کھوج بلاگ

خوشی سے مر نہ جاتے…

شاعر نےیہ شعریقیناً اپنےمحبوب کی بےرخی اوراس کےجھوٹے وعدوں کا پردہ چاک کرنےکےلیے کہا ہوگا

ترے وعدے پر جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

کسی شاعر نے یہ شعر یقیناً اپنے محبوب کی بے رخی اور اس کے جھوٹے وعدوں کا پردہ چاک کرنے کےلیے کہا ہوگا یا شاید اس کے ذہن میں یہ بات ہو کہ شاعری کی زبان میں گلہ کرنے سے ہوسکتا ہے اس کے محبوب کا رویہ اس کے ساتھ بہتر ہوجائے اور یا پھر اس نے اپنے محبوب کے منہ پر صاف صاف یہ شعر کہہ کر اسے بتادیا ہو کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ جو وعدے تم مجھ سے کرتے ہو میں ان پر اعتبار کرلیتا ہوں تو یہ تمہاری بھول ہے، کیونکہ اب یہ بات مجھ پر روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ تم اپنا وعدہ کبھی ایفا نہیں کرتے اور ہر روز ایک نیا وعدہ کرکے بات کل پر ٹال دیتے ہو۔ جس دن مجھے یہ یقین ہوگیا کہ تم نے سچا وعدہ کیا ہے تو میں خوشی سے مر ہی جاؤں گا اور یہ سب تمہارے جھوٹے وعدوں کا آسرا ہے کہ جس نے مجھے زندہ رکھا ہوا ہے۔

اگر ہم پاکستانی عوام ایک لمحے کو شاعر کے محبوب کی جگہ اپنے حکمرانوں کو رکھ کر سوچیں اور پھر ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو ہمیں اپنے حکمران اس شاعر کے محبوب سے کسی صورت کم نظر نہیں آئیں گے۔ اس محبوب کی کون سی ادا ہے جو ہمارے حکمرانوں میں نہیں پائی جاتی۔ جس طرح محبوب کا وعدہ کبھی وفا نہیں ہوتا اس طرح آج تک ہم سے جس حکمران نے جو وعدہ کیا، وہ بس وعدہ ہی رہا اور ہماری آنکھوں کو کبھی ان خواب کی تعبیر دیکھنا نصیب نہ ہوئی جو ہمارے حکمران اپنے اپوزیشن کے دور میں ہمیں دن دیہاڑے جاگتی آنکھوں سے دکھاتے رہے۔ ہم عوام پھر ایک بے بس عاشق نامراد کی طرح اپنے محبوب حکمران کے وعدوں پر اعتبار کرنے کے علاوہ کچھ نہ کرسکے۔

ہمیں جو بھی حکمران ملا اس نے حکومت میں آنے سے پہلے ہمارے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے وعدے کیے اور حکومتی محلات میں داخل ہوتے ہی ہماری طرف سے آنکھیں پھیرلیں اور اس کی یادداشت ایسے چلی گئی جیسے ہماری پاکستانی پرانی فلموں میں ہیرو یا ہیروئن کی چلی جاتی تھی۔ لیکن وہاں پھر تین گھنٹے کی فلم میں آخرکار ان کی یادداشت واپس آجاتی تھی اور فلم کا اختتام ایک خوشگوار اور رومانٹک ماحول میں ہوتا تھا، مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے کہ یہاں ایک انوکھا فارمولہ کام کرتا دکھائی دیتا ہے کہ جب حکومت میں ہوں تو ان کی یادداشت چلی جاتی ہے اور ان کو صرف وہ ساری باتیں بھول جاتی ہیں جو انہوں نے اپنے اپوزیشن کے دور میں کی ہوتی ہیں اور جب یہ دوبارہ اپوزیشن میں جاتے ہیں تو ساری یادداشت تاریخوں اور واقعات سمیت واپس مل جاتی ہیں۔ جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو عوام کے خادم اور عوام ان کے محبوب ہوتے ہیں، لیکن حکومت میں جاتے ہی یہ خود کو محبوب اور عوام کو بے بس عاشق بنادیتے ہیں۔

ہم پاکستان میں موجود سیکڑوں پارٹیوں کی بات ابھی رہنے دیتے ہیں کہ ابھی سب کو تو حکومت نہیں ملی، اس لیے جب وہ حکومت میں آئیں گی تو ان کے وعدوں کا پتہ چلے گا۔ ابھی ہم صرف ان جماعتوں کی بات کرلیتے ہیں جن کے سر پر حکمرانی کا تاج ہم سجا چکے ہیں۔ آپ ان سب کے انداز حکمرانی اور پھر ان کے اپوزیشن میں رہتے ہوئے انداز کا جائزہ لیجئے تو اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ ان سب کے وعدے اور باتیں کسی ایسے محبوب سے کسی صورت کم نہیں جس کا تذکرہ شاعر نے اپنے شعر میں کیا ہے۔ کیا ان سب کی یادداشت حکومت میں ہوتے ہوئے چلی نہیں جاتی اور پھر اپوزیشن میں جاتے ہی واپس نہیں آجاتی؟ یقیناً ایسا ہی ہوتا ہے۔

موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اس کے حکمران عمران خان صاحب کو 2018 کے انتخابات سے پہلے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں یہ برتری حاصل تھی کہ یہ ابھی حکومت میں نہیں آئے تھے اور اس لیے انہوں نے اپنی پارٹی کے 1996 میں قیام سے لے کر 2018 میں برسراقتدار آنے تک تقریباً بائیس سال تک اپنی مخالف ہر جماعت اور اس کے سربراہ کو تنقید اور طعن و تشنیع کا نشانہ بنائے رکھا اور عوام سے ایسے ایسے وعدے کیے کہ عوام نے یہ سمجھ لیا کہ بس یہ ایک بندہ اگر اقتدار میں آگیا تو ہمارے سارے دکھوں کا مداوا کردے گا۔ اس سے بڑا سچا، کھرا اور دلیر آدمی اس ملک کی تاریخ نے آج تک نہیں دیکھا۔ نوجوان نسل تو اس کی گرویدہ ہوکر رہ گئی اور 2018 کے الیکشن سے پہلے جوق در جوق اس کے قافلے میں شامل ہوگئی، اس کے ساتھ کچھ اور عوامل کے مل جانے کی وجہ سے آخرکار کامیابی کا سہرا پی ٹی آئی کے سر سج گیا۔

عمران خان صاحب کے اقتدار میں آتے ہی عوام نے اپنے محبوب کو اس کے اپوزیشن کے دور میں اور خاص کر ان کے 126 دن کے دھرنے میں اسٹیج سے کیے گئے وعدے یاد کرانے شروع کردیے لیکن انہیں یہ سمجھنے میں دو سال لگ گئے کہ ہمارے ہر حکمران کی یادداشت چلی جاتی ہے، انہیں سب کچھ بھول جاتا ہے کہ اقتدار میں آنے سے ایک لمحے پہلے تک وہ کیا کیا کہتے رہے ہیں اور انہوں نے ووٹ کن کن خوابوں کی تعبیر دینے کےلیے حاصل کیے تھے۔ اب اس حکومت کو بھی دو سال سے زائد کا عرصہ ہوچلا ہے اور ہمارا مقصد یہاں اس حکومت کا ایک ایک اقدام گنوانا مقصود نہیں بلکہ اس بات کا فیصلہ عوام خود کرے، کیونکہ اب ہم سب کے سامنے اس جماعت اور اس کے لیڈر کا ماضی بھی موجود ہے اور حال بھی۔ اور یہ صرف اس جماعت یا اس کی لیڈر کی بات نہیں بلکہ جو بھی جماعتیں اقتدار کے مزے لوٹ چکی ہیں ان سب کی یہی حالت ہے۔ یہاں حوالہ پی ٹی آئی اور عمران خان کا اس لیے دیا ہے کہ یہ اب برسراقتدار ہیں۔

ان سب پارٹیوں اور ان کے لیڈروں کے ماضی و حال اور حالات و واقعات کو اگر غیر جانبداری کی نگاہ سے دیکھیں گے تو ایک سے بڑھ کر ایک نظر آئے گا۔ ہر ایک کے حکومت اور اپوزیشن کے دوران نظریے میں واضح فرق اور عوام کے بہلانے کےلیے جھوٹے وعدے مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ہمارا یہی مشورہ ہے کہ اس سچے شاعر کی طرح جس نے صاف صاف اپنے بے وفا محبوب کو بتادیا کہ بھلے میں تمہارے وعدے سن تو لیتا ہوں لیکن ان پر اعتبار نہیں کرتا، اسی طرح ہم بھی اپنے سب حکمرانوں کو یہ پیغام دے دیں کہ اب ہمارے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوچکا ہے اور ہم تمارے وعدے اور میٹھی باتیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ کیونکہ جھوٹ کے اس کچرے کے سمندر سے سچ کی سوئی تلاش کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمارے حکمرانوں کی یادداشت واپس لے آئے اور ان کو حکومت اور اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایک ہی نظریے پر قائم رہنے کی توفیق اور ہمت دے۔

بشکریہ محمد مشتاق ایم اے،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button