کھوج بلاگ

چور کی داڑھی میں تنکا

چوری پکڑی گئی توحکومتی سطح پرپورے زوروشورسےیہ کہا جانےلگا کہ ہم نےتونہیں کیا،اپوزیشن نے کیا ہوگا

بچپن میں یہ محاورہ کئی بارسنا اوریاد کرایا جاتا رہا، مگراس کا مطلب ہمیشہ یہی سمجھا کہ چورجب بھی چوری کرتا ہوگا توکوئی تنکا اس کی داڑھی میں پھنس جاتا ہوگا، اسی لیےایسا کہا جاتا ہے۔ میں چونکہ ایک گاؤں میں پلا بڑھا تھا جہاں تنکےتوعام ہوتےہیں اوروہاں اکثراوقات پیسہ اورقیمتی اشیا کو بھی گندم کےبھوسے(توڑی) میں چھپا کررکھا جاتا تھا۔ داڑھی بھی گاؤں کےتقریباً سارے مرد رکھتےتھے۔ اس لیےمیرے چھوٹےسےدماغ میں یہی آتا کہ چوری کرتےوقت تنکا چورکی داڑھی میں رہ جاتا ہوگا،اس لیےوہ پکڑا جاتا ہے۔ پھریوں ہوا کہ والد صاحب کا تبادلہ شہرمیں ہوگیا۔ شہرمیں جب دیکھا کہ یہاں توبغیرداڑھی والےبھی ہوتےہیں تواس محاورے کی تشریح بھی دوبارہ کرنی پڑی۔ استاد محترم نےسمجھایا کہ چورجب بھی چوری کرتا ہےتوکوئی نہ کوئی نشانی چھوڑجاتا ہے،جس سےوہ پکڑا جاتا ہے۔ اس لیےکہتےہیں کہ چورکی داڑھی میں تنکا۔ مگردماغ میں یہ بات بیٹھی نہیں،کیوں کہ جب تک کوئی عملی مظاہرہ نہ ہوتوبات سمجھ میں نہیں آتی،اسی لیے پریکٹیکل بہت ضروری ہوتےہیں ہراہم مضمون میں۔

بڑے ہونے پر اس محاورے کے کئی عملی مظاہرے بھی دیکھ لیے اور یہ بات سمجھ میں آگئی کہ واقعی چور کوئی ایسا کام کرتا ہے یا کوئی ایسی نشانی رہ جاتی ہے کہ جس سے اس تک پہنچنا یا اسے پہچاننا آسان ہوجاتا ہے۔ اور اب تو اس محاورے نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ حکومتی سطح پر بھی اس کا عملی مظاہرہ پیش کیا جارہا ہے تاکہ اب کم سن بچوں کو بھی یہ سمجھ آسکے کہ چور کی داڑھی میں تنکا کا کیا مطلب ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک جماعت نے پاکستان میں چور چور کا شور مچایا اور ہمارے پاکستانی بھائیوں نے حسب روایت ان کے پیچھے دوڑ لگادی کہ اب کے چور کو نہیں چھوڑیں گے اور اس سے چوری کا مال بھی برآمد کرکے دم لیں گے۔ کرپشن اور چوری کا یہ شور مسلسل کئی سال چلتا رہا مگر سنوائی نہ ہوئی تو عوام نے ان شور کرنے والوں کو اپنا مسیحا سمجھ کر اپنے ووٹ کی طاقت بھی ان کے ساتھ شامل کردی۔ پھر کیا تھا، ان کی حکومت آگئی اور چور پکڑے جانے لگے۔ عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ چلو اب پکڑے تو گئے ہیں ناں، تو اب پیسہ بھی برآمد ہوجائے گا۔

مگرہوا کچھ یوں کہ کچھ ہی عرصےمیں ملک میں غربت بڑھنےلگی،مہنگائی بڑھنےلگی،بےروزگاری بڑھنےلگی۔ لوگوں کےمکانات منہدم ہونے لگے اور شور یہ ڈالا جانے لگا کہ قبضہ مافیا کے خلاف جنگ ہورہی ہے، اس لیے صبر کریں۔ عوام پھر خون کے گھونٹ پی کرچپ ہوگئے۔ پھریوں ہوا کہ چوربغیروصولی کےجیلوں سےباہرجانےلگےاوران پرالزامات جھوٹےثابت ہونےلگےاورباہرکی عدالتوں میں بھی چور سچےثابت ہونےلگے تومیرے جیسےلوگ سوچنےپرمجبورہوگئےکہ کیا وجہ ہےکہ چورکی کوئی نشانی،کوئی ایسا کام،کوئی تنکا ایسا کیوں نہ ملا جس سےمال مسروقہ برآمد ہوسکے؟

اس سارے گورکھ دھندے میں تقریباً پونے تین سال کا عرصہ بیت گیا اور اس عرصے میں ریلوے تباہ ہوکر رہ گئی اور بیرونی قرضے میں ملک غوطے کھانے لگا۔ پوسٹل سروس میں پورے 80 ارب غریب پنشن والوں کے غائب ہوگئے۔ جب کہ اس کا وزیر بھی وہ جو سب سے زیادہ مال مسروقہ برآمد کرنے اور اس کے مصارف بیان کرنے میں پیش پیش تھا۔ ایف اے ٹی ایف سے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھ کر چوتھی ایکسٹینشن ملی، جس کا حکومتی سطح پر جشن منایا جارہا ہے کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کرانے میں ناکام رہا۔ حالانکہ پاکستان گرے لسٹ میں رہتے ہوئے بھی 38 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کرچکا اور ایسا کچھ نہیں کیا جاسکا کہ اسے وائٹ لسٹ میں ہی لے جاتے۔ بلکہ انٹرنیشنل ٹرانپیرنسی رپورٹ کے مطابق ملک میں کرپشن میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔

ایف بی آرنےٹیکس کی چوری روکنےکےلیے الیکٹرانک ٹریکنک سسٹم لگانےکا کنٹریکٹ ایک کمپنی کوجاری کیا اورپیپرا رولزکوایک سائیڈ پررکھ دیا۔ پیپرا نےدخل اندازی کی کہ اپنوں کونوازنےکےلیے 25 ارب روپےکا کنٹریکٹ بغیرٹینڈرکےکیسےجاری ہوا توپیپرا کوبھی ٹھیک کرنا پڑا۔ اورپھرپیپرا نےبھی ’’سب اوکے ہے‘‘ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ ملین ٹری سونامی کا حال بھی زبان زد عام ہوچکا۔ چینی، آٹا، پٹرول، گھی، آئل، چکن، انڈے، ان سب مافیازکے خلاف حکومتی جہاد جاری ہے،جس کی وجہ سے چورخوشحال پروگرام بہت ترقی کررہا ہے۔

چورچورکا شورکرتےہوئےجوحکومت میں آئےوہ اپنی داڑھی میں تنکا ایک ضمنی الیکشن میں ہی پھنسا بیٹھے۔ جب کہیں سےبھی کامیابی نہ مل سکی اوراین اے 75 ڈسکہ کےضمنی انتخاب میں دوانسانی جانوں کےنقصان کےبعد بھی جب نتائج حسب منشا نہ آئےتوپورے 20 پولنگ اسٹیشنزکا عملہ ہی غائب کردیا گیا۔ مگریہ چوری پکڑی گئی توحکومتی سطح پرپورے زوروشورسےیہ کہا جانےلگا کہ ہم نےتونہیں کیا، اپوزیشن نےکیا ہوگا۔ کیوں کہ ہم توالیکشن جیت رہےتھے۔ پھربھی دوبارہ پولنگ کرانےکوتیارہیں۔ ان کےاس بیان کو الیکشن کمیشن نےسچ سمجھ لیا یا اپنی ایمانداری کی بنا پردوبارہ الیکشن کرانےکا فیصلہ کیا تو وہی حکومت اسےچیلنج کرنےکا کہہ رہی ہے۔ اوراگراب بھی کسی کو یہ محاورہ سمجھ میں نہیں آتا تواس کی عقل پرماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

بشکریہ:محمد کامران کھاکھی،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button