کھوج بلاگ

پاکستان میں ریاست مدینہ کے بنیادی خدوخال

سب سے پہلےیہ بات یاد رکھنا ضروری ہےکہ ’’فلاحی ریاست‘‘ اور ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ میں بہت فرق ہے

پاکستان تقریباً بائیس کروڑ آبادی والا دنیا کا ایک بڑا ملک ہے۔ چین، بھارت، امریکا اورانڈونیشیا کےبعد آبادی کےلحاظ سےدنیا میں ہمارے ملک کا پانچواں نمبرہے، جس کودنیا کے نقشےپرنمودارہوئےتقریباً 73 سال ہونےکوہیں۔ ہمارا ملک خداداد جہاں چارخوبصورت موسموں سےلہلہاتا ہے، وہیں اس میں دریا، سمندر،پہاڑ،درخت اورہرقسم کے اناج اور پھل پھول اس کی خوبصورتی کو چارچاند لگاتے ہیں۔ ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے اس کا دفاع ویسے ہی ناقابل تسخیر ہوچکا ہے۔ اس کا جغرافیائی محل وقوع اس کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔

اتنی بڑی آبادی والے ملک میں مختلف، مذاہب، زبان، رنگ اور نسل اور مزاج کے لوگ بستے ہیں لیکن یہاں کا مذہب اسلام ہے اور یہ دنیا کا پہلا ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا۔ جس کی بنیادوں میں صرف ایک ہی نعرہ ہمیں گونجتا نظر آتا ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ اس نعرے کی بنیاد پر اپنے علیحدہ ملک کو حاصل کرنے کی جدوجہد میں لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور عزت کی قربانیاں دیں، تاکہ ان کی نسلیں اپنے ملک میں آزادی کے ساتھ اسلام کے اصولوں کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔

لیکن آج تقریباً 73 سال بعد ہم اپنی منزل کی تلاش میں ہیں، یہاں نہ تو اسلام کی تعلیمات کو پوری طرح نافذ کیا جاسکا اور نہ ہی اس ملک کی قومی زبان کو سرکاری اور دفتری زبان بنایا جاسکا۔ 1970 کی دہائی میں ایک ادارہ ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے نام سے بنایا گیا تھا، جس کا مقصد ملک میں قرآن و سنت کے خلاف قوانین کی نشاندہی اور آئندہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن آج تک اس حوالے سے کیا ہوا؟ اس کے اثرات معاشرے پر کماحقہ نظر تو نہیں آتے کیونکہ ہمارا آج کا معاشرہ کسی بھی صورت ایک مسلمان کی وہ تصویر دکھانے سے قاصر ہے جہاں سے ریاست مدینہ کی ہواؤں کی خوشبو آتی ہو۔ جہاں واقعی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی دکھائی دیتا ہو۔

پاکستان تحریک انصاف نے جب سے حکومت سنبھالی ہے اس کے قائد عمران خان نے اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانے کا عزم کئی بار دہرایا ہے اور اپنی کئی تقاریر میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا ہے کہ وہ اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے میں پرعزم ہیں اور اس حوالے سے وہ کئی بار ریاست مدینہ کے بنیادی اوصاف بھی بیان کرچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور اس کے قائد عمران خان پر ان کی حکومتی کارکردگی پر کوئی جس حوالے سے جتنی بھی تنقید کرنا چاہے کرسکتا ہے لیکن کم از کم اس بات پر تو ان کو داد تحسین دینی چاہیے کہ وہ آج کی لبرل سوسائٹی میں ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اور پاکستان کو اسی کی نہج پر چلانے میں پرعزم ہیں۔ تو ہمیں نیتوں کا حال اللہ پر چھوڑ دینا چاہیے اور کسی کی نیت کو کریدنے سے کہیں بہتر ہے کہ ہم کسی کے اچھے کام میں اس کی ہر ممکن حد تک اس کی مدد کریں۔

البتہ اس بات پر ضرور بحث کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے ابھی تک اس حوالے سے کیا ٹھوس اقدامات اٹھائے ہیں اور ان کی حکومت کے باقی رہ جانے دنوں میں وہ اس حوالے سے کیا کرسکتے ہیں؟ ہم وزیراعظم پاکستان عمران خان کے پاکستان کو ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کو سراہتے ہوئے کچھ گزارشات ان کے اور ان کی حکومت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ اس کارِ خیر میں ہمارا نام بھی شامل رہے۔

اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ کسی کام کا نئے سرے سے شروع کرکے انجام تک پہنچانا بہت آسان ہے، لیکن کسی بگڑے ہوئے کام کو سنوارنا اور پھر انجام تک پہنچانا جان جوکھوں کا کام ہے۔ پاکستان جیسے ایک متفرق المزاج، متفرق اللسان اور متفرق المذاہب معاشرے میں ریاست مدینہ جیسی فلاحی ریاست کو قائم کرنے کی بات محض ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں لگتا۔ کہنے کو بظاہر یہ بڑی اچھی بات لگتی ہے اور کوئی بھی اس کا مخالف نہیں ہے اور کوئی اس کی مخالفت کرے گا بھی کیوں؟ یہ ملک تو قائم ہی اسلام کے نام پر ہوا ہے اور اس کے قیام کا واحد مقصد ہی لوگوں کی زندگیاں اسلام کے اصولوں کے مطابق گزارنا تھا۔

یہاں سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ ’’فلاحی ریاست‘‘ اور ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ میں بہت فرق ہے۔ ایک سادہ فلاحی ریاست ہر ملک کے ہر شہری کا خواب ہے، جہاں وہ دنیاوی طور پر آزادی، حق اور انصاف کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ جہاں ریاست اس کے حقوق و فرائض کی ضامن ہو اور جہاں اس کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔ جہاں ٹیکسوں کی ادائیگی کے بدلے حکومت اس کی بنیادی ضروریات کا نہ صرف خیال رکھے بلکہ ان کو پورا بھی کرے۔ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس نظریے کی بنیاد پر فلاحی ریاستیں کسی حد تک قائم ہیں اور وہاں رہنے والے اپنی زندگی سکون سے گزار رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک اپنے آپ کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کےلیے تگ و دو میں مصروف ہیں، وہاں ابھی فلاحی ریاست کا قیام بس ایک خواب کی مانند ہے جبکہ غریب ممالک کا دارومدار بیرونی امداد اور قرضوں کے حصول پر ہے۔ ایسے کئی ممالک میں حیات پر دائرہ تنگ ہے۔ وہاں لوگوں پر فلاحی ریاست کے بارے میں سوچنا اور اس کے خواب دیکھنا بھی منع ہے۔

اب آئیے ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ یعنی ریاست مدینہ کی طرف، جس کو ہمارے وزیراعظم صاحب اس ملک میں نافذ کرنے میں پرعزم ہیں اور وہ اپنی تقریباً ہر تقریر میں اس عزم کو دہراتے ہیں اور ساتھ میں کئی مثالیں بھی دیتے ہیں۔ ہم ان کے اس عزم اور ارادے کو سراہتے ہوئے چند گزارشات پیش کرتے ہیں تاکہ محض زبانی کلامی باتوں کے اس طرف حقیقی معنوں میں اقدامات اٹھائے جاسکیں۔

1۔ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا مقام اور ذمے داری ایک عام فلاحی ریاست سے کہیں بڑھ کر ہے، کیونکہ اسلامی فلاحی ریاست کے علاوہ دنیا میں قائم دیگر فلاحی ریاستوں کا دارومدار دنیاوی زندگی پر ہے۔ ایسی ریاستیں عام طور پر کسی کے ذاتی اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتیں۔ ان کے کھانے پینے، کسی قسم کا لباس پہننے اور کچھ بھی بولنے پر پابندی نہیں لگاتیں۔ اسلامی فلاحی ریاست کا کردار ایسی ریاستوں سے یکسر مختلف ہے۔

2۔ ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیادی ذمے داری ریاست میں عبادات اسلامی پر سختی سے عمل کرانا ہے، جس میں ظاہری عبادات میں نماز، روزہ، حج وغیرہ شامل ہیں۔ اگرچہ ہمارے ملک میں مساجد کا جال بچھا ہے اور لوگ نماز پڑھتے بھی ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اگر کچھ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ سارے یا زیادہ سے زیادہ لوگ باجماعت نماز ادا کرسکیں، یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب نماز کے اوقات میں ایک مقررہ وقت کےلیے کاروبار کو بند کیا جائے۔ بظاہر یہ ناممکن لگتا ہے لیکن اگر ہم ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کو بنیاد بناتے ہیں تو کہ کام کوئی مشکل نہیں ہے۔ بس حکومت کی نیک نیتی اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے۔ شروع میں ہر طرف سے احتجاج اور مذمتی قراردادیں پیش ہوں گی، مگر آہستہ آہستہ لوگ اس طرف مائل ہوجائیں گے اور اپنی شاپنگ کا شیڈول اسی حساب سے ترتیب دیں گے اور دکاندار بھی نماز کو ترجیح دیں گے۔ ایسا کرنے سے معاشرے میں برکتوں کا نزول ہوگا اور لوگوں کی ایک دوسرے سے محبت بڑھے گی۔

3۔ ایک اسلامی فلاحی ریاست میں مرد و زن کی مخلوط محفلیں اور تعلیمی ادارے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس بارے میں ہر کوئی جو مرضی رائے رکھے لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس وجہ سے ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔ ریاست مدینہ کے والی کی کون سی تعلیمات ہیں جن کی وجہ سے ہم ایسا کرنے پر مجبور ہیں؟ اور مرد و زن کی الگ الگ بیٹھکوں اور اداروں کے قیام سے ہم کس سے پیچھے رہ جائیں گے؟ عورت اور مرد کو کیا اسی حدود میں رہ کر زندگی نہیں گزارنی چاہیے جس کی واضح ہدایات قرآن و سنت میں موجود ہیں۔ ہماری حکومتیں بجائے اس کو روکنے کے الٹا مخلوط نظام کو پروان چڑھا رہی ہیں، جس سے حالات پہلے سے بھی ابتر ہورہے ہیں۔

4۔ ٹی وی چینلز، تھیٹرز، سینما ہاؤسز اور سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہے اور اکثر مخلوط پروگراموں میں اخلاق کی جو دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس کو روکنا کس کا کام ہے؟ کیا محض ریاست مدینہ کا نعرہ لگا دینے سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے؟ کئی ٹی وی شوز دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ہماری حکومتوں نے بھی ریاست اور مذہب کو الگ تصور کرلیا ہے کہ جس کا جو جی چاہتا ہے کرتا پھرے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کئی پروگراموں میں ایسے لباس اور گفتگو کے ساتھ سامنے آتے ہیں کہ جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہاں کوئی پوچھنے والا ہے ہی نہیں۔ ٹی وی پر مذہبی پروگراموں میں ایک عورت میزبان کے سامنے تمام مرد علما کا بیٹھ کر سوال و جواب اور ریاست مدینہ پر گفتگو کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اس چیز کو لگام دینے کی اشد ضرورت ہے جو حکومت فی الفور کرسکتی ہے۔

5۔ سوشل میڈیا ایپس پر اگر حکومت پابندی نہیں لگاسکتی تو کم از کم اس کےلیے کوئی قاعدہ قانون تو بناسکتی ہے۔ ایسی ایپس پر بڑے بوڑھوں سے لے کر بچوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ایسے جال پھیلا رکھے ہیں کہ ان کو دیکھنے کے بعد پھر کتابیں پڑھنے اور واک کرنے کو کسی کا دل نہیں کرتا اور نہ ایسی ویڈیوز بنانے والوں کو کوئی روک سکتا ہے اور نہ دیکھنے والوں کو۔ بچوں اور طلباو طالبات کو ویسے ایک بہانہ ہاتھ آیا ہوا ہے کہ ہماری آن لائن کلاسز چل رہی ہیں لہٰذا موبائل بہت ضروری ہے۔ گھر میں بڑوں کی اب اتنی جرأت نہیں کہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بہنوں سے فون لے کر چیک کرسکیں اور اس طرح ہماری نئی نسل اس میٹھے زہر کے دریا میں اترتی جا رہی ہے۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ کچھ ایپس یا کچھ فنکشنز ایسے ہیں جو ہماری نسل کو فائدے کے بجائے نقصان دے رہے ہیں تو وہ کیوں ان کو بند نہیں کرتی اور اگر بند کرتی ہے تو پھر احتجاج کے بعد کھول کیوں دیتی ہے؟

6۔ ملک کا سارا بینکنگ یعنی معاشی نظام سود پر چل رہا ہے اور ہر آنے والی حکومت بلند بانگ دعوے کرتی ہے کہ ہم سودی نظام کو ختم کرنے کےلیے بڑے تیر مار رہے ہیں۔ لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ساری حکومتیں سودی نظام کو ختم کرنے کے خلاف کام کرتی رہی ہیں اور بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسے اقدامات کرتی رہی ہیں جس سے سودی نظام کو مضبوط ہونے میں مدد ملی۔ کیا حکومت سمیت ہم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ سود اللہ کے ساتھ جنگ ہے اور پھر بھی ہم یہ جنگ دھڑلے کے ساتھ لڑتے ہی جارہے ہیں۔ کیا ہم یہ جنگ جیت جائیں گے؟ یا کیا ہم یہ جنگ جیت بھی سکتے ہیں؟ تو پھر کیا ریاست مدینہ کا عزم رکھنے والے اس بارے میں بھی سوچیں گے؟

7۔ کسی بھی ملک کا تعلیمی نصاب اور معیار اس ملک کے مستقبل کی تصویر کشی کرتا ہے۔ درست اور اپنے مذہب کے تحت بنائے گئے نظام سے ایک صاف ستھرا اور دیرپا انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں جو بھی حکومت آئی اس نے تعلیم کے حوالے سے بہت بلند بانگ دعوے کیے لیکن افسوس کہ یہاں نہ تو تعلیم کا معیار بلند کیا جاسکا اور نہ ہی یکساں تعلیم نافذ کیا جاسکا، بلکہ ہر دور میں مختلف کلاسوں میں موجود مواد پر انگلیاں اٹھتی رہی ہیں۔ سارے دعوؤں کے باوجود نہ تو کروڑوں بچوں کو گلیوں اور ورکشاپس سے اسکول لایا جاسکا، نہ ہی گھوسٹ اسکولوں کا مکمل خاتمہ کیا جاسکا اور نہ ہی فارغ التحصیل ہونے والے طلبا و طالبات سے معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نظر آئی۔ اس لیے اب ریاست مدینہ کی دعوے دار حکومت کےلیے بھی اس چیلنج کو قبول کرکے اس کو درست سمت پر استوار کرنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا اور ہماری نئی نسل مذہب سے رفتہ رفتہ دور ہوتی جائے گی اور اس طرح ہم نہ ادھر کے رہیں گے اور نہ ہی ادھر کے۔

8۔ یونیورسٹی لیول پر طلباو طالبات کے یونیورسٹیوں کے اندر موجودہ ماحول کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ وہاں جاکر مشاہدہ کرنے والا کوئی بھی عقل مند انسان یہ نہیں سوچ سکتا کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں کھڑا ہے۔ وہاں پر لباس سے لے کر یونیورسٹی کے ڈسپلن کو مذہب کے تحت لاکر ہی یہاں ریاست مدنیہ کے عزم کو دہرایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو پھر آپ کا عزم ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کا کم از کم نہیں ہوسکتا۔ اس کا کوئی ماڈرن ورژن آپ کے ذہن میں ہوسکتا ہے، جس کے تحت یہ سب کچھ قابل قبول ہو۔

9۔ اسلامی نظریاتی کونسل کو صحیح معنوں میں فعال کرکے اس کو ملک میں رائج تمام قوانین کے جائزے کا ٹاسک دیا جائے، جس پر رپورٹ دینے کےلیے ایک مدت مقرر ہونی چاہیے اور اس رپورٹ کے آنے کے بعد اسے کسی سرد خانے کی نذر کرنے کے بجائے اس پر اس کی روح کی مطابق عمل کیا جائے اور آئندہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہ بنایا جائے اور پہلے والے قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل کے ذریعے جانچنے کے بعد جہاں ضرورت ہو وہ تبدیلی کی جائے۔

10۔ اگر ہمارے حکمران واقعی اس ملک کو ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے میں مخلص ہیں تو انہیں چاہیے کہ ملک کے طول و عرض میں ایسے اقدامات اٹھائے تاکہ ملک میں ایسا ماحول پیدا ہو جہاں نیکی کی ترغیب ملے اور لوگوں کےلیے نیکی کرنا آسان جب کہ گناہ کرنا مشکل ہوجائے۔ مثال کے طور پر آپ زبانی سب کہتے رہیں کہ شراب حرام ہے یہ نہیں پینا، لیکن دوسری طرف بازار میں سر عام شراب دکانوں پر مل رہی ہو تو آپ کی بات لوگ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں گے۔ اسی طرح ایک طرف آپ مرد اور عورت کو اکٹھا ہونے پر منع کر رہے ہوں جب کہ دوسری طرف سینما ہاؤسز، تھیٹرز اور مخلوط پروگرام دھڑادھڑ جاری ہوں تو ایسے میں آپ کی بات کا کیا اثر ہوگا؟ لہٰذا ایسے اقدامات ضروری ہیں کہ جن کی بدولت لوگوں کو نیکی کی ترغیب ملے اور گناہ سے چھٹکارا حاصل ہو۔

11۔ جب آپ ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں تو اس ریاست کے بانی و والی ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات اور عزت ہمارے لیے حرف آخر ہونی چاہیے اور ان کی عزت کی بات ہو تو ہمیں کسی قسم کے سمجھوتے، ڈر و خوف سے آزاد ہوکر دنیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوجانا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم اس طرح نہیں کرتے تو ہمارا تو ایمان ہی ضائع ہوجائے گا۔ اس لیے اس بات پر اسٹینڈ لینا بھی حکومت وقت کا کام ہے۔

اس طرح کے دیگر بھی کئی اقدامات ہوسکتے ہیں جو حکومت اٹھا سکتی ہے، جن کی بدولت ہمارے ملک خداداد کو ریاست مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنایا جاسکے۔ لیکن یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ایسی باتیں کرنا بڑا آسان ہے لیکن ان پر عمل آسان کام نہیں ہے۔ کیونکہ نام تو ہمارے ملک کا اب بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے لیکن عملی طور پر یہاں کیا کچھ نہیں ہورہا، جس کا نہ اسلام کے ساتھ کچھ واسطہ ہے اور نہ ہی جمہوریت کے ساتھ۔ اس لیے یا تو ہم ریاست مدینہ کی فلاحی ریاست کی عملی شکل سے ہی واقف نہیں ہیں یا پھر ہم بس عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنی واہ واہ کروانا چاہتے ہیں۔ اگر واقعی مخلص ہیں تو اس طرح کوئی عملی قدم تو اٹھائیے۔ کچھ اقدامات کو وقت درکار ہے لیکن کچھ اقدامات فوری کیے جاسکتے ہیں۔ لیکن اپنے ارادے سے واقفیت، نیک نیتی اور اخلاص کے ساتھ کام کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ یہ کام کیا جاسکتا ہے اور یہ ایک ایسی کامیابی ہوگی جس کو زوال نہیں ہوگا۔

بشکریہ: محمد مشتاق ایم اے،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.