کھوج بلاگ

لیگز کا سیلاب: اخلاقیات ڈوبنے کا خطرہ

عالمی سطح پرٹی ٹوئنٹی اورٹین کرکٹ لیگزکی بہتات نےنہ صرف جنٹلمین کرکٹ کی اقدار کو داغدار کیا ہے

آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے چیف الیکس مارشل نے اپنے ایک انٹرویو میں برملا اعتراف کیا ہے کہ عالمی سطح پر ٹی ٹوئنٹی اور ٹین کرکٹ لیگز کی بہتات نے نہ صرف جنٹلمین کرکٹ کی اقدار کو داغدار کیا ہے بلکہ کھلاڑیوں میں بھی لالچ اور ہوس کے جذبات کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بکیز کےلیے ون ڈے کرکٹ کے بطن سے جنم لینے والی نئی اور جدید کرکٹ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کےلیے نہایت ہی آسان ہدف بنتی جارہی ہے۔

بقول الیکس مارشل آئی سی سی کے ایسوسی ایٹ اور چھوٹے ممبران ممالک کے کھلاڑی ان بکیز کےلیے ہاٹ کیک ثابت ہورہے ہیں، جنہیں بطور کھلاڑی انتہائی کم معاوضوں پر اپنی بہترین صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملتا ہے۔ اسی لیے بکیز کی تجربہ کار نظریں ان ہی میں اپنا شکار باآسانی ڈھونڈ لیتی ہیں۔ جس کا نتیجہ آخر میں کرکٹ کی بدنامی کی صورت میں نکلتا ہے۔ حال ہی میں اسی طرز کے ایک کیس میں یو اے ای کے شیمان انور اور محمد نوید بھی بکیز کے ساتھ رابطوں کی پاداش میں سزا پانے کا حقدار ٹھہرے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ، کرکٹ بورڈز اور ان لیگز کے منتظمین کی جانب سے ٹورنامنٹ کی شفافیت پر لاکھوں ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود بھی جب کھلاڑیوں کی سوچ اخلاقی گراوٹ کا شکار اور اعتماد متنزل ہورہا ہے اور بکیز کے حوصلے مزید بلند ہوتے جارہے ہیں تو پھر لاکھوں ڈالرز کا زیاں کیوں کیا جارہا ہے؟ کیا ہم اسے بکیز کی فتح اور اینٹی کرپشن یونٹ کی ناکامی کہہ سکتے ہیں؟ یا پھر اس کا الزام اس قسم کی لیگز کے انعقاد کے اجازت نامے دھڑا دھڑ تقسیم کرنے والی آئی سی سی کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے؟

شاید میری اس بات سے بہت سے قارئین متفق نہ ہوں مگر تاریخ کے ابواب کی ورق گردانی کی جائے تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ کرکٹ میں میچ فکسنگ کا عفریب بہت پرانا ضرور ہے مگر اس کو جلا بخشنے میں مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جسے شروع ہوئے ابھی دو عشرے بھی نہیں ہوئے۔ اس سے قبل بھی میچ فکسنگ کے اسکینڈلز میڈیا کی زینت بنے ہیں مگر اس وقت ضمیر فروشی کی تمنا کرنے والے جنٹلمینز کی تعداد بہت کم ہوتی تھی۔

نوے کی دہائی کے آغاز میں جب آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے جس جدید اور رنگین انداز میں پہلی مرتبہ کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی کی تھی تو اس ورلڈ کپ نے ون ڈے کرکٹ کی کایا ہی پلٹ دی تھی۔ نوے کی دہائی کے آخری 8 سال میں ون ڈے کرکٹ نے اس زمانے کی سست اور پھیکی ٹیسٹ کرکٹ کو چاروں شانے چت کردیا تھا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 92 کے ورلڈ کپ کے بعد آئی سی سی کے ممبران نے اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھانے کےلیے ٹیسٹ کرکٹ سیریز کے باہمی مقابلوں کے ساتھ ساتھ ہونے والے ون ڈے کرکٹ کے مقابلوں کو روایتی انداز سے ہٹ کر تیسری ٹیم کی شمولیت کو لازم و ملزوم بنایا جاتا تھا اور اسے اسپانسر یا مختلف نام دے کر بے شمار ٹورنامنٹ کرائے گئے، جو اس سے قبل صرف آسٹریلیا ہی کی ملکیت کہلاتا تھا۔

ہم کہہ سکتے ہیں کہ نوے کی دہائی میں ماسوائے اے سی بی کے، تمام کرکٹ بورڈز نے بھی آسٹریلیا کی طرز پر رنگین لباس اور سفید گیند کا بے تحاشا استعمال کیا، جس سے نہ صرف کرکٹ کی ترویج اور کھلاڑیوں کی آسودگی میں بھی اضافہ ہوا، بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں اس طرز کی کرکٹ اور رنگینی نے شائقینِ کرکٹ کو بھی اپنی جانب راغب کیا۔ اور یوں جنوبی ایشیا خاص طور پر انڈیا اسی عشرے میں آئی سی سی کےلیے سونے کی چڑیا ثابت ہوا اور ون ڈے کرکٹ ٹورنامنٹس کی مقبولیت نے ٹی وی رائٹس کی مد میں آئی سی سی کی تجوریوں کے منہ لبالب بھر دیے۔

یہی وہ دہائی ہے جب ون ڈے کرکٹ کے گلیمرائز ہونے اور اس کی مقبولیت نے بکیز کو اپنی جانب متوجہ کیا اور کھلاڑیوں کو اپنی انگلیوں پر خوب نچایا۔ سلیم ملک، محمد اظہرالدین، شین وارن، مارک وا، ہرشیل گبز، ہینسی کرونیے فکسنگ کیس وغیرہ، یہ سب نوے کی دہائی میں میڈیا کی زینت بنے۔ مگر یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ فکسنگ کے اس منہ زور عفریت کو روکنے کےلیے آئی سی سی اور تمام کرکٹ بورڈز نے اس زمانے میں کھلاڑیوں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ جس سے یہ واقعات ختم تو نہ ہو سکے مگر کسی حد تک کمی دیکھنے میں ضرور آئی۔

بھارت میں کیری پیکر سیریز کی طرز پر متوازی اور متنازع ٹی ٹوئنٹی آئی سی ایل کی شاندار کامیابی کے بعد اس پر پابندی عائد کی گئی اور اسی طرز پر آئی سی سی کی آشیرباد سے انڈیا نے آئی پی ایل کو لانچ کیا اور یوں مختصر فارمیٹ کی اس کرکٹ نے عالمی کرکٹ کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔ جس کے بعد آہستہ آہستہ تمام کرکٹ بورڈز نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ آئی سی سی نے بھی بے تحاشا دولت کی آمد پر اپنی آنکھ اور کان دونوں بند کرلیے۔ نجی پروموٹرز نے اس دکان کی آمدنی بڑھانے کےلیے اس مختصر فارمیٹ کو مزید مختصر کردیا اور ٹین کرکٹ بھی متعارف کرادی ہے۔ اب وہ کھلاڑی جو قومی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتے، انہوں نے بھی اس کرکٹ کو ہی اپنا ناخدا سمجھ لیا ہے۔ جبکہ ان لیگز کی بھرمار سے بکیز کےلیے اپنے شکار ڈھونڈنا اب نہایت آسان ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس جدید کرکٹ میں جدید فکسنگ کے انداز بھی اپنا لیے ہیں، جس کا اعتراف خود آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے چیف الیکس مارشل نے بھی کیا ہے۔

آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز لاکھ کوشش کریں مگر اب فکسنگ کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے۔ بار بار اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مار کر اس زخم پر مرہم لگانا عقلمندی نہیں ہے۔ کرکٹ کو بچانے کےلیے ٹیسٹ، ون ڈے اور مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں توازن وقت کی اہم ضرورت ہے. اور مختصر فارمیٹ کی کرکٹ کی بہتات کے سامنے بند باندھنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ لیگز کے چکاچوند اور پرکشش معاوضوں اور بکیز کی دلیرانہ آفرز کی وجہ سے ہمیں اصل کرکٹ کےلیے مستقبل میں کھلاڑی بھی میسر نہیں ہوں گے۔

بشکریہ:عمران اقبال قائم خانی،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button