کھوج بلاگ

کیا آپ بھی شادی کے سوال سے پریشان ہیں؟

بیس سال بعد اگر ہائی اسکول کے کسی دوست سے کسی واٹس ایپ گروپ میں بات ہوگی تو وہ کہے گا کہ شادی ہوئی کہ نہیں؟

چند روزقبل اداکارہ نوشین شاہ کی طرف سے ان کے انسٹاگرام پرایک پوسٹ شیئرکی گئی تھی۔ جس میں انہوں نے اپنے گھروالوں کی طرف سے ان پرشادی کےلیے دباؤ ڈالے جانے اورشادی سے متعلق ہمارے سماج کے عجیب رویے کے حوالے سے بات کی تھی۔ جس کی وجہ سے انھیں سوشل میڈیا پر بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گو کہ نوشین کے لہجے اور ان کے الفاظ کے چناؤ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، مگر اس امر سے تو بالکل انکار ممکن نہیں ہے کہ ہمارے ہاں شادی کو ایک بڑا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کو اس حوالے سے بہت زیادہ سماجی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے جب پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کا ایک معروف بین الاقوامی جریدے کی طرف سے انٹرویو کیا جاتا ہے تو ان سے بھی شادی سے متعلق سوال ضرور کیا جاتا ہے۔ جس کے جواب میں جب وہ اپنی ماں سے ہونے والے مکالمہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتی ہیں کہ شادی کےلیے نکاح کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ پارٹنرشپ بھی کی جاسکتی ہے۔ جس پر اس کی ماں اسے سمجھاتی ہے کہ نہیں ہمارے سماج میں نکاح کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ جس کے بعد ملالہ انٹرویو میں یہ بھی بتاتی ہے کہ اسے ابھی اپنی شادی کا نہیں پتا، کیونکہ اس نے اپنی زندگی میں ابھی بہت سارے اور اہم کام کرنے ہیں۔

مگر چونکہ ہمارا سماج شاید شادی کے اتنے خبط میں مبتلا ہے کہ ایک بالغ لڑکی کی رائے کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے اس پر فتوے لگادیے جاتے ہیں۔ حالانکہ ملالہ کا یہ بات کرنے کا اصل مقصد تو یہ تھا کہ اس کو بھی ابھی سے شادی سے متعلق سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس بات میں کون سا شک ہے کہ ہمارے سماج میں جب کسی لڑکی کی عمر بیس سال سے اوپر ہوتی ہے تو اس کی شادی کے بارے میں بات کرنا شروع کردی جاتی ہے۔ اس کو گھر والوں کی طرف سے اس دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اگر فیملی کی کسی تقریب میں جاتی ہے تو وہاں پر اس کی کزنز اس سے یہی کہتی نظر آتی ہیں کہ کیا سوچا شادی کے بارے میں؟

وہ بڑے آرام سے بیٹھی ہوگی تو اچانک سے وہاں ایک آنٹی نمودار ہوجائیں گی اور اس سے اس کی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات کرنا شروع کردیں گی۔ کیونکہ ان کو کیا پتا کہ پرسنل اسپیس کس چڑیا کا نام ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے بیٹے کے تعریف میں زمین آسمان کے ایسے قلابے ملائیں گی کہ خدا کی پناہ۔ وہی لڑکی اگر کبھی اپنی دوستوں سے ملنے چلی جائے گی تو وہ بھی اس سے کہتی ہوئی نظر آئیں گی کہ یار شادی کرو اور لائف میں سیٹل ہوجاؤ۔ کیونکہ ہمارے ہاں لڑکی کے سیٹل ہونے کا مطلب تو اس کا شادی ہوجانا ہی ہے۔ پھر جیسے جیسے اس لڑکی کی عمر بڑھتی جائے گی، ویسے ویسے شادی سے متعلق سوالوں، مشوروں میں تیزی آتی جائے گی۔ کیونکہ ستائیس یا اٹھائیس سال کی عمر تو یہاں لڑکیوں کےلیے شادی کی ایکسپائری ڈیٹ سمجھی جاتی ہے۔ اس کے بعد تو پھر اچھا رشتہ مل نہیں سکتا ناں۔

لڑکی کی اماں کو مشورے ملیں گے، فلاں مزار پر جاکر دعا کرو، فلاں رشتے والی سے بات کرو، اپنی بیٹی کو سمجھاؤ کچھ بن سنور کے رہا کرے۔ کوئی کہے گا آج کل تو اتنا ماڈرن زمانہ ہے تو اپنی بیٹی کو کہو خود ہی کوئی امیر لڑکا ڈھونڈ لے۔ کہیں پر اپنے خاندان میں ہی شادی کروانے کےلیے لڑائیاں ہوں گی۔ مگر اس لڑکی سے کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ تم کیا چاہتی ہو؟ کیا زندگی میں صرف شادی کرنا ہے یا کچھ اور بھی کرنا چاہتی ہو؟ اور صاحب یہ شادی سے متعلق سوالوں اور مشوروں کا قضیہ صرف لڑکیوں کےلیے ہی نہیں ہے۔ لڑکوں کو بھی اس سے گزرنا پڑتا ہے۔ میرے جیسا کوئی لڑکا جس کی عمر پینتیس سال سے اوپر ہو اور اس کی شادی نہ ہوئی ہو، اس کو بھی اس حوالے سے اچھی خاصی ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مثلاً، وہ اگر اپنی فیملی کی کسی تقریب میں چلا جائے تو وہاں پر اس سے سب سے پہلے شادی کا ہی سوال کیا جاتا ہے۔ اس کو مشورے دے جاتے ہیں، فلاں کی بیٹی لے لو، بہت خوش رہو گے۔ کوئی کہے گا یار اب تو شادی کرلو، کیا چاہتے ہو؟ دیکھو تو ذرا، تم سے چھوٹے کزن اب بچوں کے باپ بن گئے ہیں۔ کوئی آنٹی کہے گی، دیکھو تو سہی ماں کتنی بیمار ہے اس کو اب تو خوشیاں دکھا دو، یا ماں کی خدمت کےلیے اب تو اس کو بہو لادو۔ جیسے شادی کا واحد مقصد گھر والوں کی خدمت کروانا ہوتا ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے جس کی ازدواجی زندگی انتہائی بری ہوگی وہ بھی کہے گا بھائی، شادی کرلو، بہت خوش رہو گے۔ پھر اگر گاؤں میں کوئی اسکول کا پرانا دوست مل جائے تو وہ سلام دعا کے بعد آپ کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوجائے گا کہ یار تمہارے جتنے میرے بچے ہوگئے ہیں، تجھے خدا کا واسطہ اب تو شادی کرلے۔

بیس سال بعد اگر ہائی اسکول کے کسی دوست سے کسی واٹس ایپ گروپ میں بات ہوگی تو وہ کہے گا کہ شادی ہوئی کہ نہیں؟ اور نہیں کا جواب سنتے ہی کہے گا کوئی ’’اندرونی‘‘ مسئلہ ہے تو پریشان نہیں ہو، تمہارا بھائی آج کل حکیم ہے، سب سیٹ کردے گا۔ کالج، یونیورسٹی کے دوست ملیں گے تو وہ بھی یہی کہیں گے، دوست شادی کرنا اچھا ہی ہوتا ہے، اس لیے کرلو۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی سے پہلی دفعہ بات ہوگی، تو شادی کا سوال بھی ضرور پوچھا جائے گا اور نہ کا جواب سنتے ہی ایسا ردعمل دیکھنے کو ملے گا جیسے بندہ شادی نہ کرکے کسی سنگین جرم کا مرتکب ہوگیا ہے۔ اور پھر جب ماں جی کو رشتے دار آنٹیاں آکر لڑکیوں کے مشورے دیں گی تو ان کے بارے میں جذباتی انداز میں آپ سے شادی کرنے کے بارے میں کہا جائے گا۔

تو بھئی جب ایسا رویہ رکھو گے تو آخر ایک وقت آئے گا کہ اس سب کو سہنے والا پھٹ ہی پڑے گا اور یہی کچھ نوشین شاہ نے کیا۔ لیکن ان سب لڑکوں خاص طور پر لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ ڈھیٹ بن جاؤ۔ کوئی بھی تم سے شادی کے بارے میں کچھ بھی کہے، اس کی بات ایک کان سے سننا اور دوسرے سے نکال دینا۔ زندگی تم نے گزارنی ہے، انہوں نے نہیں۔ شادی تب کرنا، جب خود کرنا چاہو، اس سے کرنا، جس سے لگے کہ ہاں اس کے ساتھ زندگی اچھی گزرسکتی ہے۔ مطلب جس سے ذہنی ہم آہنگی ہو، جس سے سوچ ملتی ہو، کچھ دل بھی ملتا ہوا نظر آئے۔ ایسا کوئی مل جائے تو کرلینا، ورنہ نہیں کرنا۔ کیونکہ غلط جگہ شادی کرکے پوری زندگی کمپرومائز کی چکی پیسنے سے اچھا ہے ایسے ہی رہ لو۔

ان سماج والوں کی باتوں میں آؤ گے تو یہ ایسے ہی اسٹیٹس، ذات پات، حسب نسب، ظاہری حسن، دولت کے دھندے میں ہی پھنسا کر پھر پوری زندگی اس کی ڈگڈگی بجاتے رہنے کا ہی کہیں گے۔ تم یہ سب کر بھی لو گے تو خوش نہیں رہ پاؤ گے۔ یقین نہیں آتا تو اپنے اردگرد بس اک نظر دوڑا کر دیکھنا، تمہیں کتنے ہی مرد اور عورتیں بظاہر ایک دوسرے کے ساتھ اس مقدس بندھن میں بندھے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کے جسم ایک دوسرے کے ساتھ ہوں گے مگر روحیں ساتھ نہیں ہوں گی۔ اس لئے اگر کوئی روح والا مل جائے تو اس کے ساتھ مل کر زندگی جینا، ورنہ اکیلے بھی جی سکتے ہو۔ اس خوب صورت دنیا میں بہت کچھ ایسا ہے جو شادی سے زیادہ اہم ہے۔ جو تمہیں اچھا لگتا ہے وہ کام کرنا، وہ بننا، کتابیں پڑھنا، موسیقی سننا، لکھنا، دنیا گھومنا، لوگوں سے ان سے مذہب، عقیدہ، مسلک، قومیت، علاقے سے ماورا ہوکر محبت کرنا سیکھ لینا۔ انسانیت کو اپنا ایمان بنا لینا۔ دیکھنا کتنا سکون محسوس کرو گے۔

اور ان سماج کے سب ٹھیکیداروں سے بس اتنا کہنا ہے کہ اگر کسی کی شادی نہیں ہورہی تو اس کی کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ انسان اپنے کسی ماضی کے تلخ تجربے سے نکلنے کی کوشش کررہا ہو، اور اسے کچھ وقت درکار ہو۔ ہوسکتا ہے اس پر بہت سی اہم ذمے داریاں اس کے خاندان کے حوالے سے ہوں۔ ہوسکتا ہے اس کی ترجیحات میں کچھ اور کرنا زیادہ اہم ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے مالی حالات اچھے نہ ہوں۔ ہوسکتا ہے اس نے اپنے کسی پیارے کے کچھ اور خواب پورے کرنے ہوں۔ ہوسکتا ہے وہ ابھی شادی اور اپنے شریک حیات کی ذمے داریاں نبھانے کے قابل نہ ہوا ہو۔ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تم اگر اس سے یہ سوال پوچھنا چھوڑ دو گے تو یقین کرو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس ذہنی اذیت سے بچ جائے۔ تو اس پر براہ کرم یہ احسان کردو۔

بشکریہ : احسن بودلہ ، روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.