کھوج بلاگ

بھاگتے بھوت کی لنگوٹی ہی سہی

یوسف رضا گیلانی ایک ’’پیراشوٹر‘‘ اوردوبارہ منتخب ہونےوالےچیئرمین سینیٹ کےسامنے اپنی ’’عرضی‘‘ لیے نظر آئے

سیاست میں بھی کیسے کیسے منظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تازہ ترین منظر میں پاکستان کے سابق وزیراعظم، اسپیکر اور انتہائی زیرک سمجھے والے سینئر سیاستدان یوسف رضا گیلانی ایک ’’پیراشوٹر‘‘ اور دوبارہ منتخب ہونے والے چیئرمین سینیٹ کے سامنے اپنی ’’عرضی‘‘ لیے نظر آئے۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈری کےلیے گیلانی ان ہی کے چرنوں میں جا بیٹھے، جن کے انتخاب کو گیلانی اور ان کی پارٹی ابھی چند دن قبل ہی ایک ناجائز، جعلی اور ’’اِن کیمرہ‘‘ قرار دے کر عدالت میں بھی لے گئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے مسلم لیگ ن کے اس دعوے سے کہ اپوزیشن لیڈری وعدے اور قاعدے کے مطابق ن لیگ کا حق تھی، سے بھی صرفِ نظر کیا۔ ویسے وعدہ اگر کوئی تھا بھی تو زرداری ڈاکٹراٰئن کے مطابق ’’وعدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘۔ گیلانی سمیت پیپلز پارٹی کے وفد کی ’باملاحظہ درخواست‘ کو چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے اپنی سردارانہ، خوشدلانہ اور مفاہمانہ چیئرمین شپ کو جاری رکھتے ہوئے بخوشی قبول کیا اور دونوں ہاتھوں سے سابق وزیراعظم کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈری کی ’’خلعتِ فاخرہ‘‘ عطا کی۔

85 کے الیکشن کے زمانے میں جب ضیاء الحق کی فوجی حکومت کو پیپلز پارٹی کے مقابلے اور ایک ’نئی سیاست کی سوچ‘ کے وقت ’ہونہار بروؤں‘ کی تلاش تھی تو اس ’کارِخیر فہرست‘ میں یوسف رضا گیلانی کا نام نمایاں تھا، جو کہ اپنی پرسنالٹی، ہونہاری اور مضبوط خاندانی پسں منظر کی بنا پر تلاشِ کنندان کےلیے آئیڈیل تھے۔ یہ اور بات ہے کہ ایک غیر سیاسی خاندان کے ہونہار اور جاگیردار کے بجائے ایک انڈسٹریلسٹ نواز شریف نے جہاں چٹھہ، وٹو اور گجرات کے چوہدریوں وغیرہ کو پیچھے چھوڑا، وہیں گیلانی بھی وزارتِ اعلیٰ کی متمکن نشست پر رونق افروز نہ ہوسکے۔ البتہ آغازِ سیاست اور جوانی میں ہی مرکزی کابینہ میں شامل ہوگئے۔ اور تو اور جب نواز شریف کے ’پر پرزے‘ نکلنے لگے تو پگارا کے ذریعے پنجاب بھی بھیجے گئے، لیکن اسی تیزی سے واپس بھی بلا لیے گئے کہ مقصد صرف ’ڈراوا‘ تھا۔

ضیاء الحق کے بعد ایک نئی جمہوری سیاست کا اسکوپ تھا۔ گیلانی کی لبرل شخصیت اور نظریہ یا بے نظیر کی کرشماتی شخصیت، یوسف رضا گیلانی نے پیپلز پارٹی میں چھلانگ لگائی اور جنوبی پنجاب کی اس اہم سیاسی شخصیت کو اس حد تک ہاتھوں ہاتھ لیا گیا کہ بینظیر کے دوسرے دورِ حکومت میں وہ اسپیکر نیشنل اسمبلی کی نشست پر فروکش ہوئے۔ عوامی حلقوں میں اپنی وجیہہ شخصیت اور گفتگو، جبکہ سیاسی حلقوں میں اپنی اتھارٹی اور مفاہمانہ پالیسی کے باعث مقبول رہے۔ اسی چیز کو انہوں نے کافی حد تک اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں بھی نبھایا۔ اسٹیبلشمنٹ سے ہم آہنگی کے ساتھ سیاسی مفاہمت اور جمہوریت سے ظاہری کمٹمنٹ یوسف رضا گیلانی کا ایک خاص وصف رہا ہے اور ملکی سیاست میں یہ امتیاز انھی کو حاصل ہے۔

یہ بات سراہی جانی چاہیے کہ اسپیکر سے وزیراعظم تک کا سفر یوسف رضا گیلانی نے ایک آزمائش میں گزارا، چاہے بے نظیر کی عدم موجودگی اور آصف زرداری کی نظر بندی کے دوران نواز شریف ہٹاؤ تحریک میں قیادت ہو یا مشرف دور کی اسیری، انھوں نے ثابت قدم رہتے ہوئے ’چاہ یوسف‘ کی کتابی صدا بلند کی۔ جب رہا ہو کر آئے تو ایک ٹی وی انٹرویو میں صحافی افتخار احمد کے اس ’نکشاف تلے سوال’ پر ’’آپ وزیراعظم کب بن رہے ہیں؟‘‘ کا جواب ناں میں آیا۔ لیکن انتخاب سے پہلے بے نظیر کے اندوہناک قتل کے بعد سوال صحیح اور جواب غلط ثابت ہوا۔ گیلانی کو امین فہیم اور دوسروں پر فوقیت دیتے ہوئے پاکستان کے وزیراعظم کےلیے نامزد کیا گیا۔ اِس زرداری دور میں یوسف رضا ایک ’’کیریئر وزیراعظم‘‘ کے طور پر اپنی کریز میں ہی رہے۔ کبھی ’ریاست کے اندر ریاست‘ کا چوکا لگایا بھی تو ایکسٹینشن دے کر واپس کریز میں آئے۔ آخر میں زرداری کا ساتھ دیتے ہوئے افتخار چوہدری کے ایڈونچر کی بدولت توہین عدالت کی سزا پاکر رخصت ہوئے۔

اگرچہ ’’گیلانی کی واپسی‘‘ سے ہلچل مچی لیکن موجودہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے بارے میں امید کم ہی تھی کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے وہ مسلم لیگ ن اور فضل الرحمٰن کے ساتھ نظام کو تلپٹ کرنے میں ساتھ دے گی۔ رہی سہی کسر اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کے واضح اعلان اور ’زرداری تقریر لیکس‘ نے پوری کردی۔

خیر پہلے ہی سیاست کی حرکیات رکھنے والوں کےلیے یہ عبث تھا کہ پیپلز پارٹی جو باقاعدہ اس نظام میں حصے دار ہے اور جس کی لگام ابھی تک زرداری کے ہاتھوں میں ہے، وہ کوئی ایسا انقلابی قدم اٹھائے گی۔ پیپلز پارٹی سے ایسا مطالبہ کرنے والے فضل الرحمٰن نے خود مشرف دور میں متحدہ مجلسِ عمل کے پلیٹ فارم سے نظامِ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے آخر وقت تک استعفے لٹکا کر اور اپوزیشن کو بیوقوف بناکر اس حکومت کو دوام بخشا تھا۔ تاہم پیپلز پارٹی کو یہ جھٹکا ضرور لگا کہ زرداری تلے جماعت کو خاطر خواہ امید تھی کہ پارٹی سندھ حکومت کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ خاموش مفاہمت اور پی ڈی ایم کے کندھوں طفیل گلگت بلتستان کی حکومت سے سینیٹ تک اپنے دائرے کو وسیع کرلے گی، لیکن اس ’’ہم آہنگی‘ کو عمران خان کی ’تڑیوں‘ اور جارحانہ پالیسی نے پارٹی کو سندھ تک ہی محدود رکھا۔

اگرچہ یوسف رضا گیلانی کے توسط سے سینیٹ انتخابات میں حکومت کو وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی شکست پر زوردار جھٹکا بھی لگا، لیکن سابق وزیراعظم اور وزارت عظمیٰ کی قربانی دینے والے گیلانی کی واپسی کم سے کم سے چیئرمین سینیٹ کی سیٹ سے مشروط بھی تھی اور تقاضا بھی۔ لگتا بھی یہی تھا کہ حفیظ شیخ جو کہ گیلانی کی کابینہ میں بھی وزیر تھے اور جن کو گیلانی نے درخت پر چڑھنا نہیں سکھایا تھا، کو شکست دے کر چیئرمین سینیٹ کی پوزیشن پر براجمان ہوں گے۔ لیکن سات ممبروں نے ووٹ گیلانی کو دینے کے بجائے گیلانی ’پر‘ دے دیے۔

انھی ’’پروں‘‘ نے گیلانی کے پر کاٹ دیے اور گیلانی اور ان کی پارٹی پی ڈی ایم کو بائی پاس کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈری کی لنگوٹی کےلیے پہنچ گئی، اسی سے جس کو وہ ووٹ چوری کا موردِ الزام ٹھہرا رہے تھے۔ بہرحال یہ لنگوٹی بھی ایک بااختیار صوبائی حکومت اور نیب کے واروں سے محفوظ رکھنے میں کام تو آئے گی۔

بشکریہ:منصور ریاض،روز نامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button