کھوج بلاگ

جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ ؛حکومت بے بس

جنوبی پنجاب کے عوام کا احساس محرومی دُور کرنے کیلئے حکومت کے ایک بڑے اقدام کے طور پر اگست 2020ء میں قائم کیے جانے والے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو لاہور سیکریٹریٹ کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا، ’’شاید وزیراعظم کو علم نہیں، شاید وزیراعلیٰ کو بھی نہیں معلوم کہ کیا ہوا ہے لیکن عملاً صوبائی حکومت نے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹنے میں ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔‘‘ ذریعے کے مطابق، اس بڑے یوٹرن کے تناظر میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری سائوتھ زاہد اختر زمان کو پہلے ہی باہر تعینات کر دیا گیا ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے محکموں کے سیکریٹریز کو لاہور میں اپنی متعلقہ محکموں میں سیکریٹریز کا ماتحت بنا دیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے سیکریٹریز ایڈیشنل چیف سیکریٹری سائوتھ کے توسط سے براہِ راست وزیراعلیٰ پنجاب کو رپورٹ کرتے تھے۔ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کا قیام پی ٹی آئی حکومت کی سیاسی چال کا نتیجہ تھا جس کا مقصد جنوبی پنجاب میں علیحدہ صوبہ بنانے کا متبادل اقدام کرنا تھا۔ یہ بات پی ٹی آئی کے انتخابی منشور کا حصہ تھی لیکن حکمران جماعت کے پاس پارلیمنٹ میں اتنی عددی طاقت نہیں کہ وہ یہ وعدہ پورا کر سکے۔ اعلیٰ سطح پر مشاورت، جس میں وزیراعظم عمران خان کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے تھے، کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری (سائوتھ پنجاب) کا ایک آزاد اور علیحدہ عہدہ تشکیل دیا جائے گا جو براہِ راست وزیراعلیٰ کے ماتحت ہوں گے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری سائوتھ پنجاب کے ماتحت لاہور سیکریٹریٹ کے مساوی لانے کیلئے چند محکمے بھی بنائے گئے۔ اس کے بعد قوائد و ضوابط میں بھی ترمیم کی گئی اور ان رولز میں نئے محکموں کا بھی ذکر کیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ ملتان میں قائم کیا جائے گا جس میں 8؍ محکمے بہالپور میں ہوں گے۔ اس کے بعد زاہد اختر اعوان کو ایڈیشنل چیف سیکریٹری مقرر کیا گیا اور انعام غنی کو جون 2020ء میں ایڈیشنل آئی جی پولیس جنوبی پنجاب لگایا گیا۔ اس کے بعد جنوبی پنجاب کے نئے محکموں کیلئے سیکریٹریز کو بھی مقرر کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 17؍ ستمبر 2020ء کو وزیراعلیٰ نے ملتان کا دورہ کیا اور جنوبی پنجاب کے سیکریٹریز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اسی اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سیکریٹریٹ کی نئی عمارت کے ڈیزائن کی منظوری دی جس کی تعمیر ملتان اور بہالپور میں ہونا تھی۔ اب جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ رولز آف بزنس (قوائد و ضوابط) میں ترامیم کا انتظار کر رہا تھا تاکہ مکمل طور پر فعال ہو سکے لیکن اچانک ہی پورا منصوبہ گزشتہ ماہ درہم برہم ہوگیا۔ 21؍ فروری 2021ء کو لاہور کے مختلف محمکوں نے ’’جنوبی پنجاب کے محکموں کو اختیارات تفویض‘‘ کرنے کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں جنوبی پنجاب کے محکموں کو محدود اختیارات دیے گئے جبکہ لاہور کے محکمے بحیثیت آقا برقرار رہے۔ذرائع نے بتایا کہ نوٹیفکیشن کے ذریعے جنوبی پنجاب میں سیکریٹریز کو چند اختیارات تفویض کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی پنجاب کے سیکریٹریز کو نچلی سطح پر تقرریوں کے اختیارات دیے گئے لیکن گریڈ 19؍ اور اس سے زیادہ کے افسران کی تقرری اور تبادلے کے اختیارات لاہور کے سیکریٹریز نے اپنے پاس رکھ لیے۔ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کے کی آزادی اور خود مختاری کو قابو میں رکھنے کیلئے فیصلہ کیا گیا کہ خزانہ، پلاننگ اینڈ سروسز کے محکمے واپس لیے جائیں۔ ذریعے نے بتایا کہ نئے رولز آف بزنس میں اسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کام ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ باضابطہ طور پر اڑان بھرے، یہ سب کچھ عملی اور قانونی مشکلات کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button