کھوج بلاگ

پانی جیسی رحمت، بن نہ جائے زحمت

جب تک ہم پانی کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم اس رحمت کی قدر نہیں کریں گے

یہ تو آپ نے اکثر سنا ہوگا، جب زیادہ بارش ہوتی ہے، تو زیادہ پانی آتا ہے، جو بعد میں زحمت بن جاتا ہے۔ اگر دستیاب نہ ہو تو پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ جب کہ گرمیوں کے موسم میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوجاتی اور دوسری جانب ٹینکر مافیا بھی سرگرم ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ پانی ایسی نعمت ہے، جو زیادہ ہو یا کم ہو پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ لیکن اعتدال سے استعمال اور اِسے محفوظ کیا جائے، تو پھر یہ رحمت زحمت نہیں بنتی۔

جب تک ہم پانی کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم اس رحمت کی قدر نہیں کریں گے۔ اگر ایشیا اور افریقہ کی بات کی جائے، تو تقریباً 78 فیصد آبادی پانی کے مسائل کا شکار ہے۔ جس کی وجہ خطے میں صنعتی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی، ناکام پالیسیاں اور خراب شہری انفرااسٹرکچر ہے۔ جبکہ پینے کا صاف پانی ہر انسان کےلیے ضروی ہے، تو دوسری طرف آلوده پانی کی وجہ سے انسانی جانوں کو خطرہ ہے۔ کیونکہ ایشیا میں کئی نہریں صنعتی فضلے اور گندے پانی سے آلودہ ہوچکی ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا کی 10 آلودہ نہروں میں سے صرف 8 نہریں براعظم ایشیا میں واقع ہیں، جس میں انڈس نہر اور گنگا نہر شامل ہے۔

پانی وہ واحد مائع ہے، جو انسانی صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ جس وجہ سے دنیا میں تقریباً 20 کروڑ افراد آلوده پانی پینے سے ہیضے، دست، پولیو، ٹائیفائیڈ اور پانی سے پیدا ہونے والی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ پانی کے فقدان کی وجہ سے صحت، غذا کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو غربت کے خاتمے کےلیے معاشی ترقی میں ایک رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ جس سے سماجی ہم آہنگی ختم ہوتی جاتی ہے، جو انسانی حقوق کے حصول کےلیے ترقی پذیر ممالک میں بڑا مسئلہ ہے۔ اسی وجہ سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں رسمی طور پر صاف پانی کی فراہمی کو انسانی حقوق میں جولائی 2010 میں شامل کیا۔ اس ضمن میں قرارداد 64/292 کے ذریعے پینے کا صاف پانی اور صفائی کو انسانی حقوق کےلیے ضروری قرار دیا گیا۔

جبکہ Sustainable Development Goal کا یہ ایجنڈا ہے کہ 2030 تک تمام افراد کےلیے صاف پانی مہیا ہو۔ یہ ہی وجہ ہے ورلڈ بینک نے بتایا کہ کروڑوں افراد کے پاس پینے کا پانی نہیں ہے اور 20 کروڑ سے زیادہ افراد صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ ایشیا میں 7 کروڑ افراد صاف پانی سے محروم ہیں۔

اگر ہم پاکستان کی بات کریں، تو پاکستان میں پانی کا بحران سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے، جس کا دنیا میں 13 واں درجہ ہے، جبکہ بھارت کا 14 واں درجہ ہے۔ یہ درجہ بندی ورلڈ ریسورس انسٹیٹیوٹ نے جاری کی ہے۔ جبکہ بڑے پیمانے پر پاکستان میں پانی کی دستیابی کم ہوتی جارہی ہے۔ جس کی اہم وجہ بڑھتی ہوئی آبادی اور شہری آباد کاری ہے، جس وجہ سے پانی کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ مگر ہمارے پاس پانی کو محفوظ کرنے کی بھی کوئی خاص حکمت عملی نہیں ہے۔

اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس پانی محفوظ کرنے کی صلاحيت 30 دنوں سے بھی کم ہے، جبکہ بھارت تقریباً 200 دن تک کا پانی اپنی نہروں میں محفوظ کرسکتا ہے، اور امریکا 900 دن تک کا پانی محفوظ کرسکتا ہے۔ یہ انکشاف ورلڈ بینک نے کیا ہے۔

پاکستان میں موسم گرما میں پانی کا بحران شدت اختیار کرجاتا ہے لیکن حکومت اس بارے میں پالیسیاں مرتب تو کرتی ہے، مگر عوام کو ان کا فائدہ حاصل ہوتا نظر نہیں آتا۔ جب کہ ساتھ ہی ساتھ عوام کی بھی ذمے داری ہے کہ اس نعمت کو احتیاط سے استعمال کریں اور اس کو ضائع کرنے سے بھی پرہیز کریں۔ جب ہی یہ رحمت زحمت نہیں بنے گی۔

بشکریہ:خطیب احمد،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button