کھوج بلاگ

مجبور باپ، لاچار بیٹی

احساس پروگرام کےعارضی دفاترکےباہرسیکڑوں بزرگ، خواتین، بچے اور نوجوان دھوپ میں جھلستے نظر آرہے ہیں

کئی دنوں سے مختلف علاقوں کی یونین کونسل میں بنےاحساس پروگرام کےعارضی دفاترکےباہرسیکڑوں بزرگ، خواتین، بچے اور نوجوان دھوپ میں جھلستے نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ روز صبح 7 بجے قریب احساس پروگرام کےعارضی دفترکےسامنےسے گزرتے ہوئے ایک بڑی عمر کی خاتون کو روتے ہوئے دیکھ کر میں نے بائیک ان سے تھوڑی دور آگے جاکر روک دی۔ ہمت نہیں ہورہی تھی کہ کس طرح بات کروں، کیوں کہ معاملہ خاتون کا تھا۔ کچھ دیر انھیں دیکھتا رہا، اتنے میں ایک بزرگ میرے پاس سے گزرے اور خاتون کے پاس جاکر بیٹھ گئے۔ مجھے یہ اچھا موقع مل گیا کہ چلو اب بات کرنا ممکن ہوجائے گی۔

میں ڈھیلے قدموں سے بزرگ کے پاس جاکر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ بات کس طرح شروع کی جائے اب یہ طے کرنا تھا۔ میں نے ویسے ہی اونچی آواز میں کہہ دیا کہ یہ لوگ صرف غریبوں کو ذلیل کرنے کےلیے بلاتے ہیں، جو خرچہ دیتا ہے اس کا کام ہوجاتا ہے اور جو نہیں دیتا وہ ہماری طرح ذلیل و خوار ہوتا ہے۔ بابا جی نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ’’بیٹا صحیح کہہ رہے ہو۔ میں ایک ہفتے سے روزانہ صبح ساڑھے چھ بجے اپنی بیٹی کو لے کر آرہا ہوں، مگر اندر جانے کی اجازت ابھی تک نہیں ملی۔ جو پولیس اور ان کے لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں صرف وہی اندر جارہے ہیں‘‘۔ ہماری گفتگو کے دوران وہ خاتون بار بار اپنے گالوں پر پھسلتے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ میں نے بابا سے پوچھا ’’یہ آپ کی بیٹی ہیں؟‘‘ بابا نے جواب دیا ’’ہاں یہ میری اکلوتی اولاد ہے، مگر نصیب ہم دونوں کا ہی خراب ہے‘‘۔

میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو بابا نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اسے لاڈ پیار سے پالا۔ میٹرک تک پڑھایا اور پھر شادی کی عمر ہونے پر اس کی شادی کردی۔ میرا داماد بہت اچھا تھا۔ اس نے میری بیٹی کا بہت خیال رکھا۔ پھر ایک دن وہ کام پر گیا تو واپسی پر اس کی لاش گھر آئی۔ یہ لمحہ ہمارے اوپر قیامت سے کم نہیں تھا۔ بیٹی دیکھتے ہی دیکھتے بیوہ ہوگئی اور پھر واپس میرے پاس آگئی۔ کیوں کہ جس مکان میں وہ رہتی تھی وہ کرایہ کا تھا۔ سسرال والے خود کرائے پر رہتے تھے اس لیے وہ اس کا بوجھ اٹھانے سے منع کرچکے تھے۔ میں تو باپ تھا، اس لیے اسے اپنے پاس لے آیا۔ اس کی ماں اپنی بیٹی کے غم میں اتنی نڈھال ہوئی کہ داماد کے گزرنے کے دو ماہ بعد ہی وہ بھی ہم سے دور چلی گئی۔

میں ان کی باتیں سن رہا تھا اور اندر ہی اندر روئے جارہا تھا۔ ایک گھر پر قیامت گزر گئی اور کسی کو معلوم تک نہ ہوا۔ میں نے پوچھا بابا جی آپ کے داماد کا انتقال کیسے ہوا تھا؟ بابا نے جواب دیا کہ وہ صبح کام کےلیے گھر سے نکلا اور شام کو واپسی پر بس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ اس کا دوست بھی اس بس میں تھا، وہ ہی اس کی لاش لے کر گھر آیا تھا۔ ورنہ ہم تو اس انسانوں کے جنگل میں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہی مر جاتے۔ ایک نواسی ہے میری، جو ابھی صرف 13 ماہ کی ہے۔ نہ اس کے باپ نے اس کا منہ دیکھا اور نہ ہی نانی نے اسے اپنی گود میں کھلایا۔ دونوں ایسے ہی چلے گئے۔ میں نے بڑی ہمت کرکے پوچھا کہ پھر گھر کیسے چلتا ہے؟ کون کماتا ہے؟ بابا نے کہا کہ میں پھیری کا کام کرتا ہوں۔ پہلے میری بیٹی پولیو میں کام کرتی تھی، اب وہ بھی ختم ہوگیا ہے تو یہ گھر میں سلائی کرتی ہے۔ بس اسی طرح سے گزارا ہورہا ہے۔ مالک مکان کو کرایہ وقت پر چاہیے، اس لیے کچھ بھی کرکے اسے وقت پر کرایہ دیتے ہیں اور بل بھرتے ہیں، چاہے پھر ہمارے پیٹ میں کچھ جائے یا نہ جائے۔

بابا کی کہانی انتہائی درد ناک تھی۔ ہر کسی کو اپنا غم بڑا لگتا ہے۔ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ جب ہم کسی اور کا دکھ سنتے ہیں تو ہمیں اپنا دکھ انتہائی چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ بابا سے جب اس کی بیٹی کے رونے کی وجہ پوچھی تو بابا نے بتایا کہ بیت المال والوں کے پاس بھی گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے شناختی کارڈ اپنے شوہر کے نام پر بنواؤ پھر کچھ کریں گے۔ جب شناختی کارڈ بنوانے جاتے ہیں تو وہاں وہ کہتے ہیں کہ شوہر کا شناختی کارڈ ختم ہوچکا ہے، نیا بنے گا۔ پھر آپ کی بیٹی کے نام پر شناختی کارڈ بنے گا۔ اب میں بھلا مرے ہوئے شخص کو کیسے واپس لے کر آؤں۔ پہلے روزانہ صبح نادرا کے دفتر جاتے تھے، اب یہاں آتے ہیں، بس آج کل ہمارے ساتھ یہی ہورہا ہے۔ نہ وہاں سے کوئی کام بنتا ہے اور نہ ہی یہاں والے کوئی آسرا دینے والا ہے۔ احساس پروگرام پر میسیج کیا تھا تو پتہ چلا ہمارا نام ہی نہیں۔ یہ کیسا پروگرام ہے جہاں ہم جیسے مجبور و لاچار لوگوں کا نام نہیں۔ باقی سب کو پیسے مل رہے ہیں۔ اتنا کہہ کر بابا جی تھوڑی دیر چپ ہوئے اور آنکھوں میں آئی نمی کو اپنے دامن سے صاف کرتے ہوئے پھر گویا ہوئے ’’شاید ہم بہت زیادہ مجبور و لاچار ہیں اس لیے ہم اس پروگرام کے اہل نہیں‘‘۔

ان کی ساری باتیں دل کو چیر رہی تھیں۔ میں ان ہی کی باتوں کو سوچ سوچ کر پاگل ہوئے جارہا تھا اور مجھے معلوم تک نہ ہوا کہ وہ باپ بیٹی کب میرے برابر سے اٹھ کر چلے گئے۔ نہ کوئی ایڈریس دیا اور نہ ہی کوئی رابطہ نمبر لے سکا۔ کافی دیر انہیں تلاش کیا مگر وہ کہیں نظر نہ آئے۔ میں ان کی تلاش میں تین دن تک لگاتار صبح 7 بجے یہاں آتا رہا مگر وہ باپ بیٹی کہیں دکھائی نہ دیے۔ شاید وہ اس فرسودہ سسٹم اور ناانصاف معاشرے سے بالکل مایوس ہوکر پھر سے اپنی روزی روٹی کی تلاش میں جت گئے ہوں گے۔ شاید ایک دن کوئی ایسی خبر بھی ملے کہ ایک گھر سے باپ، بیٹی اور چند ماہ کی چھوٹی بچی کی لاش برآمد۔ وجہ موت ’’بھوک‘‘ تھی۔

عمران خان کو صرف وزیراعظم ہی بننا تھا تو ویسے ہی کہہ دیتے، لوگ ووٹ دے کر وزیراعظم بنوا دیتے۔ مگر کم سے کم مجبور و لاچار لوگوں سے ایسے وعدے نہ کرتے جو دو سال گزرنے کے بعد بھی پورا نہ کرسکے۔ شاید وزیراعظم کو اس بات کا احساس تک نہیں کہ عوام کیسے جی رہے ہیں۔ پہلے روٹی عوام کی پہنچ سے دور تھی، اب ایک، ایک نوالہ عوام سے دور ہوتا جارہا ہے۔ احساس پروگرام ضرور احساس کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہوگا، مگر یہ احساس پروگرام تک رسائی صرف ان لوگوں کی ہے جو پارٹی ورکرز سے علیک سلیک رکھتے ہیں، جن کی پارٹی میں سنی جاتی ہے۔ باقی کوئی غریب و مجبور شخص اس پروگرام کے آس پاس بھی نہیں پھٹک سکتا۔

جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ وزیراعظم نے پڑھی لکھی کابینہ کا انتخاب کیا، پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے لانے کی سوچ دی اور یقین دلایا کہ یہ لوگ ملک سنبھال لیں گے۔ مگر وہ شاید یہ بات بھول چکے تھے کہ یہ وہ ہی نوجوان ہیں جو یہیں سے پڑھ لکھ کر آگے آئے ہیں، جن کے پاس صرف ڈگریاں ہیں، کام کرنے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کا کوئی ہنر ان کے پاس نہیں۔ تجربہ کار لوگوں کو منہ تک نہیں لگایا جاتا۔ صرف وہی شخص آپ کے اردگرد پہنچ سکتا ہے جو آپ کی واہ واہ میں زمین آسماں ایک کردے۔

وزیراعظم اور ان کی فوج ظفر موج کو صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ بڑے بڑے بادشاہوں کو ایڑیاں رگڑتے ہوئے تاریخ نے دیکھا ہے۔ آپ سیاسی مفاہمتی کا کھیل شوق سے کھیلیے مگر اتنا ضرور یاد رکھیے کہ غریب کو روند کر نہ تو یہ ملک ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی آپ کی سوچ۔ جلد یا دیر آپ بھی وقت کی گردش میں ہوں گے۔ پھر یاد کیجیے گا کہ کسی غریب کا بھوک سے مرنا کسے کہتے ہیں۔

بشکریہ:محمد عارف میمن،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button