کھوج بلاگ

قرض کا بوجھ اور بڑھتا بجٹ خسارہ

ملک میں کوئی نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا اور نہ ہی صنعتوں اور تعمیراتی کام کی طرف حکومت نے کوئی توجہ دی

کوئی بھی گھر، ادارہ یا ملک چلانے کےلیے ایک بجٹ بنایا جاتا ہے۔ بجٹ میں آمدن اور خرچ کا حساب رکھا جاتا ہے۔ اگر خرچ آمدن سے زیادہ ہو تو اسے بجٹ خسارہ کہا جاتا ہے۔ خسارہ پورا کرنے کےلیے گھر، ادارہ یا ملک قرض لیتا ہے۔ اس قرض کا استعمال اگر خسارہ پورا کرنے کےلیے کیا جائے تو خسارہ مسلسل بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ گزشتہ سال دسمبر تک وفاقی حکومت کی آمدن 14 کھرب رہی، جبکہ اسی دوران حکومت نے 24 کھرب کے اخراجات کیے۔ یوں صرف وفاقی حکومت کا بجٹ خسارہ 10 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے 24 کھرب خرچ کہاں کئے؟ کسی بھی حکومت کے اخراجات دو مدات میں ہوتے ہیں۔ جن میں ایک ترقیاتی شعبہ جبکہ دوسرا شعبہ خدمات سے متعلق ہے۔

ترقیاتی شعبے میں صنعتیں لگائی جاتی ہیں، نئے پروجیکٹ شروع کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح خدمات کے شعبے میں تنخواہیں اور پنشن ادا کی جاتی ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں کوئی نیا پروجیکٹ شروع کیا گیا اور نہ ہی صنعتوں اور تعمیراتی کام کی طرف حکومت نے کوئی توجہ دی۔ یعنی تعمیراتی شعبے میں اس کا کام بالکل صفر رہا۔ تو کیا 24 کھرب صرف پنشن اور تنخواہوں کی ادائیگی پر صرف ہوئے؟ اس کا جائزہ بھی آپ کے سامنے رکھتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے زیادہ تر اخراجات سابق حکومتوں کے لیے گئے قرضوں کی مد میں ہورہے ہیں۔ یعنی پہلے قرض اتارنے کےلیے نئے قرض لیے جارہے ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قرضوں کا بوجھ حکومتوں کےلیے خطرناک ہوتا ہے؟ قرض لینا کوئی بری بات نہیں، بلکہ قرض کا استعمال اور اسے اتارنے کےلیے وسائل کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔

جاپان اور امریکا جیسے صنعتی ممالک ہوں یا سعودی عرب اور وینزویلا جیسے معدنی ذخائر سے مالا مال ممالک، سبھی اپنی معیشت کو چلانے کےلیے قرض کا سہارا لیتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں جاپان سب سے زیادہ قرض لینے والے ممالک میں ہے۔ جاپان کا قرض جی ڈی پی سے 237.54 فیصد ہے۔ اسی طرح وینزویلا کا قرض جی ڈی پی کے مقابلے میں 214.15 فیصد، سوڈان 177.87 فیصد جبکہ یونان کا قرض جی ڈی پی کے مقابلے میں 174.15 فیصد ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ممالک شرح نمو کے مقابلے میں زیادہ قرض کیوں لے رہے ہیں؟ قرض لینے کے باوجود یہ ممالک ترقی کیوں کر رہے ہیں؟ دنیا بھر میں اکثر ممالک قرض لے کر بانڈز یا ترقیاتی کاموں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جی ڈی پی سے زیادہ شرح میں قرض لینے کے باوجود یہ ممالک ترقی کررہے ہیں۔

اس وقت پاکستان کے ذمے بین الاقوامی اداروں کا قرض ساڑھے چھتیس ہزار روپے سے زائد ہوچکا ہے۔ جبکہ موجودہ حکومت کے صرف ابتدائی دو سال میں گیارہ ہزار روپے سے زائد کا قرضہ لیا گیا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ قرض سابق حکومتوں کے قرض اتارنے کےلیے لے رہی ہے۔ آپ کے سامنے ماضی کی حکومتوں کا جائزہ بھی رکھتے ہیں۔

سب سے پہلے 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار کو دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی کو معاشی، سیاسی اور سیکیورٹی مسائل وراثت میں ملے۔ اس وقت ٹیکسز کی مد میں بھی حکومتی وسائل بڑھانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ سرمایہ کار بجلی اور سیکیورٹی کے باعث ملک سے جارہے تھے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور ڈو مور کے مطالبات کے باعث پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو اربوں روپے ملکی دفاع کےلیے خرچ کرنا پڑے۔ جس کے باعث حکومت کو ملکی نظام چلانے کےلیے قرض کا سہارا لینا پڑا۔ یوں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ملکی قرضوں میں 135 فیصد اضافہ ہوا۔ 2008 سے 2013 کے دوران ملک پر قرضوں کا بوجھ 6 ہزار 435 ارب سے بڑھ کر 15 ہزار 96 ارب روپے ہوگیا۔ اسی طرح جی ڈی پی کے مقابلے میں ملکی قرضوں کی شرح میں 4.4 فیصد اضافہ ہوا۔ یعنی جی ڈی پی کے مقابلے میں ملکی قرضے 67.2 فیصد ہوگئے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بیرونی قرضوں کے بجائے مقامی قرضوں کا سہارا لیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ پی پی حکومت کو کڑی شرائط کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اسی طرح 2008 سے 2013 کے دوران بجٹ خسارے میں 135 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے بعد مسلم لیگ نون اقتدار میں آئی۔ ان کے دور میں بھی بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ توقعات کے مطابق اس وقت کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس گئی۔ لیکن سابقہ ادوار کی طرح مسلم لیگ نون بھی بجٹ خسارے کے مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ ن لیگی حکومت کو بھی بجلی کے بحران کا سامنا تھا۔ آمدن کے ذرائع نہیں تھے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی حد کو چھو رہی تھیں۔ جبکہ مہنگائی کی شرح 10 فیصد تک تھی۔ لیکن اسی دوران یعنی 2015 میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ڈرامائی تبدیلی ہوئی اور تیل کی فی بیرل قیمت 50 ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہی نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں شرح سود تیزی سے گری اور پاکستان کو کم شرح پر قرض لینے میں مدد ملی۔ مسلم لیگ نون نے ان دونوں مواقع سے فائدہ اٹھایا۔ یوں 2013 سے 2018 تک ملکی قرضوں میں 79 فیصد اضافہ ہوا۔ اور ملکی قرضہ 26 ہزار 938 ارب تک پہنچ گیا۔ اس دوران جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کی شرح میں بھی 11.2 فیصد اضافہ ہوا اور یہ شرح 78.4 فیصد ہوگئی۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ نون نے اپنے دور اقتدار میں قرض کا موثر استعمال کیسے کیا؟ مسلم لیگ نون نے ملک بھر میں پاور پراجیکٹس لگائے۔ آپریشن ردالفساد کے باعث ملک سے شدت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوا۔ سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا۔ صنعتوں کا پہیہ چلنے لگا۔ ملک میں سرمایہ کاری ہونے لگی، یوں ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوئے۔ معیشت بحال ہوئی، مہنگائی کی شرح کم ہوئی اور عوام کا حکومت پر اعتماد قائم ہوا۔

2018 میں پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آتی ہے ۔ پرامن پاکستان انہیں ملتا ہے۔ سرپلس بجلی، سی پیک، بہترین انفرااسٹرکچر۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نئی آنے والی حکومت اس سے فائدہ اٹھاتی، لیکن انتظامی نااہلی اور غلط فیصلوں نے ایک بار پھر پاکستان کو پیچھے دھکیل دیا۔ صرف ڈھائی سال میں 17 ہزار 562 ارب کا قرض لے کر ریکارڈ قائم کردیا۔ اگر 2023 تک یہ پالیسیاں جاری رہتی ہیں تو یہ حکومت جاتے جاتے عوام کےلیے 60 ہزار ارب کا قرض کا بوجھ چھوڑ کر جائے گی۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملکی جی ڈی پی مائنس میں چلی گئی۔ قرض لے کر تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔ ترقیاتی پروجیکٹس نہیں لگائے جارہے۔ وزیراعظم کو غلط اعداد وشمار دیے جاتے ہیں۔ بروقت فیصلے نہ ہونے کے باعث حکومت مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ کورونا لاک ڈاؤن کے دوران تیل اور گیس کی قیمتوں میں کمی ہوئی، ہم نے بروقت فیصلے نہیں کیے، جس کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں۔ عالمی منڈی میں رسائی کےلیے کھلا میدان تھا، لیکن برآمدات کی جانب توجہ تاخیر سے دی گئی۔ ایک جانب بیرون ملک سے زرمبادلہ آنے کے شادیانے بجائے جارہے ہیں، دوسری طرف وہی پیسے دوبارہ قرض ادائیگیوں اور اجناس کی درآمد پر خرچ ہورہے ہیں۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بجٹ خسارہ کیسے پورا کیا جاسکتا ہے؟ حکومت کو اس وقت اپنی بھرپور توجہ ٹیکس کولیکشن کے نظام کو بہتر بنانے پر دینا ہوگی۔ اسی طرح ترقیاتی منصوبے لگانا ہوں گے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومت کی آمدنی بڑھے گی۔ سب سے اہم بات غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرکے بچت کرنا ہوگی۔ اس وقت حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ اس وقت عالمی ادارے قرض دینے سے انکاری ہیں، جبکہ مقامی بینک بھی مزید اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی ملک قرضوں کا مزید بوجھ اٹھانے کا متحمل ہوسکتا ہے۔ حکومت کو اثاثے گروی رکھ کر قرض لینے کی پالیسی کے بجائے اثاثے بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔ تبھی بجٹ خسارہ کم ہوگا اور ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہوگی۔

بشکریہ:سیدامجد حسین بخاری،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button