کھوج بلاگ

غربت کی کوکھ میں جنم لینے والا انمول ہیرا

پچھلے ہفتے وزارتِ خارجہ کے ایک افسر پر کالم کیا لکھا کہ ملک و بیرون ملک سے بےشمار قارئین نے پاک دھرتی کے اس ہیرے کا نام پوچھا جس نے غربت کی کوکھ میں رہ کر تعلیم حاصل کی اور پھر سی ایس ایس کرکے شاندار خدمات انجام دے رہا ہے۔

کالم کی طوالت کے خوف سے کچھ باتیں رہ گئی تھیں، پہلے وہ باتیں پھر کام اور پھر نام۔ وہ غریب ضرور تھا مگر کلاس میں اول آتا تھا۔ کالج دور میں وہ مچھروں والی جگہ، بھینسوں کے باڑے میں سوتا تھا لیکن کلاس میں سی آر تھا، وہ اساتذہ کو پیریڈ میں لیٹ نہیں ہونے دیتا تھا، کالج کے کئی لیٹ آنے والے ٹیچر اُس سے نالاں تھے مگر وہ اس ناراضی کی پروا نہیں کرتا تھا بلکہ اس کا مؤقف تھا کہ جب اساتذہ حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں تو انہیں پڑھانا بھی چاہئے۔

ان اساتذہ نے سارا غصہ پریکٹیکلز کے وقت نکالا اور اسے بہت کم نمبر دے کر صرف پاس کیا۔ دورانِ تعلیم اس نے نوکری کے لئے کوشش کی مگر ناکام رہا کہ سفارش ہی نہیں تھی، اس نے پرائمری اسکول کا ٹیچر بننا چاہا تو ناکامی ملی پھر ہائی اسکول کا استاد بننا چاہا مگر یہاں بھی کامیابی نہ مل سکی۔ ان ناکامیوں کے باوجود اس نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا، جب وہ کالج سے یونیورسٹی گیا تو داخلہ فیس کے لئے ڈھائی سو روپے نہیں تھے، والد سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ’’بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے مزدوری کرتا ہوں، میرے پاس ڈھائی سو روپے نہیں ہیں‘‘ باپ کا جواب سن کر اس نے کہا کہ ’’کچھ بھی ہو جائے میں نے پڑھنا ہے‘‘۔ بیٹے کا تعلیمی شوق دیکھ کر باپ نے ڈھائی سو روپیہ مجبوراً سود پر لیا اور بیٹے کو داخلہ فیس دے دی مگر صرف ڈھائی سو روپے سے کام کیسے چلتا؟

یہاں تو ہوسٹل میں رہنا تھا، تعلیمی اخراجات بھی تھے۔ اس نے اس کا بھی حل نکالا، وہ سیدھا یونیورسٹی کی مسجد کے امام کے پاس گیا، اسے کہا کہ رہنے کیلئے جگہ چاہئے۔ امام مسجد نے اس شرط پر رہنے کی اجازت دی کہ اسے کچھ بچوں کو پڑھانا ہوگا۔ خیر رہائش مل گئی مگر کچھ عرصے بعد اس نے یونیورسٹی کے طلبا کے لئے سائنس لیبارٹری کی اشیاء کا مطالبہ کر دیا۔ وائس چانسلر کو پتہ چلا کہ یہ لڑکا یونیورسٹی کی سینٹرل مسجد میں رہتا ہے تو وی سی بہادر کا اختیار جاگا، اس نے امام مسجد کو بلوایا اور کہا کہ اس لڑکے کو فوراً نکال دو، ورنہ تمہاری نوکری ختم۔ امام مسجد نے نوکری بچائی اور اس لڑکے نے بھی کہیں اور بندوبست کر لیا۔

وہ تین برس یونیورسٹی میں پڑھا اور ان تین برسوں میں وہ صرف دوپہر کا کھانا کھاتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ کام شوق سے کرتا تھا، اس کی غربت تین وقتوں میں صرف ایک وقت کے کھانے کی اجازت دیتی تھی۔ اس دوران اس کا وزن ہمیشہ 45سے 48کلو کے درمیان رہا۔ وزن خاک پورا ہوتا، جب کھانا ہی ایک وقت ملتا ہو تو پھر انڈر ویٹ ہونا تو یقینی ہو جاتا ہے۔

ان تین برسوں میں ایک دن ایسا آیا کہ اس کے پاس دوپہر کے کھانے کے لئے بھی پیسے نہ رہے۔ جب ہر طرف بےچارگی نظر آئی تو وہ اپنے خدا کے حضور پیش ہوا، اللہ سے نوکری مانگی، قدرت نے مہربانی کی تو اگلے ہی دن کوئی شخص اسے ڈھونڈتا ہوا آ گیا۔ یوں اسے نوکری مل گئی، کچھ عرصے بعد یہ نوکری چھوڑ دی کہ مالکان کرپشن سے باز نہیں آتے تھے۔ پھر اخبار نکالا، پیسے ختم ہوئے تو انگریزی زبان سکھانے کے لئے ایک لینگوئج سنٹر بنا لیا، ساتھ ہی یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلہ لے لیا۔ اب اس کی چار ڈیوٹیاں تھیں۔ اپنے بیوی بچوں کے لئے روزی روٹی کا بندوبست کرنا، لینگویج سینٹر کو کامیابی سے چلانا، یونیورسٹی میں خود پڑھنا اور اس کے بعد سی ایس ایس کی تیاری کرنا۔ اس کا یونیورسٹی میں شعبۂ انگریزی کے سربراہ سے اختلاف ہوا، اس کا مؤقف تھا کہ انگریزی کے استاد ہمیں ہفتے میں صرف ایک دو دن پڑھاتے ہیں، پورے چھ دن کیوں نہیں پڑھاتے؟ وائس چانسلر کچھ نہ کر سکا تو اس لڑکے نے گورنر سندھ معین الدین حیدر کو خط لکھ دیا، گورنر کی مداخلت کے بعد شعبۂ انگریزی کے اساتذہ نے پڑھانا تو شروع کر دیا لیکن شعبے کا سربراہ اس لڑکے کے خلاف ہو گیا، اس نے بڑی خاموشی سے فیڈرل سروس کمیشن کے چیئرمین کو خط لکھا کہ ’’فلاں نام کے لڑکے نے سی ایس ایس کا امتحان دیا ہے مگر وہ سندھو دیش کا حامی ہے، جئے سندھ کے لئے کام کرتا ہے‘‘۔

اس نے تحریری امتحان پاس کیا، اسے انٹرویو کے وقت سارے سوال جی ایم سید، سندھو دیش اور جئے سندھ پر کئے گئے، وہ بہت حیران تھا کہ مجھے یہ سوال کیوں کئے گئے ہیں، خیر وہ کلیئر ہو گیا مگر اس کا گروپ انفارمیشن آیا لیکن اس کی خواہش فارن افیئرز تھی، اس نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا، اس دوران وہ آرمی پبلک کالج پنوں عاقل میں لیکچرار بھرتی ہو گیا، اس نے وہاں ایک بریگیڈیئر کو یونیورسٹی کے شعبۂ انگریزی کے سربراہ کی طرف سے لکھے گئے خط کا قصہ سنایا تو فوجی سیدھا ہو گیا، اس نے اس پروفیسر کو بلا کر پوری طرح چابی دی اور کہا ’’تم نے پنجابیوں کو بدنام کیا ہے، تم ایک غیرت مند اور محب وطن سندھی کو غدار ثابت کرنا چاہتے ہو، تم سے اس کی ذہانت برداشت نہیں ہوئی‘‘۔ اس چابی کے بعد پروفیسر نیا خط لکھنا بھول گیا۔

اس نے دوبارہ سی ایس ایس کیا، اس مرتبہ اسے کسی نے سندھو دیش کا نہ پوچھا، کسی نے یہ بھی نہ پوچھا کہ جئے سندھ کونسی جماعت ہے؟ اب کی بار وہ اپنے پسندیدہ گروپ میں آ گیا۔ اس نے دفتر خارجہ کو جوائن کیا تو ’’ڈومیسائل‘‘ کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی تو ادھوری باتیں مکمل ہوئی ہیں، اگلے کالم میں اس مرد مجاہد کے وہ کام لکھوں گا جو اس نے وطن کی محبت میں کئے۔ ساتھ ہی اس کا نام بھی بتا دوں گا۔ فی الحال افتخار عارف کا شعر پیش خدمت ہے کہ ؎

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

تحریر۔مظہر برلاس

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.