کھوج بلاگ

بچوں کو پڑھنا کیسے سکھائیں؟والدین کی سب سے بڑی مشکل

میری بھانجی کی ایک خاص عادت ہے، وہ اپنی کتابوں کو گھورتی رہتی ہے جیسے وہ انہیں پڑھنا چاہتی ہو لیکن وہ ان میں موجود اسباق کو پڑھ نہیں پاتی۔ میں اس عادت کو بیان کرنے کے لیے کوئی اصطلاح تلاش کررہی تھی کہ میری نظر سے ایک لفظ گزرا اور وہ تھا ’سُستی‘۔

اس کی صورتحال پر یہ لفظ صادق آتا ہے۔ وہ گھومتی پھرتی رہتی ہے اور کوئی بڑا کام کرنے کا عزم بھی رکھتی ہے لیکن اس میں دلچسپی نہیں لیتی۔

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں طلبہ کو ’یہ معلوم نہیں ہوتا کہ پڑھا کیسے جائے‘ اور اکثر طلبہ ہی اس صورتحال کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان میں تعلیم کی طلب نہیں ہے یا انہیں درست سمت معلوم نہیں ہے بلکہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ تعلیم حاصل کس طرح کی جائے۔ ان میں سے کچھ تو معلومات کے سمندر میں گم ہوکر رہ گئے ہیں اور کچھ سخت ٹیوشن کے شیڈول پر عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ کچھ وقت کتابوں سے دُور گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ طلبہ ناکام ہونے کے خوف کا بھی شکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کتابوں سے دُور رہتے ہیں جو وقت اور توجہ کی متقاضی ہوتی ہیں۔

میری طرح وہ لوگ جو نئی نسل میں تعلیمی عادت کا فروغ چاہتے ہیں، انہیں یہ معلوم ہونا ضروری ہے کہ سستی کی وجہ جاننے سے زیادہ اہم کام طلبہ کو درست سمت فراہم کرنا ہے۔ پڑھائی کے لیے روزنامچہ بنانا ایک بہت ہی مشکل کام ہے، ہم میں سے جن لوگوں نے اس کا تجربہ کیا ہے وہ یہ جانتے ہیں کہ کسی فرد کے لیے ایسی فہرست کو دیکھنا کتنا تکلیف دہ ہوسکتا ہے جس میں کوئی بھی چیز وقت پر نہ کی گئی ہو۔ ہر شخص میں کسی شیڈول پر سختی سے عمل کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔یہ ‘سستی’، ‘تاخیر’، ‘گریز’، ‘فرار’ ایک ایسے رجحان کے کئی نام ہیں جو بہت سے طلبہ کو پریشان رکھتے ہیں۔ اکثر بیماریوں کی طرح اس رجحان کو بھی ختم کرنے کا مؤثر طریقہ یہی ہے کہ شروع میں ہی اس پر قابو پالیا جائے۔ بدقسمتی سے ذہین طلبہ کی حوصل افزائی بیرونی اثر و رسوخ سے نہیں کی جاسکتی۔ ہماری نوجوان نسل کو بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح ہانک کر انہیں تاریخی بیانیے، ریاضی کے فارمولے یا شاعری نہیں پڑھائی جاسکتی۔

یہ یوٹیوب کی نسل ہے اور یہ وہی چیز سیکھتی ہے جو اس کے تخیل کو متاثر کرے۔ انہیں کچھ بھی پڑھانے سے قبل ان کے سامنے اس سوال کا جواب رکھنا ہوگا کہ ’وہ یہ چیز کیوں پڑھیں‘ اور پھر ان کے سامنے ضروت اور تجربے کی روشنی میں سیکھنے کا مکمل سیاق و سباق رکھنا ہوگا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکھنے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے انہیں اپنے اندر کن صلاحیتوں کو پیدا کرنا ہوگا؟ اس ضمن میں پہلی چیز تو وقت کا درست استعمال ہے۔ شاید اس سے ہمیں یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ ہمارے ڈیجیٹل باشندے وقت کو مختلف انداز سے سمجھتے ہیں۔ وہ فی منٹ اتنی معلومات حاصل کرلیتے ہیں جس کے حصول میں ان کے اجداد کو نصف برس کا عرصہ لگا تھا۔پھر دوسری اہم چیز گھنٹوں تک ایک طویل باب کو پڑھنے کے بجائے کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنا ہے، یوں وہ زیادہ بہتر اور تعمیری انداز میں کام کرسکیں گے۔ ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ نسل بہت تیزی سے ٹائپنگ کرتی ہے، ایک وقت میں 3 ڈیوائسز استعمال کرتی ہے اور لکھے ہوئے متن کے بجائے بصری معلومات پر انحصار کرتی ہے۔

کلاس روم میں یہ طریقہ اپنایا جاسکتا ہے جس میں طلبہ کے سامنے بصری معلومات پیش کی جائیں، استاد اس کے بارے میں مثالوں کے ساتھ گفتگو کرے اور طلبہ سے کہا جائے کہ انہوں نے جو کچھ سنا ہے اسے اپنے الفاظ میں بیان کریں یا لکھ کر لائیں۔ یوں طلبہ کو سبق یاد رکھنے میں مدد مل سکے گی۔ سیکھنے کے عمل میں طلبہ کی متحرک شمولیت بہت ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کی تعلیمی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اس کے اثرات ان کے کیریئر پر بھی پڑیں گے۔

طلبہ جو نوٹس لیتے ہیں وہ بعد میں انہیں بالکل نظر انداز کردیتے ہیں کیونکہ کسی متن میں سے کچھ ڈھونڈنا بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ طلبہ کو مائنڈ میپ بنانا اور معلومات کے اہم نکات کو خاکوں کی صورت میں بنانا سکھایا جائے۔

جن لوگوں کو منصوبہ بندی کرنے یا اس پر عمل کرنے میں مشکل ہوتی ہے ان کے لیے ٹرائج کا نظام کارآمد ہوسکتا ہے۔ یہ نظام عموماً ہنگامی شعبوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں کاموں کو فوری کارروائی کی ضرورت کے تحت ترجیح دی جاتی ہے۔ یہ نظام طلبہ کو موضوعات کی درجہ بندی میں مدد دے سکتا ہے۔ اس نظام کا استعمال طلبہ کو پیش آنے والی اس بے چینی سے بچنے کے لیے بھی کیا جاسکتا ہے جو معلومات کی بہتات اور تمام مضامین کو ایک ساتھ پڑھنے کی کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔

جو لوگ سستی کا شکار ہوتے ہیں ان کے لیے ایک اور مفید تکنیک یہ ہے کہ وہ جو کچھ جانتے ہیں اسے اپنے ساتھیوں کو سکھائیں۔ روایتی طور پر دیکھا گیا ہے کہ مطالعاتی گروپ مفید انداز میں کام کرتے ہیں کیونکہ وہ دوستانہ ماحول میں باہمی تعاون کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے منصوبہ بندی، وقت کا تعین اور اس پر قائم رہنے کے لیے سخت نظم و ضبط کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

اکثر کوئی ایسا فرد بھی طلبہ کی مدد کا باعث بن سکتا ہے جو تدریس سے وابستہ تو نہ ہو لیکن طلبہ کی کارکردگی جانچنے کے لیے چھوٹے چھوٹے امتحانات لے کر ان کی مدد کرسکے۔ یوں تھوڑی سی حوصلہ افزائی اور بہت ساری خود اعتمادی کے ساتھ طلبہ کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ ان کے لیے کون سا طریقہ مفید ہے۔ جو طلبہ اپنا متعین کیا ہوا ہدف حاصل کرتے ہیں ان میں سے اکثر وہ ہوتے ہیں جو اپنے اوپر یقین رکھتے ہیں۔

تحریر؛ندا ملجی

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.