کھوج بلاگ

رواں سال کےدوران اسٹریٹ کرائمزمیں خطرناک اضافہ

 رواں سال کی پہلی سہ ماہی کےدوران گزشتہ برس کےاسی عرصے کےتمام ریکارڈز ٹوٹ گئے

جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے عسکری دھڑوں کے خلاف آپریشن میں کامیابی گنواتے ہیں وہیں شہر میں اسٹریٹ کرائم کی لعنت مین خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔   رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران گزشتہ برس کے اسی عرصے کے تمام ریکارڈز ٹوٹ گئے اور مسلح راہزنی اور لوٹ مار کی کوشش میں مزاحمت پر 30 سے زائد افراد کو قتل کردیا گیا۔

سال 2021 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران کراچی کے شہری مسلح لوٹ مار اور بندوق کی نوک پر چھینا جھپٹی کے واقعات میں کروڑوں روپوں سے محروم ہوئے اورشہر کا کوئی ضلع ان مجرموں سے محفوظ نہیں ہے۔ سیکیورٹی انتظامیہ کےمرتب کردہ اورحاصل کردہ اعداد وشمارظاہر کرتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات میں اضافے اور مین اسٹریم میڈیا میں اسٹریٹ کرائم کی بڑے پیمانے پر کوریج اور عوام کی بڑھتی ہوئی شکایات کے باوجود تینوں مہینوں میں ان واقعات میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔

لوٹ مار کے دیگر طریقوں میں بندوق کی نوک پر موبائل فون اور موٹر بائیک چھیننے کی وارداتوں میں اضافہ ہوا جو ظاہر کرتا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کی رٹ قائم کرنے پر گرفت تیزی سے کھو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ کے عرصے میں اسلحے کے زور پر شہر کے مختلف علاقوں سے ایک ہزار 55 موٹر بائیکس چھینی گئیں اور متختلف علاقوں میں 10 ہزار 916 موٹر سائیکلز چوری ہوئیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 525 موٹر بائیکس چھینی جبکہ 7 ہزار 414 چوری ہوئی تھی جو حیرت انگیز رفتار سے جرائم کے رجحان میں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

اسی طرح 2021 کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران شہر مختلف علاقوں سے 5 ہزار 982 موبائل فون چھینے گئے جس سے گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران مسلح لوٹ مار کے نتیجے میں 5 ہزار 105 افراد کے موبائل فونز سے محروم ہونے کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ علاوہ ازیں رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں 4 پہیوں والی گاڑیاں چھیننے اور چوری ہونے کے اعداد و شمار بھی بلند رہے اور گزشتہ سال کے 472 واقعات کے مقابلے رواں برس 477 کیسز رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ شہر کے ابتدائی 3 ماہ میں شہر میں ایک اور خطرناک مجرمانہ رجحان دوبارہ سامنے آرہا ہے اور کراچی پولیس نے اغوا برائے تاوان کے 5 مقدمات درج کیے۔

حالانکہ گزشتہ برس کےاس عرصےکےدوران اس طرح کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ اس کےعلاوہ 2021 کی پہلی ساہ ماہی میں ایک بینک ڈکیتی بھی دیکھنےمیں آئی اورمارش میں نیوکراچی کےعلاقےمیں مسلح افراد سیکیورٹی گارڈزکوبندوق کےزورپر یغمال بنا کر 10 لاکھ روپےلےاڑے۔ سال کےابتدائی 3 ماہ کےعرصےمیں 98 افراد قتل ہوئےجس میں 37 راہزنی کی وارداتوں میں مزاحمت پرمارے گئے۔

بشکریہ روزنامہ ڈان

 

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads. because we hate them too.