کھوج بلاگ

مقاصد کا حصول کیسے ممکن ہو؟

دنیا کی کل آبادی میں سے صرف 5 سے 9فیصد لوگ ہی کامیاب ترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں

دنیا بھر میں نئے سال کی آمد پر مختلف اندازمیں ردِعمل کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ایک طرف اخبارات و رسائل میں گزشتہ سال کے اہم واقعات و حادثات کی تفصیلات شائع کی جاتی ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر کا آسمان نیوایئر نائٹ کی آتشبازی سے جگمگا اٹھتا ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کی غالب اکثریت ساری رات خوب ہلہ گلہ کرکے نئے سال کی شروعات میں ہی خوابِ غفلت کی چادر اوڑھ کر سال کا پہلا ہی دن ضائع کر بیٹھتی ہے اور اکثر اوقات غفلت میں گزرا ہوا یہ دن پورے سال میں بدل جاتا ہے۔

عمومی طور پر اس ہلے گلے اور سیلیبریشن کے پیچھے کوئی قابلِ ذکر کامیابی نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے اس میں کھوکھلا پن ہوتا ہے۔ گزرتا ہوا ہر لمحہ اور ماہ و سال ایک حساس اور فکرمند انسان کو جشن منانے کے بجائے بے چین کردیتا ہے کہ زندگی کی برف پگھلتی چلی جارہی ہے اور کامیابیوں کا پلڑہ ابھی ہلکا ہے۔

نیو ایئر ریزولیوشن کا مطلب ہے آنے والے سال سے متعلق اپنی ذات سے وعدے کرنا، اگلے سال کےلیے گول اور ٹارگٹس بنانا، اگلے سال عبور کرنے کےلیے سنگ میل کا تعین کرنا، اگلے سال کو بھرپور، منظم، شاندار اور کامیاب بنانے کےلیے پلاننگ کرنا۔ بری اور نقصان پہنچانے والی عادات سے چھٹکارے کا عہد، اچھی اور کامیابی دلانے والی عادات کو اپنانے کا عہد، کچھ نیا سکھنے اور نئی دنیائیں دریافت کرنے کے ارادے اور حکمت عملیاں۔

دنیا میں ہونے والی مختلف ریسرچز سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کی کل آبادی میں سے صرف 5 سے 9فیصد لوگ ہی کامیاب ترین لوگوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں اور یہ ان لوگوں میں سے ہوتے ہیں جو سال شروع ہونے سے پہلے ہی آنے والے سال کی پلاننگ کرلیتے ہیں، گویا وہ اپنی نیوایئر ریزولیوشن سیٹ کرلیتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق صرف بیس فیصد لوگ ہی نیوایئر ریزولیوشن پر کام کرتے ہیں اور ان میں سے بھی غالب اکثریت اس سفر کو راستے میں ہی ترک کرکے ناکامی کی وادیوں میں بھٹکنے لگتی ہے۔

ذرا غور تو کیجئے! ہماری زندگی کے لمحات دنوں میں، دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے برسوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں اور بالآخر بلاوے کا لمحہ آن پہنچتا ہے۔ اس لمحے بسترِ مرگ پر کفِ افسوس مل رہے ہوتے ہیں کہ میں نے لمحہ لمحہ ضائع کرتے کرتے کتنے ہی سال خوابِ غفلت کی چادر اوڑھے، بغیر کچھ حاصل کیے برباد کردیے۔ یقین مانیے ہم گھنٹے اور دن نہیں ضائع کررہے ہوتے بلکہ ذرا مڑ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے ہم زندگیاں ضائع کر بیٹھے ہیں۔ قدرت ہر روز 24 گراں قدر سِکے، 24 گھنٹوں کی صورت میں ہر امیر، غریب، مرد عورت، جوان اور بوڑھے، کمزور اور طاقتور کو بِلاتفریق عطا کرتی ہے۔ اہلِ دنیا کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا دارومدار ان 24 گھنٹوں کے طریقہ استعمال کے مرہونِ منت ہوتا ہے۔ جو ان سکوں کو جتنے موثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا، وہی دنیا و آخرت میں بڑا مقام حاصل کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

سوچ اور فکر کے وہ لمحات جو آئی سی یو کے بستر پر ملتے ہیں، کیا ہم انہیں ’’نیوایئر ریزولیوشن‘‘ بنا سکتے ہیں؟ زندگی کے اختتام پر جو پچھتاوے قطار در قطار آنکھوں کے سامنے گھوم سکتے ہیں، کیا ہم انہیں ’’نیوایئر ریزولیوشن‘‘ بنا سکتے ہیں؟ کیوں نہ آج ہی تصور کی آنکھوں سے دیکھ کر ان پچھتاؤوں کو امید، انسپائریشن اور مشعلِ راہ بنالیں؟ کیا خبر کون سا لمحہ زندگی کا آخری لمحہ ہو؟

ہر شخص کی زندگی میں صبح کا سورج امید، عزم، ارادے اور قصد کی کرنیں لے کر طلوع ہوتا ہے اور رات اس احساس کو بیدار کرنے آتی ہے کہ بالآخر زندگی کی رات ہونے والی ہے۔ ہر رات ڈیتھ بیڈ پر احساس کی احتساب عدالت لگتی ہے کہ آج کا دن گزشتہ کل سے کیسے اور کس قدر بہتر اور کامیاب بنایا؟ آج کیا نیا سیکھا؟ آج اپنی دفتری ذمے داریاں کتنی ایمانداری سے پوری کیں؟ آج فیملی، خاندان اور معاشرے کو کتنا فائدہ یا نقصان پہنچایا؟ آج کون سی اپنی ہی بری عادت کے خلاف ڈٹ گئے؟ آج کا دن اپنی ذات کو دوسروں کا بوجھ اٹھانے کے قابل بنانے میں صرف کیا یا معاشرے پر خود ہی بوجھ بن بیٹھے؟ آج کے دن اپنے نامۂ اعمال کو کیسے سجایا؟ لیکن افسوس ہم اس عدالت میں پیش ہونے سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو ہر روز اس عدالت کی پیشی کو اپنے معمول میں شامل کرنا ہوگا۔

یاد رکھیے! جس نے آج کو ضائع کردیا، گویا اس نے زندگی کو ضائع کردیا۔ کیونکہ زندگی تو صرف آج کا دن ہی ہے اور جس نے آج کے دن کو کامیاب بنالیا، گویا اس نے زندگی کا کامیاب بنالیا۔ اگر آج ہم اس احساس اور خود احتسابی کو اپنا لیں تو کچھ بعید نہیں کہ یہ قوم ترقی پذیر سے ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہوجائے۔

’’نیو ایئر ریزولیوشنز‘‘ کیا ہوسکتی ہیں؟

  • اپنی سوچ اور عمل کے دائرے کو وسیع کرنے کےلیے نئے لوگوں، نئی کتابوں اور نئی فکر سے تعلق بنانا۔
  • ہر مہینے میں ایک نئی کتاب کا مطالعہ۔
  • انتہا پسندانہ رویوں کے بجائے قوتِ برداشت اور دوسروں کے جذبات، احساسات، نظریات اور افکار کا احترام اختیار کرنا۔
  • ہر روز اپنی ذہنی، جسمانی، روحانی اور جذباتی صحت کےلیے اقدامات۔
  • صبح اٹھنے اور رات کو سونے کے اوقات کا تعین اور ان پر سختی سے عمل۔
  • اپنے اردگرد اچھے، کامیاب اور وسیع سوچ کے حامل لوگوں کو اکٹھا کرنا۔
  • سگریٹ نوشی اور دیگر منفی عادات جو صحت کے لیے خطرناک ہیںٍ، انھیں مکمل ترک کرنے کا عزم صمیم۔
  • اپنی مالی حالت کو مستحکم کرنے کےلیے اپنی تعلیمی قابلیت، اپنی اسکلز کو بہتر بنانے کے اقدامات کرنا۔
  • اپنی ذات کو اپنے ادارے اور قوم کےلیے انتہائی اہم سرمایہ بنانے کےلیے اپنے پروفیشن کا وسیع اور موثر علم اور ٹریننگ حاصل کرنا۔
  • اپنے کاروبار کو بڑھانے اور آمدن میں اضافے کےلیے موثر اور جدید حکمتِ عملی اختیار کرنا۔
  • اپنی فیملی کے ساتھ تعلق کو مزید مضبوط اور مربوط بنانے کےلیے کوالٹی وقت دینا ہے اور فیملی کےلیے ویلیوز سیٹ کرنا۔
  • معاشرتی بگاڑ ختم کرنے، معاشرے کو مثالی معاشرہ بنانے اور کمزور طبقات کی مدد کےلیے اپنے کردار کا دائرہ بڑھانا۔
  • بطور طالبعلم، استاد اور والدین تعلیمی حوالے سے نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےلیے اپنے آپ کو نئے حالات اور ضروریات کے مطابق ڈھالنے اور مطلوبہ تربیت کے حصول کےلیے ضروری اقدامات۔

اپنے گولز اور ٹارگٹس کو حاصل کرنے کےلیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جاسکتا ہے:

  • 2021 کےلیے کم از کم 10 واضح گولز تحریر کیجئے۔
  • ہر گول کو حاصل کرنے کے وقت اور مہینے کا تعین کرلیجئے۔
  • اپنے گولز کو واضح طور پر روزانہ کی بنیاد پر چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم کیجئے۔
  • ہر روز صبح میں پلاننگ اور رات کو خود احتسابی کے فارمولے کے تحت آج کی پروگریس کا جائزہ لیجئے۔
  • گولز اور ٹارگٹس کو اپنی عادات بنائیے اور سال کے آخر تک ان گولز کے ساتھ سختی سے جڑے رہنے کا وعدہ کیجئے۔
  • اپنی کارکردگی کو جانچنے اور گولز کے فالواپ کےلیے روانہ کی بنیاد پر ڈائری لکھنے کا معمول بنائیے۔

بشکریہ:نصیراحمد،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں