کھوج بلاگ

ملک میں انتخابی نظام کی تبدیلی ناگزیر

پاکستان میں انتخابی اداروں کے کردار پر حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جو سوالات اٹھائے گئے، ان کے پیشِ نظر یہ امر ناگزیر ہے کہ اس حوالے سے وہ تمام ابہام دور کیے جائیں جو فریقین کی طرف سے سامنے آئے۔ صدحیف کہ پاکستان کے ہر انتخاب کے بعد اس پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ڈسکہ کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75کے الیکشن اور بعد ازاں سینیٹ الیکشن نے یہ ضرورت مزید عیاں کر دی کہ ہمارا سارے کا سارا انتخابی نظام موثر ترین اصلاحات کا متقاضی ہے۔ اس ضمن میں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہم تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنا چاہتے ہیں، الیکٹرول اصلاحات پر اپوزیشن آئے بیٹھے اور قانون سازی کرے۔ ہمیں الیکٹرونک ووٹنگ کی طرف بھی جانا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں الیکشن اصلاحات کی جائیں، ایسا نظام ہو جس پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے۔ اسپیکر قوم اسمبلی کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کا الیکشن پر گلہ ہے تو کیا اس بات کا چوراہوں پر فیصلہ کریں؟ راستہ تو پارلیمنٹ ہی سے جاتا ہے۔ آئینی اور انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضا ہیں۔ وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ آئینی ترامیم کے ذریعے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانا حکومت اور حزبِ اختلاف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چودھری فواد حسین نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے سینیٹ کے انتخابات کی شفافیت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اب انہیں انتخابی اصلاحات کیلئے آگے آنا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے دھاندلی پر قابو پایا جا سکتا ہے لیکن یہ راستہ اختیار کرنے کے لئے آئین میں ترمیم لازم ہے، جیسا کہ الیکشن کمیشن بھی سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کر چکا ہے، سبھی سیاسی جماعتیں شفاف انتخابات کی متمنی ہیں تو اس سے بہتر موقع شاید پھر نہ ملے، سب کو الیکڑول اصلاحات کے لئے آگے آنا ہوگا تاکہ پھر کبھی مینڈیٹ چرانے کے الزام کی بازگشت سنائی نہ دے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button