیے

اپنی زندگی میں ضرور ایسے مشاغل شامل کیجئے جن سے آپ لطف اندوز ہوسکیں۔ مثلاً باغبانی، مطالعہ کتب، سوئمنگ یا مختلف کھیل اپنائیے۔ خود کو کمپیوٹر گیمز اور سوشل میڈیا سے دور رکھیے۔ ریسرچ سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس قسم کی مصروفیات انسانی جسم اور ذہن دونوں کےلیے نقصان دہ ہیں۔

اپنا خیال رکھیے

دوسروں سے کسی قسم کی امیدیں باندھنے کے بجائے، خود اپنا خیال رکھیے۔ اس میں اپنے جسم، کپڑوں اور جگہ کی طہارت کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔ سورج کی روشنی کو ایک اعلیٰ قسم کی اینٹی ڈپریسنٹ تصور کیا جاتا ہے۔ کھلی فضا میں چہل قدمی کرنا بھی موڈ کو بہتر کرتا ہے۔ اسے اپنی روٹین کا حصہ بنائیے۔

ورزش کیجئے

آج کے مشینی دور میں ورزش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ورزش ایک بہترین اینٹی ڈپریسنٹ ہے۔ ورزش یا چہل قدمی سے انسان کے جسم میں ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جنہیں ’’اینڈورفین یا خوشی کے ہارمونز‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ انسان کو خوش رکھتے ہیں اور جہاں خوشی ہو وہاں غم یا مایوسی کا کیا کام۔

اپنے آپ سے مثبت باتیں کیجئے

ہر وقت یا ہر غلطی پر خود کو الزام نہ دیجئے۔ دوسروں کی طرح خود کو بھی معاف کرنا سیکھیے۔ جیسے ہی منفی سوچیں آپ کو گھیرنے لگیں انہیں کسی مثبت سوچ یا کام سے تبدیل کردیجئے۔ شروع میں آپ کو شعوری کوشش کرنا ہوگی پھر عادت پڑجائے گی اور لاشعوری طور پر اپنی منفی عادات اور سوچوں سے چھٹکارا ممکن ہوگا۔ اگر خود ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو کسی پروفیشنل کی ہیلپ لی جاسکتی ہے۔ جہاں ماہر نفسیات آپ سے بات چیت کے ذریعے آپ کی مدد کرسکتا ہے۔

یہ تمام طریقے اس وقت کارآمد ہوں گے جب مرض کی نوعیت سنگین نہ ہو۔ لیکن اگر بیماری میں شدت ہو تو ضرور ڈاکٹر کی مدد لیجئے۔ اس میں شرمانے یا لوگوں سے خوفزدہ ہونےکی ضرورت نہیں۔ آج دنیا میں کئی مشہور شخصیات اس موضوع پر کھل کر بات کرتی ہیں جو خود اس مرض کا شکارہونےکے بعد اس پرقابوپانےمیں کامیاب ہوئے۔ آپ اللہ کی سب سے اعلیٰ تخلیق ہیں۔ اپنی زندگی کو فضول باتوں یا غیر اہم لوگوں کی وجہ سےداؤپرنہ لگائیے، بلکہ ہمت سے کام لیتے ہوئےاس مرض پرقابوپائیےاورزندگی کا لطف اٹھائیے۔ کوشش شرط ہے۔

بشکریہ:فریدہ خالد،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button