کھوج بلاگ

اچھے دن آنے والے ہیں۔۔۔ لیکن کب؟

تیسری دنیا کا بھوک سے بلکتا خطہ ہو یا دولت سے مالا مال ترقی یافتہ ملک ، آسمان سے اُترا ہوا دینِ الٰہی ہو یا پھر نام نہاد ضرورتوں کیلئے ایجاد کیا گیا کوئی نظریہ یا عقیدہ،جدید ترین سہولتوں سے اٹا ہوا معاشرہ ہو یا پھر محروم طبقہ، مہذب لوگ ہوں ہو یا پھر جبلِ جہالت پر براجمان افراد، تقریباً سب کا اس لفظ ، اس سے جڑی عادت یا اس پر مبنی رویےکے خلاف اتفا ق ہے ، وہ مجموعی طور پر کسی نہ کسی حد تک اس لفظ سے شدید نفرت کرتے ہیں، اس سے بچنے کی کوشش کے باوجود بچ بھی نہیں پاتے ، یہ لفظ ہے جھوٹ۔

جوں جوں معاشرہ سائنسی ترقی کی معراج پر پہنچتا جارہا ہے توں توں محض جھوٹ نہیں بلکہ سفید جھوٹ ہر سو پھیلتا چلا جارہا ہے،2004 میں پیدا ہونے والا نومولود سوشل میڈیا ایسا قوی الجثہ اژدھابن چکا ہےجو محض 17 برسوں میں ساڑھے4 ارب یعنی نصف سے زائد دنیا کی آبادی کو ان کی مرضی کے مطابق اپنا گرویدہ بنا چکا ہے ،لیکن نہ اس کی بھوک ختم ہو رہی ہے اور نہ انسان اس سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے دس سال میں پوری دنیا اس سے منسلک ہوجائے گی، انٹرنیٹ کے بغیر معمولاتِ زندگی نمٹانا ناممکن ہوجائیگا۔کبھی سوشل میڈیا پر مرکز نگاہ بننے یاجانے جانے کیلئے طویل عرصہ درکار ہوا کرتا تھا،ہفتوں نہیں کئی کئی مہینےبلکہ برسوں لگ جایا کرتے تھے، لیکن اب یہ سب ماضی کا قصہ ہوگیا ہے ، اب سوشل میڈیا پر فالوورز لے لو، فالوورز لے لو کےاشتہارات بالکل اسی طرح دکھائی دینا شروع ہوچکے ہیں جس طرح آلو لے لو، ٹینڈے لےلو ، پیاز لےلو، کی پکار ہم برسوں سے گلیوں میں سن رہے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس عملی طورپر فالوورز فیکٹریاں بن چکی ہیں،یہ پہلے فری پیج بنانے کی سہولت دیتی رہی ہیں اور اب مقبول ہونے کی انسانی جبلت کو ہوا دینے کیلئے طرح طرح کے پرکشش پیکیجز پیش کررہی ہیں، کہیں ڈھائی ڈالر سے 4ڈالر میں 1 فالوور مل رہا ہے، کہیں 25 ڈالر میں 1ہزار اور کہیں 10 ڈالر میں 1 ہزار فالوورز میٹھے پکوڑوں کی مانند دستیاب ہیں۔ زیادہ فالوور کا مطلب گوگل اور سوشل میڈیا ٹرینڈزکی فہرست میں اوپر کی جگہوں پر نمایاں ہونا ہے،بوجوہ ایسی سافٹ اور پرکشش خبریں اور بلاگز شائع کروائے جارہے ہیں جن سے فالوورز کلچر کی طلب میں اضافہ ڈیزائن کیا گیا، اس کیلئے ٹچ فون اور اینڈرائڈ ٹیکنالوجی کو سستا کرکے عام کردیا گیا۔کورونا کے بعد تو کاروبارِ زندگی یک لخت تبدیل ہوا کہ سوشل میڈیا نشے کی مانند لوگوں میں پھیل چکا ہے،جس گھر میں ٹیلی فون بھی نہیں ہوتا تھا وہاں پہلے کیبل پہنچی اور اب پاکستانی عوام کیبل کٹوا کر مہنگا ترین وائی فائی لگوا کر سوشل میڈیا سنڈروم میں مبتلا ہوچکے ہیں، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین کی تعداد 46 ملین تک جاپہنچی ہےجس میں41 ملین فیس بک ، 3 ملین ٹویٹر جبکہ چالیس لاکھ کے قریب انسٹا گرام کے فالوورز ہیں، اکثریت نوجوانوں کی ہے لیکن بڑی عمر کے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جارہا ہے جس کا اختتام ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

آیئے ذرا ماضی میں جھانکتے ہیں۔1968 میں گلوکاروں سائمن اور گارفنکل کا گیت(Fakein) ریلیز ہوا جو بری طرح فلاپ ہوا، اس میں گلوکار گاتا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں جھوٹ کہہ رہا ہوں میں سچ نہیں کہہ رہا ، بعد ازاں 1973 میں ایک جملہ منظر عام پر آیا(Fake it till you make it)۔ 2010 میں امریکی ٹی وی سیریز(Fake it till you make it) جو اگرچہ فلاپ ہوگئی لیکن سوشل میڈیا کی ساری مارکیٹنگ کمپین اسی ٹی وی سیریز کے ارد گرد گھومتی ہے، اس عنوان کا نہایت بے شرمی سے استعمال میاں نواز شریف کی حکومت کو گرانے کیلئے نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت سمیت ہر شعبے کو تباہ و برباد کرنے کیلئے کیا گیا جس کی دنیا میں کوئی اور مثال نہیں ملتی۔(Fake it till you make it ) کا لغوی معنی یہ ہے کہ’’ جھوٹا دکھاوا کرتے رہو جب تک کامیابی آپ کے قدم نہ چھو لے‘‘ یعنی اپنا مقصد حاصل نہ کرلو۔

واقعی معصوم پاکستانیوں کے سامنے ریاستِ مدینہ کا نام لیکر جھوٹ کا کوہِ ہمالیہ کھڑا کردیا گیا، (Fake it till you make it )کا دوسرامعنی یہ ہے کہ مہارت کا ایسا ڈھول پیٹو کہ سب آپ کو ہر شعبہ کا نیوٹن کہنا شروع ہوجائیں، اتنی تکرار کریں اور کروائیں کہ سب آپ کی ذہانت کے داعی ہوجائیں لیکن ہوا یہ کہ لانے اور خوش آمدید کہنے والوں کو شفیق الرحمان کی تمام ’’حماقتیں‘‘ بھول گئیں، (Fake it till you make it)کا تیسرا معنی یہ ہے کہ دوسروں کے سامنے ایسا رویہ اختیار کرو کہ وہ آپ پر آنکھیں بند کرکے یقین کرلیں۔تین سال پہلے آنکھیں بند کرکے اسےاعتماد کا تسلیم شدہ ایفل ٹاور مشہور کیا گیا تھا لیکن کذب بیانی سے لیکر فیک فالوورز تک جیسے جیسے، باری باری بیشتر نمائشی غباروں سے ہوا نکلتی جارہی ہے،ویسے ویسے اعتماد کا ایفل ٹاور منہدم ہونا شروع ہوگیا ہے، وہ وقت دور نہیں جب یہ زمین بوس ہوکر چکنا چور ہو جائیگا ، اور پھر عوامی گیت بجے گااچھے دن آئے ہیں شیر کو لائے ہیں۔

تحریر؛حنا پرویز بٹ

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.