کھوج بلاگ

کیا آخری جنگ قریب ہے؟

مشرق وسطیٰ تقریباً ایک صدی سے ساری دنیا کےلیے ایک ممکنہ خوفناک جنگ کا نقطہ آغاز بنا رہا ہے

مشرق وسطیٰ تقریباً ایک صدی سے ساری دنیا کےلیےایک ممکنہ خوفناک جنگ کا نقطہ آغازبنا رہا ہے۔ اگرسنجیدگی سے اس مسئلے کو دیکھا جائےتواس مسئلےکی بنیاد مذہبی سے زیادہ معاشی ہے۔ پچھلی صدی میں جبکہ مغرب نے تقریباً تمام دنیا پر قبضہ کر رکھا تھا، اس وقت وہ آئندہ سو سال کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انھیں اپنی معاشی ترقی کےلیے جس توانائی کی ضرورت تھی وہ تیل کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں موجود تھی۔ یہ خطہ مغرب سے اتنے فاصلے پر تھا کہ وہ اس پر براہ راست اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھ سکتے تھے۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ آج نہیں تو کل انھیں اپنی کالونیوں کو آزادی دینی پڑے گی۔

یہاں قدرت کی کرم نوازی بھی مظلوموں کا ساتھ دینے پر آمادہ نظر آئی کہ اس نے ایک ایسا لیڈر مغرب میں ہی پیدا کردیا جس نے اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ لیڈر جرمنی میں پیدا ہوا۔ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا کیا، کیا نہیں کیا، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن ہٹلرکے یہودیوں کے خلاف اقدامات نے انھیں برطانیہ اور امریکا کا اتحادی بنادیا۔ یہودیوں نے بے شمار افرادی قوت بھی ان دونوں ممالک کو فراہم کی اور جرمنی میں ان کےلیے جاسوسی کے فرائض بھی انجام دیے۔

جب امریکا اور برطانیہ یہ جنگ جیت گئے تو یہودیوں نے ان سے اپنی خدمات کا صلہ بھی مانگ لیا۔ ہمارے ملک کی اکثر آبادی کو تو یہ بات بھی نہیں معلوم ہے کہ دوسری جنگ عظیم کا فاتح امریکا یا برطانیہ نہیں بلکہ روس تھا۔ سب سے پہلے روسی افواج ہی جرمنوں کو مارتی ہوئی برلن میں داخل ہوئی تھیں۔ لیکن چونکہ بعد میں ساری پروپیگنڈا مشینری مغرب کے ہاتھ میں چلی گئی، اس لیے وہ خود فاتح بن بیٹھے۔

یہاں یہودیوں نے ایک تیر سے دو شکار کیے۔ وہ قوم جو صدیوں سے کسی مملکت کے بغیر ایک قوم کی صورت میں جی رہی تھی، انھیں نہ صرف اپنے لیے ایک ملک ملنے کی راہ نظر آئی بلکہ اپنی پسند کی سرزمین بھی منتخب کرنے کا اختیار مل گیا۔

یہ بات تو ہر قرآن پڑھنے والا مسلمان بھی جانتا ہے کہ یہودیوں کا آبائی وطن موجودہ فلسطین ہی ہے۔ یہودیوں نے اپنے آبائی وطن کا انتخاب کیا۔ اب اسے قدرت کی ستم ظریفی کہیں کہ وہاں پہلے سے جو قوم آباد تھی وہ مسلمان تھے، جو کہ مغرب کے غلام تھے۔ غلاموں سے کون پوچھتا ہے کہ انھیں کیا پسند ہے اور کیا ناپسند ہے۔ اس لیے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر یہودیوں کو یہاں بسا دیا گیا۔ اس طرح مغرب کو بھی دو فائدے حاصل ہوئے۔ ایک تو انھیں خطے میں ایک مضبوط اتحادی مل گیا، دوسرے انھیں خطے کے دوسرے ممالک پر نظر رکھنے کےلیے ایک مستقل ٹھکانہ بھی مل گیا۔

آہستہ آہستہ یہودیوں نے پوری مغربی اور امریکی معیشت پربھی قبضہ کرلیا- آج صورت حال یہ ہے کہ مغرب چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کے خلاف زبان نہیں کھول سکتا۔ ایک تو مغرب کی پوری صحافت کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، جو اسرائیل کے تمام مظالم کو بھی اپنے دفاع میں کی جانے والی کارروائیاں قرار دیتی ہے۔ اس لیے مغرب میں بسنے والا ایک عام آدمی اصل صورت حال سے کبھی واقف نہیں ہوپاتا ہے۔ اگر کوئی مغربی صحافی صحیح صورت حال کی عکاسی کردیتا ہے تو اس کی ملازمت ختم کردی جاتی ہے۔

یہودیوں نے جس طرح بےحیائی اور بے راہ روی کو مغرب میں فروغ دیا، جس طرح وہاں خاندانی نظام کو تباہ کروایا، اس کی وجہ سے آج ہر فرد مغرب میں تنہا ہے، بے یار و مددگار ہے۔ وہاں باپ اپنی بالغ اولاد جو بے روزگار ہوجائے اس کو بھی سپورٹ نہیں کرتا۔ ماں اپنی اولاد کو کوئی مدد نہیں دیتی۔ اس لیے وہاں انسان کا سب سے بڑا خوف بیروزگاری ہے، جس سے ہر شخص بچتا ہے۔

مغرب میں بیروزگار ہونے کا مطلب صحیح معنوں میں فٹ پاتھ پر آجانا ہوتا ہے۔ کیونکہ آمدنی بند ہونے کی صورت میں سر چھپانے کی جگہ بھی چلی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی بینک سے قرض لے کر ہی لی گئی ہوتی ہے۔ بینک کی قسط بند ہوتے ہی گھر بھی ہاتھ سے چلا جاتا ہے۔ یا اگر آپ کرائے پر رہتے ہیں تو مالک مکان نکال باہر کرتا ہے۔ اکثر صورتوں میں بیوی بھی چھوڑ کر چلی جاتی ہے، کیونکہ وہ بھی آپ کا بوجھ اٹھانے پر راضی نہیں ہوتی ہے۔

امریکا اور یورپی اقوام نے خطے کے دوسرے ممالک کےلیے ایک مستقل دردسر اسرائیل کی شکل میں پیدا کردیا۔ اس کے دو فائدے انھیں حاصل ہوئے۔ ایک تو عربوں کو اسرائیل کے خوف میں مبتلا کرکے اپنا بے شمار اسلحہ انھیں بیچ دیا، جس سے عربوں کی دولت ان کی جیبوں میں چلی گئی۔ دوسرے ان ممالک میں مستقل اڈے بھی حاصل ہوگئے۔ جس کی وجہ سے ان ممالک کے دفاع کے نام پر بے شمار سیاسی اور اقتصادی فوائد بھی انھیں حاصل ہوگئے۔ لیکن جیسے جیسے عرب ممالک میں تیل کے ذخائر ختم ہوتے جارہے ہیں، ویسے ویسے امریکا اور یورپ کی دلچسپی اس خطے میں کم ہوتی جارہی ہے۔ مزید یہ کہ تیل کی اہمیت بھی معیشت کےلیے کم ہوتی جارہی ہے۔ اب ساؤتھ چائنا سی اور سینٹرل ایشین ممالک میں ان کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔ جہاں توانائی کے محفوظ ذخائر موجود ہیں۔

جب تک امریکا اور یورپ کی دلچسپی اس خطے میں موجود تھی، اس وقت تک وہ کسی بھی بڑی جنگ کو روکنے کا سبب بنی رہی تھی۔ کیونکہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں تیل کی ترسیل رکنے کا خطرہ بھی موجود رہتا تھا۔ لیکن اب جبکہ دلچسپی کم ہوگئی ہے تو جنگ کے بادل بھی علاقے پر گہرے ہوتے جارہے ہیں۔

آج عربوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جنگ کے نام سے ہی کانپ جاتے ہیں کیونکہ جو آرام و آسائش انھیں اپنی دولت کی وجہ سے حاصل ہوگئی ہے، وہ انھیں کسی بھی جنگ میں کودنے سے باز رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جلد از جلد اسرائیل کو تسلیم کرکے کسی بھی ممکنہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ اس کےلیے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن پاکستان اور ترکی میں بڑھتی ہوئی مذہبیت اور فوجی طاقت ان دو ممالک کو اسرائیل کے خلاف کھڑا کررہی ہے۔ موجودہ بحران میں بھی پاکستان اور ترکی کے اقدامات نے اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کیا تھا۔ ورنہ عرب ممالک کو تو اب اسرائیل کسی خاطر میں نہیں لاتا ہے۔

اب یہ خطہ صحیح معنوں میں ایک مذہبی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کیونکہ اقتصادی اہمیت اس خطے کی اب وہ نہیں رہی ہے۔ مسلمانوں کو تو مختلف احادیث سے یہ بات تقریباً ازبر ہوچکی ہے کہ دنیا کی آخری جنگ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہی لڑی جائے گی۔ دوسری طرف یہودی بھی چونکہ تمام دنیا کی معیشت پر قابض ہوچکے ہیں، اس لیے وہ بھی امریکا سے سپر پاور کا تاج چھین کر اپنے سر پر سجانا چاہتے ہیں۔ جس کےلیے وہ امریکا کو مختلف جنگوں میں دھکیل کر اسے اقتصادی طور پر اتنا کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ امریکا میں سپر پاور بننے کی سکت ہی نہ رہے۔ بہت کم لوگ ابھی یہ بات جانتے ہیں کہ دنیا کی اکثر ملٹی نشنل کمپنیاں اپنے ہیڈ آفس تل ابیب منتقل کرنے والی ہیں۔ یہودیوں کو سپر پاور بننے کےلیے اقتصادی طور پر مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ساری دنیا کے وسائل پر وہ پہلے ہی قابض ہوچکے ہیں۔ یہاں مسلمانوں کو صرف یہی دعا کرنی چاہیے کہ الله تعالیٰ ہمیں اس آزمائش میں ثابت قدم رکھے جو کہ اب ہمارے سامنے ہی آ کھڑی ہوئی ہے۔

بشکریہ:شہاب احمد خان،روز نامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.