کھوج بلاگ

امریکی جمہوریت کا تابوت

ٹرمپ کا ٹویٹر اور فیس بک اکاؤنٹ تشدد کی دعوت دینے کے باعث فریز ہے اور کانگریس نے جوبائیڈن کی جیت کی توثیق کردی

یہ بات سمجھنے کی ہے کہ طاقت کسی غیر سنجیدہ اور خودعرض انسان کے ہاتھوں میں نہیں ہونی چاہیے۔ ٹرمپ نے کیا کیا؟ اس نے مین اسٹریم میڈیا پر کوئی بیان نہیں دیا، اس نے ٹویٹ کیا تھا۔ اس ٹویٹ میں اس نے اپنے حامیوں کو مظاہروں پر اکسایا تھا۔ اور پھر جو ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا۔ اگرچہ فیس بک اور ٹویٹر نے ٹرمپ کے اکاؤنٹس کو فریز کردیا ہے لیکن جو نقصان ہونا تھا وہ ہوچکا ہے۔ اب امریکا وضاحتیں دیتا تھک جائے گا لیکن اس کو جمہوریت کے حوالے سے یہ طعنہ اگلے کئی سال تک سننا پڑے گا۔

تیسری بات یہ ہے کہ سیاست کے سینے میں دل تو نہیں ہوتا لیکن سیاست غیر سنجیدہ چیز بھی نہیں ہے۔ سیاسی سسٹم کمزور ہو یا طاقتور، ہر دو صورتوں میں اس کا بہاؤ جاری رہنا چاہیے۔ جب بھی کسی سیاسی سسٹم کو روکا جاتا ہے، اس کا رخ موڑا جاتا ہے تو حالات قابو سے باہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ سیاست میں ذاتی انا نہیں ہونی چاہیے۔ سسٹم کو تنازعات کے ساتھ بھی نہیں چلایا جاسکتا۔ سیاسی سسٹم میں واپسی کے دروازے کھلے رکھنے ہوتے ہیں۔ یہاں پر کوئی بھی بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں جانی چاہیے۔ ٹرمپ کی تمام تر سیاست غیر سنجیدگی اور خودغرضی کے ساتھ دوسروں پر، اپوزیشن پر الزام تراشی اور ان کو گندا کرنے پر مرتکز تھی۔ اس طرز سیاست نے امریکی سسٹم میں نفرت انگیز بیج بو دیے ہیں۔ تقسیم کا زہر کبھی بھی آسانی سے نہیں نکلتا ہے۔ 20 جنوری کو ٹرمپ چلا جائے گا لیکن امریکی سسٹم میں اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ جوبائیڈن کےلیے حکومت کرنا آسان نہیں ہوگا۔

لہٰذا سیکھنے کی بات یہ ہے کہ جب آپ متنفر انداز سے، تضحیک و تذلیل کو پروموٹ کرتے ہوئے، سیاسی تقسیم کی بنیاد رکھتے ہیں تو بنیادی طور پر آپ معاشرتی تقسیم کی بنیاد رکھتے ہیں۔ سیاست میں نفرت نہیں ہوتی۔ اگر درج بالا طریق سے حکومت چلائی جائے گی تو اس کا انجام وہی ہوگا جو امریکا میں ہوا ہے۔ پرتشدد مظاہرے، سسٹم درہم برہم، ہلاکتیں اور گرفتاریاں، عالمی سطح پر مذاق جو بنے گا وہ الگ ہوگا۔

بشکریہ:سالار سلیمان،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں