کھوج بلاگ

دیوار برلن، حقیقت میں دیوار نفرت تھی

یہ دیواربرلن اسی دورکی ایک قابل نفرت یادگارہےجس کوگرانےمیں 28 سال لگے

برلن کی سیرہواوردیواربرلن نہ دیکھی جائےیہ ممکن ہی نہیں۔ جرمنی کا دارالخلافہ برلن محض ایک شہرہی نہیں بلکہ یہ اپنےاندرعروج و زوال کی ایسی عبرتناک تاریخ اوریادگاریں سموئےہوئےہےجو یقیناً نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں،صحافیوں اورتاریخ کےطالب علموں کےلیےانتہائی دلچسپی کا باعث ہیں۔ یہ دیواربرلن اسی دورکی ایک قابل نفرت یادگارہےجس کوگرانےمیں 28 سال لگے۔ ان اٹھائیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو۔ اپنےپیاروں سےملنےکےلیےدونوں اطراف کےلوگ صبح وشام دیوارپھلانگنےکا سوچتےاورناکام کوششیں کرتےتھے۔ سات سال پہلےمیں جب جرمنی پہنچا تواس وقت بھی میرے ذہن میں جوواحد بات موجود تھی وہ دیوار برلن ہی تھی کہ اس کوضروردیکھنا ہےجس نےایک ہی قوم کےہزاروں،لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کررکھا تھا۔

برلن شہرماضی وحال کا عجیب وغریب امتزاج ہے۔ برلن شہرآج اگردنیا کےجدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے توکبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظرپیش کرتا تھا۔ تباہی وبربادی کی ایسی المناک تصویرتھی جس کی منظرکشی ممکن نہیں۔ ایک ایسا شہرجس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہرکا مکمل بٹوارا ہوچکا تھا۔ برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکا، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔ یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہوگئے تھے۔

ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے۔ آج بھی بچی کچھی دیوار برلن کے ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقے کی سڑکوں، فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی۔ کہیں زمین پر کندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار۔ اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقیناً گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

آج سے اکتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہوا تھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا۔ آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمے کا مرہون منت ہے۔ دیوار کے انہدام ہی سے Germen reunification کی راہ ہموار ہونا ممکن ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 9 نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جاسکتے ہیں تو وہ لمحات اور مناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کو جرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے محفوظ کرچکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی۔ گھنٹوں میں سیکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کردیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑ دیا۔ اس کےلیے صنعتی آلات بھی استعمال کیے گئے تھے اور بالآخر دیوار مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی۔ کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کرلیا گیا۔

دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauer کہتے ہیں۔ اس کی تعمیر 13ا گست 1961 کو شروع ہوئی تھی اور 9نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا جو 3 اکتوبر 1990 کو مکمل ہوا۔ یوں یہ تاریخی دیوار 28 برس، دو ماہ اور 27 دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ’’آہنی پردہ‘‘ کا کام کرتی رہی۔ دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر 1989 میں منعقد ہوئی تھی، میں سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔

دیوار برلن 155 کلومیٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلے باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جاسکے۔ ناکام ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جاچکے تھے۔ 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلادریغ گولی ماری جائے۔ دیوار کے انہدام سے پہلے 136 افراد کو غیر قانونی طور پر دیوار عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور اردگرد بھی سیکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں۔ اگر آپ اس علاقے میں جائیں اور گھومیں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا، جو آج تک محفوظ ہے۔ 2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا۔ اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں۔ اس وقت جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے تاریخی جملے کہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’’دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’’واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے‘‘۔

بشکریہ:منورعلی شاہد،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button