کھوج بلاگ

صدر ٹرمپ کی فتح یقینی ہے

آج تک کوئی بھی امریکی صدرمشرق وسطیٰ کےمسلم ممالک کی اس طرح کھلی حمایت حاصل نہیں کرسکا جس طرح صدر ٹرمپ نے حاصل کی ہے

امریکا نے دنیا کو جس موڑ پر لا کر چھوڑا ہے اس میں صدر ٹرمپ کا کردار نہایت غیر معمولی ہے۔ وہ ساری باتیں جو پہلے ڈھکے چھپے الفاظ میں کی جاتی تھیں کہ امریکا کی مسلمانوں کے بارے پالیسی کیا ہے، فلسطین کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں۔ چین کے بارے میں امریکی رائے اور رویہ کیا ہے، شمالی کوریا کو کیسے دھمکانا اور منانا ہے، مشرق وسطیٰ میں امریکی کیسے اسرائیل کا ساتھ دیتے ہیں؟ صدر ٹرمپ نے انہیں بالکل واضح الفاظ میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔

وہ ہر بات براہ راست کرتے ہیں۔ لفظی ڈپلومیسی سے کام لینا ان کی سرشت میں ہی شامل نہیں اور جو دھونس کی پالیسی امریکا جہاں بھی چلانا چاہتا ہے یا چلاتا ہے، صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا بھی کبھی انکار نہیں کیا گیا۔ ایران کے بارے میں پہلے صدور کچھ لگی لپٹی رکھتے تھے مگر ٹرمپ نے بہت واضح طور پر اپنی پالیسی کا اظہار کردیا۔ وہ اس بات سے کبھی نہیں ڈرتے کہ دنیا کیا کہے گی۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکا ہی ساری دنیا ہے۔ امریکا جہاں جب چاہے اپنی من مانی کرنے کا اہل ہے۔ اس یقین کے ساتھ وہ ہر بات کرتے ہیں اور ان کی ہر بات اسی یقین کی بنیاد پر سچ بھی ثابت ہوئی ہے۔ انہیں کبھی کسی کی پرواہ نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک بار پھر امریکا کے صدر منتخب ہونے جا رہے ہیں۔

اس 2020 کے الیکشن میں ان کی فتح یقینی ہے۔ کیونکہ جو ویژن انہیں دے کر بھیجا گیا اور جو وہ لائے اور جو وہ رکھتے ہیں اور جس طرح کے کاموں کی ان سے توقع تھی، انہوں نے اس سے بھی بڑھ کر کام کیے ہیں اور بادشاہ گر نہایت خوش ہیں۔ انہوں نے خود کو نہ صرف خالص روایت پرست امریکی ثابت کیا ہے بلکہ خود کو ایک متنازعہ عالمی رہنما بھی ثابت کیا ہے جو دوسروں کو بری طرح نیچا دکھانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ خاص طور پر مسلمانوں اور کالے امریکیوں کو۔ نسل پرستی کے واقعات کے بعد ان کا جھکاؤ یہ ثابت کرچکا ہے کہ وہ روایتی خیالات کے حامل ہیں۔

اسی طرح اسرائیل کےلیے ان کا کام تاریخی نوعیت کا ہے۔ آج تک کوئی بھی امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک کی اس طرح کھلی حمایت حاصل نہیں کرسکا جس طرح صدر ٹرمپ نے حاصل کی ہے۔ اس نے مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کو کسی ایک طرف جھکنے کو مجبور کردیا ہے اور انہیں آخرکار اسرائیل سے معاہدے کرنے پر راضی کرلیا ہے۔ اب یہودیوں کی بھرپور کوشش ہوگی کہ صدر ٹرمپ ہی آئندہ صدر بنے کہ جو باقی معاملات ہیں وہ بھی بخوبی انجام پا جائیں۔ اگر کوئی ان دیکھی قوتیں اثر انداز ہوتی ہیں تو وہ بھی صدر ٹرمپ کی جانب ہی ہیں، کیونکہ ان قوتوں کی منشا پورا کرنے میں ٹرمپ ہی کامیاب ہوئے ہیں۔ ایک طرف انہوں نے کورونا وائرس سے ضد لگائے رکھی اور اسے مذاق سمجھا اور اب الیکشن کی چال کے طور پر خود کو قرنطینہ بھی کرلیا کہ کورونا واقعی موجود ہے اور اس طرح خود کو ایک حقیقت پسند لیڈر منوا لیا ہے کہ جو حقیقت کو ماننے میں کبھی عار محسوس نہیں کرتا۔ دوسرے وہ لابی جو کورونا کو ایک بلا بنا کر پیش کررہی تھی وہ بھی راضی ہوگئی اور اس طرح اس آخری مہینے میں اب تمام کارڈز صرف اور صرف ٹرمپ کے ہی ہیں۔

آخری بات یہ کہ دوسروں کی درگت بنانے میں بھی ان کا ثانی نہیں ہے اور دوسروں کی درگت بنانا بحیثیت مجموعی امریکیوں کا ذوق بھی ہے کہ یہ ساری دنیا کو خود سے کم تر ہی گردانتے ہیں۔ اس طرح تمام حالات و واقعات امریکی ووٹر کے سامنے رکھے گئے ہیں جس سے صدر ٹرمپ کی فتح یقینی نظر آرہی ہے۔

بشکریہ:اکرم ثاقب،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button