کھوج بلاگ

یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے اسے اُٹھا لو

ہم کسی اور ملک میں نہیں جاتے، کسی اور کی بات نہیں کرتے، اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ یہاں کا صحافی سب سے مظلوم شخص ہے

اہل قلم اوربندوق برداروں کی ’’جنگ‘‘ آخری محاذ پرلڑی جارہی ہے۔ قلم اورکیمرے والےبندوق والوں سےخائف ہیں توزرہ بند، بکتربند اور دنیا کےجدید ہتھیاروں سےلیس سپاہی قلم کی سیاہی،مائیک سےنکلتی آوازسےپریشان ہیں۔ ایک دوسرے پرالزامات کی بوچھاڑکی جارہی ہے۔

یہ صرف پاکستان جیسے ملک میں ہی نہیں ہورہا، اپنے آپ کو مہذب کہنے والےممالک میں بھی ایسا جاری ہے۔ اہل قلم سے امریکی صدر کو پریشانی ہے تو برطانیہ کا وزیراعظم بھی ان سے بچنے کے سہارے تلاش کرتا نظر آتا ہے۔ بھارتی حکمران تو ان کو کنٹرل کرنے میں کچھ آگے ہی نکل گئے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تو بقیہ بھارت سے زیادہ خطرناک صورتحال ہے۔ اسرائیل نے تو حد ہی کردی، غزہ میں میڈیا ہاؤسز کے دفاتر کو حماس کا مرکز قرار دے کر زمین بوس کردیا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح اسرائیلی فوج ایک مائیک پکڑے خاتون کو پیٹ رہے ہیں۔

ہم کسی اور ملک میں نہیں جاتے، کسی اور کی بات نہیں کرتے، اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ یہاں کا صحافی سب سے مظلوم شخص ہے۔ حکومت کے کسی کام کی تعریف کردے تو ’’یوتھیا‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے، غلطی سے حکومت مخالف بات کردے یا کسی منصوبے یا پالیسی پر تنقید کردے تو یہ ’’پٹواری‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے، عدالت کے کسی فیصلے پر سوال اٹھا دے تو توہین کی دفعہ لگ جاتی ہے، کسی مذہبی مسئلے یا مذہبی جماعت سے اختلاف کر بیٹھے تو ’’گستاخ‘‘ قرار دے کر کردار کا قتل عام کیا جاتا ہے۔ پھر چاہے جتنی دلیلیں پیش کریں، جتنے مرضی حلف اٹھائیں، معافی نہیں ملے گی۔

سب سے ممنوعہ علاقہ فوجی چھاؤنیاں ہیں جہاں کیمرے اور مائیک لے جانے پر پابندی تو ہے ہی لیکن ان پر سوال اٹھانا بھی جرم ہے۔ کسی سابق وردی والے کی جائیداد، اس کی اولاد کی جائید ادوں یا ان کے ’’نیک اعمال‘‘ کا پوچھ لیں گے تو مسئلہ غداری تک پہنچ جائے گا، آپ بھارتی اور اسرائیلی ایجنٹ قرار دے دیے جائیں گے۔ تنبیہ کے باوجود آپ باز نہیں آتے تو بات آگے تک بھی چلی جاتی ہے۔

ایک اور ان کی مظلومیت کی وجہ ان کے وہ ادارے ہیں جن میں یہ نوکریاں کرتے ہیں۔ اداروں کے مالکان مختلف بہانے بنا کر تنخواہیں روک لیتے ہیں، ان کا معاشی قتل کرتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس کے وارث بننے سے انکار کردیتے ہیں، کوئی صحافی بڑا بول بول دے تو اپنا ادارہ بچانے کیلئے نوکری سے ہی نکال دیتے ہیں۔

صحافیوں کے پاس اوپر ایک سہارا خدا ہے تو زمین پر سوشل میڈیا۔ وہ یہ زمینی سہارا بھی چھین رہے ہیں، یہ اس بے لگام گھوڑے کو’’ریگولیشن‘‘ کے کھونٹے سے باندھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ کھونٹا اس کا اپنا ہے یا کسی اور کا دیا ہوا ہے؟ اس بحث میں نہیں پڑتے۔

یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ہر سیاہ و سفید کو ’’سب اچھا ہے‘‘ کے پیرائے میں دیکھا جائے۔ ظلمت کو ضیاء، صرصر کو صبا، پتھر کو گہر، دیوار کو دَر، کرگس کو ہُما دکھایا جائے۔ بے حال عوام کو خوشحال لکھا جائے۔ ویران گلیوں، سنسان راستوں، اجڑے چمن میں ہریالی ہی ہریالی پیش کی جائے۔ خیر یہ ان کی چاہت ہے، ایک ہماری چاہت ہے، ہوگا وہی جو ہمارے رب کی چاہت ہے۔

یہ چاہتے کیا ہیں؟ ان کی چاہت ہے کہ یہ ان قصیدہ خواں بنے رہیں، جو ہم کہیں وہی سنیں، جو ہم بولیں وہی لکھیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی سوال اٹھانے کے قابل نہ رہے، یہ چاہتے کہ کوئی دانش کی بات نہ کرسکے، یہ چاہتے ہیں کہ جو ہم کہیں اسی کو سچ سمجھ کر قبول کیا جائے۔ یہ بڑی حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔ عہد حاضر کے بچے دس سال سے پیچھے نہیں سوچتے۔ یہ بچے ’’لانگ ٹرم میموری لاس‘‘ کا شکار ہوچکے ہیں۔ 10 سال سے پیچھے ان کے دماغ بند ہوجاتے ہیں۔ پہلے کیا سے کیا ہوتا رہا ؟ کچھ بھی ان کی سمجھ میں نہیں آتا۔

یہ ایک سوچ اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا۔ اداروں کو بانجھ کرنے، ذہنوں کو قید کرنے کا کام تین دہائیاں پہلے شروع کیا گیا۔ اب اس کا پھل اٹھا رہے ہیں۔ ایک ایک کرکے عقل وشعور کی بات کرنے والے ادارے بانجھ بنادیئے گئے، اب وہ انقلابی شاعر نہیں ملیں گے جن کے ایک ایک مصرعے پر شرکاء میں زلزلہ پیدا ہوجاتا، اب وہ لکھاری نہیں رہے جن کے جملے دستور بن جاتے، اب وہ طلبا نہیں جن کے نعروں سے ایوان کانپتے تھے، اب تو تعلیمی ادارے برائلر پالنے والے مرغی فارم بن چکے ہیں جن کے تیار کردہ بچے خود اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکتے۔ ہم ایک ہجوم بن گئے ایک قوم نہ بن سکے۔

کچھ چیدہ چیدہ پرانے لوگ رہ گئے ہیں ان کو بھی بزور طاقت جھکانا چاہتے ہیں۔ ان کو ڈرایا جارہا ہے، دھمکایا جارہا ہے، پھر بھی باز نہیں آئے تو سوشل میڈیا پر رلایا جارہا ہے۔ سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے، ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے۔ یہی کام بھارت کا مودی کرتا ہے تو ہم اسے فسطائی کہتے ہیں۔ یہی کام امریکا کا ٹرمپ کرتا تھا تو ہم گالیاں دیتے، یہی کام اسرائیلی نیتن یاہو کرتا تو اسے ہم کیا سے کیا کہتے۔ ہمیں اپنا سچ سچ کیوں لگتا ہے؟ کسی دوسرے کا سچ سننے کا بھی دل گردہ ہونا چاہئے۔ بہت تلخ ہے لیکن کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ

یہ اپنی مرضی سے سوچتا ہے، اسے اُٹھا لو
’’اُٹھانے والوں‘‘ سے کچھ جُدا ہے، اِسے اُٹھا لو

وہ بے ادب اس سے پہلے جن کو اُٹھا لیا تھا
یہ ان کے بارے میں پوچھتا ہے، اِسے اُٹھا لو

اسے بتایا بھی تھا کہ کیا بولنا ہے، کیا نہیں
مگر یہ اپنی ہی بولتا ہے، اِسے اٹھا لو

جنہیں ’’اُٹھانے‘‘ پہ ہم نے بخشے مقام و خلعت
یہ اُن سیانوں پہ ہنس رہا ہے، اِسے اٹھا لو

یہ پوچھتا ہے کہ امنِ عامہ کا مسئلہ کیوں
یہ امنِ عامہ کا مسئلہ ہے، اِسے اٹھا لو

اِسے کہا تھا جو ہم دکھائیں بس اُتنا دیکھو
مگر یہ مرضی سے دیکھتا ہے، اِسے اٹھا لو

سوال کرتا ہے یہ دیوانہ ہماری حد پر
یہ اپنی حد سے گزر گیا ہے، اِسے اُٹھالو

بشکریہ : اظہرتھراج ،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.