کھوج بلاگ

مہنگائی کا سونامی اور تبدیلی

پٹرول پاکستان کی اکانومی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا معیشت پر براہ راست اثر ہوتا ہے

گزشتہ دنوں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ بلامبالغہ ہوشربا تھا۔ میں شاید اس پر نہ لکھتا لیکن امریکا سے درآمدہ کچھ شخصیات نے جب بے تکا اور جھوٹ پر مبنی تقابلی جائزہ پیش کیا اور کمال ڈھٹائی سے ہینڈسم کی دھن پر آل یوتھ نے ناچنا شروع کیا تو پھر لازم ہوا کہ اصل حقائق قوم کے سامنے پیش کیے جائیں۔

پٹرول پاکستان کی اکانومی کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا معیشت پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ یہ حکومت کہتی ہے کہ پٹرول کی قیمتیں عالمی منڈی کی وجہ سے تبدیل ہوئی ہیں، یعنی عالمی منڈی میں قیمتیں زیادہ ہوئی ہیں اس لیے ہم نے پٹرول کی قیمتیں پاکستان میں بڑھائی ہیں۔ ساتھ ہی خطے میں موجود دیگر ممالک سے تقابلی جائزہ تو پیش کرتے ہیں لیکن ان ہی ممالک کی فی کس آمدن کے بارے میں نہیں بتاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس ماہ میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بڑھی نہیں ہیں بلکہ 2 فیصد تک کم ہوئی ہیں۔ بزنس انسائیڈر کی مستند ویب سائٹ پر جاکر مارکیٹ چیک کرلیجیے، وہاں سارا ڈیٹا دستیاب ہے۔

اب اگر ہم ان کی یہ منطق فرض کی حد تک بھی سچ مان لیں تو گزشتہ سال کورونا کی وبا کی وجہ سے پٹرول عالمی منڈی میں ٹکے ٹوکری تھا اور پھر یہ وقت بھی آیا کہ بیرل کی قیمت میں پٹرول مفت تھا اور پھر اس کے بعد قیمت اور مزید بھی گری تھی۔ اس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت 77 روپے تھی۔ اگر تعین عالمی منڈی سے ہی کرنا ہے تو پھر گزشتہ سال کے اس دورانیے میں تو پٹرول کسی بھی صورت میں 18 روپے فی لیٹر سے زائد نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میرے ایک عزیز صحافی دوست جمال عبداللہ نے ایک اور تھیوری پیش کی کہ اگر موجودہ حکومت کی عالمی منڈی کے معیار کو ہی اپنا لیں تو 2014 میں عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت 104 ڈالر فی بیرل تھی اور پاکستان میں تب پٹرول 105 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا تھا۔ یعنی اس معیار کے مطابق تو تب پٹرول کو ڈالر ایکسچینج ریٹ ملا کر بھی 198 یا 199 روپے فی لیٹر فروخت ہونا چاہیے تھا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پٹرول کی سبسڈی کہاں گئی؟

پاکستان میں روزانہ 5 لاکھ 56 ہزار بیرل یعنی 8 کروڑ 84 لاکھ لیٹر پٹرول فروخت ہوتا ہے۔ یعنی اگر پٹرول کی قیمت میں ایک روپیہ بھی اضافہ ہوتا ہے تو یہ 8 کروڑ 84 لاکھ روپے روزانہ کا اضافہ ہے۔ پٹرول کی قیمتیں ابھی 5 روپے اضافہ ہوا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ روزانہ 48 کروڑ 62 لاکھ روپے عوام کی جیبوں سے زبردستی نکلوائے جارہے ہیں۔

ابھی رکیے، مزید تو پڑھیے!

اس ماہ میں اب تک پٹرول کی قیمتوں میں 9 روپے کا اضافہ ہوچکا ہے یعنی اب تک عوام کی جیب سے 23 ارب روپے نکلوائے جاچکے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہوا ہے جب عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ پی ٹی آئی کی یہ دودھ سے دھلی ہوئی صادق و امین حکومت اپنے دور میں پٹرول کی قیمتوں میں 31 روپے کا اضافہ کرچکی ہے۔ اب آیا مزہ؟

گزشتہ ایک سال میں پٹرول کی قیمت میں 18 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے۔ ادارہ شماریات کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں چکن کی قیمت میں 17 فیصد، پھل 11 فیصد، گندم کا آٹا 10 فیصد، گوشت ساڑھے 4 فیصد سے زائد مہنگا ہوا ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر انڈے، صابن، دالیں بھی مہنگی ہوئی ہیں اور ادویہ کی قیمتیں بھی بڑھی ہیں۔ اب اس کو اگر ایک سال میں لے جائیں تو گزشتہ ایک سال میں چکن 60فیصد، انڈے 55 فیصد، گندم 30 فیصد، آٹا ساڑھے 28 فیصد، مصالحے 27 فیصد، گھی 22 فیصد، چینی 22 فیصد، پکانے کا تیل 21 فیصد، دودھ ساڑھے 15 فیصد اور گوشت 15 فیصد مہنگا ہوا ہے۔ یہ اضافہ حکومت کے اپنے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہے اور اگر آپ اصل مارکیٹ میں چلے جائیں تو یہ اضافہ بیان کردہ اعداد و شمار سے بھی زیادہ ہے۔

پٹرول کی قیمتوں میں اس اضافے کی اصل وجہ صرف اور صرف آئی ایم ایف ہے، جس سے کیے ہوئے معاہدے کے مطابق 610 ارب روپے لیوی اکٹھی کرنی ہے، تاکہ آئی ایم ایف کا بھاری سود اور قرض ادا کیا جاسکے۔ یہ حکومت ریکارڈ قرض حاصل کرچکی ہے لیکن ایک ٹکے کا کام نہیں ہوا۔ اگر ان کی یہ منطق درست مان لیں کہ پرانی حکومتوں کے قرض اتارے ہیں تو کل میزانیہ میں کمی ہونی چاہیے تھی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کل میزانیہ 42 ہزار ارب سے بڑھ چکا ہے۔ وزیراعظم کی اپنی تقریر کے مطابق 28 ہزار ارب کا قرض تب تھا جب انہوں نے حکومت سنبھالی تھی، یعنی تین سال میں 15 ہزار ارب کا قرض مزید لیا گیا ہے تو یہ 15 ہزار ارب روپیہ لگا کہاں ہے؟ ملک میں کون سا میگا پراجیکٹ شروع ہوا ہے، جہاں یہ رقم لگ رہی ہے؟ ابھی پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، آگے بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھائی جائیں گی۔ یہ سب کچھ تب تک چلے گا جب تک آئی ایم ایف کا پروگرام جاری ہے۔

میری ذاتی رائے میں یہ آئی ایم ایف پروگرام حکومت کو لے کر ہی جائے گا۔ حکومت جتنا جلدی ہوسکے اس سے جان چھڑوا لے۔ ڈاکٹر وقار مسعود بھی نجانے کیا کر رہے ہیں۔ اسی پروگرام کی وجہ سے وزیر و مشیر خزانہ تواتر سے بدلے جا رہے ہیں لیکن آئی ایم ایف پروگرام وہیں کا وہیں ہے۔ بلاول زرداری نے ایک مرتبہ اسمبلی کے فلور پر یہ فقرہ کہا تھا کہ میں سلیکٹرز سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو تبدیلی پسند آئی اور میں سلیکٹڈ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو ایمپائر کی انگلی پسند آئی؟ سوال تو ویسے یہی بنتا ہے۔

بشکریہ : سالارسلیمان ،روزنامہ ایکسپریس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.