کھوج بلاگ

یہ لوگ کون ہیں؟

جب یہ لوگ میدانِ جنگ میں کٹ مررہےتھےتوان کےہم وطن فخرسےانھیں اپنا سچا ہم وطن سمجھتے تھے

اگر آپ کو کبھی بنگلا دیش جانے کا اتفاق ہو تو آپ کو ڈھاکا، میرپور،چٹاگانگ اوردیگربہت سے شہروں کے اردگرد انتہائی غلیظ۔، تنگ اور بدبودار کیمپ نظر آئیں گے۔ پہلی نظر میں انسانی عقل ورطۂ حیرت میں مبتلا ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ ایسی جگہوں پر کیسے اور کیوں گزارہ کر رہے ہیں؟ آخر یہ لوگ ہیں کون؟ ان لوگوں کو اتنا دھتکار کر کیوں رکھا گیا ہے؟ ان لوگوں کی داستان پڑھی جائے تو یہ ہر ذی شعور انسان کو اشک بار کر دیتی ہے۔

یہ لوگ واقعی بہت عجیب ہیں۔ ان لوگوں نے جن لوگوں کو چاہا، جن کی خاطر قربانیاں دیں، زندگیاں قربان کیں، اپنا سب کچھ لٹا دیا، وہی لوگ آج تک ان کو اپنا ماننے کو، اپنا بنانے کو تیار نہیں۔ جب یہ لوگ میدانِ جنگ میں کٹ مر رہے تھے تو ان کے ہم وطن فخر سے انھیں اپنا سچا ہم وطن سمجھتے تھے اور یہ سادہ لوح بھی اللہ، رسول کے نام پر اس دیس کے باسیوں کے ساتھ سر پر کفن باندھے انجام کی پرواہ کیے بغیر لڑتے رہے، مرتے رہے۔ اور جب ان کے ہم وطن پلٹنے لگے تو ان کو وہیں تسلیاں دے کر دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئے کہ تم کو بھی جلد بلا لیں گے، اور پھر وہ ’’جلد‘‘ ابھی تک نہیں آئی۔

اس کے بعد جو ظلم ان کے ساتھ ہوا وہ لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ ان کو اپنے ہی گھروں سے نکال کر خون کی ندیاں بہا دی گئیں، عصمتیں تار تار کی گئیں، اور جو لٹے پھٹے بچ گئے انھیں ان غلیظ اور تنگ و تاریک کیمپوں میں ڈال دیا گیا کہ اب بلاؤ ان کو کہ جن کی خاطر تم نے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔

شروع میں تو ان میں سے کچھ لوگوں کو ان کے ہم وطنوں نے اپنے پاس بلایا بھی لیکن پھر جیسے جیسے وقت کا پہیہ چلتا گیا تو ان کے ہم وطنوں کو خیال آیا کہ یہ تو ان کے ہم وطن ہی نہیں۔ اگر کسی نے بہت شرم دلا بھی دی تو یہ کہہ کر انھیں ٹہلا دیا گیا کہ یہ تھے تو ہمارے لوگ ہی لیکن ہمارے اپنے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ ہم ان کو اپنے پاس نہیں بلا سکتے، اس لیے وہیں کی حکومت ان کو اپنا لے۔ حالانکہ جب قربانیوں کا وقت آیا تھا تب تو ان کو سب اپنا ہم وطن کہتے تھے اور ان سرفروشوں نے بھی نہیں کہا تھا کہ جاؤ خود لڑو، ہمارے اپنے مسائل اتنے ہیں کہ ہم تمھارا ساتھ کیا دیں۔
بلکہ ان کا تو وہ جذبہ تھا کہ جیسے:
اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا

سالہا سال بیت گئے، ان میں سے کچھ چھپتے چھپاتے، مرتے جیتے اپنے ہم وطنوں کے پاس پہنچ گئے تو پھر بھی ان لوگوں نے انھیں گلے نہ لگایا بلکہ یہی کہا کہ تم ہمارے نہیں، وہیں کے ہو جہاں سے آئے ہو۔ لیکن کمال حیرت ان لوگوں کے حوصلوں پر کہ اتنا سب کچھ سہنے کے بعد بھی ان کے منہ سے مرتے دم تک ان کے وطن کےلیے ’’زندہ باد‘‘ کا نعرہ ہی نکلتا ہے۔
یہ لوگ بہت عجیب ہیں ناں!

قریباً پانچ دہائیوں سے اس آس پر ہر ظلم، ہر تکلیف سہتے چلے آرہے ہیں کہ ایک دن ان کے دیس والے تھوڑی سی جگہ ان کو بھی دے دیں گے، ان کو بھی بلا لیں گے۔ ان کی تیسری نسل ہوش سنبھال چکی ہے، بلکہ اب تو چوتھی نسل بھی ہوش سنبھال رہی ہے لیکن یہ اب تک وفاداری اور قربانیوں کی وہ مثال بنے ہوئے ہیں جو تاریخِ انسانی میں بہت کم ملتی ہے۔

اگر یہ لوگ کسی اور قوم میں ہوتے تو ان کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ رکھا جاتا کیونکہ ان کا قرض تو اتارا ہی نہیں جاسکتا۔ ایسے سرفروش کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں لیکن صد افسوس اپنی قوم پر جو ان کو بھلا چکی۔

یہ سرفروش وہ بہاری مہاجرین ہیں جو ایک بار 1947 میں قیام پاکستان کے وقت بہار سے مشرقی پاکستان ہجرت کرتے وقت لٹے اور دوسری بار 1971 میں پاکستان کو بچانے کی کوشش میں مکتی باہنی اور بھارتی فوج کا مقابلہ کرتے وقت مرتے رہے۔ اور اس کے بعد آج تک ہر طرح کا ظلم اور زیادتی سہتے چلے آرہے ہیں لیکن آج بھی ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ ہے ’’پاکستان زندہ باد‘‘۔

بنگلا دیش میں محصور ان پاکستانیوں کی کل تعداد تین لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان ہے۔ کوئی آج بھی جا کر ان سے پوچھ لے کہ تم کون ہو تو یہ فخر سے بتاتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ یہ لوگ ابھی تک اس آس پر زندہ ہیں کہ کسی روز ان کے ہم وطن ان کو اپنا کہہ ہی دیں گے اور یہ سرفروش سارے دکھ بھلا کر اس دیس آجائیں گے جس کی خاطر یہ تقریباً 73 سال سے قربان ہوتے چلے آرہے ہیں۔

مٹی کی محبت میں ’’ان‘‘ آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

بشکریہ:جواد اکرم،روزنامہ ایکسپریس

Back to top button