کھوج بلاگ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور قومی ٹیم کی ذمہ داریاں؟

ساتویں ٹی20 ورلڈ کپ کے لیے بالآخر پاکستان کرکٹ ٹیم کا حتمی اعلان کردیا گیا ہے۔ ویسے تو ٹیم کا اعلان 6 ستمبر کو چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کردیا تھا، اور منتخب کردہ ٹیم پر ہر طرف سے شدید تنقید ہونے کے باوجود چیف سلیکٹر اپنی منتخب کردہ ٹیم سے بہت مطمئن دکھائی دے رہے تھے اور اس سلیکشن کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کی دلیل دینے کو تیار تھے۔

ان کو ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔ معاملہ یہ ہوا کہ جب نیوزی لینڈ ٹیم نے اچانک واپسی کا فیصلہ کیا اور اسی کو مدِنظر رکھتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم نے بھی پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا مجبوراً پاکستان کرکٹ بورڈ  کو قومی ٹی20 کپ کا انعقاد کرنا پڑا۔

بس یہی وہ فیصلہ تھا، جس نے اگلے آنے والے دنوں میں بہت کچھ تبدیل کردیا۔ عام حالات میں اس ایونٹ کی شاید اتنی اہمیت نہیں ہوتی مگر چونکہ ورلڈ کپ بالکل سر پر تھا اس لیے ہر ایک کھلاڑی پر یہ دباؤ بڑھ گیا تھا کہ اگر اپنی سلیکشن کو ٹھیک ثابت کرنا ہے تو پرفارم کرنا ہوگا، شاید یہی وہ دباؤ تھا جو بہت سارے کھلاڑی برداشت نہ کرسکے۔

ان میں سرِفہرست خوشدل شاہ، اعظم خان اور محمد حسنین تھے جو پورے ایونٹ میں ناکام رہے۔ اس ناکامی کے سبب ٹیم سلیکشن پر تنقید کرنے والوں کو ایک بار پھر موقع مل گیا اور انہوں نے کہنا شروع کردیا کہ جو کھلاڑی اپنے میدانوں پر مقامی ٹی20 میں پرفارم نہیں کر پارہے وہ عالمی ایونٹ میں کس طرح دباؤ کو برداشت کرسکیں گے؟

اسی صورتحال کے پیش نظر ٹیم میں 3 تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور خوشدل شاہ، اعظم خان اور محمد حسنین کی جگہ فخر زمان، سرفراز احمد اور حیدر علی کو ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ یعنی سینئر کھلاڑی شعیب ملک کو اس بار بھی موقع دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ مگر اس بار ان کی قسمت شاید ان پر کچھ زیادہ ہی مہربان تھی کہ عین موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ صہیب مقصود کمر کی تکلیف کی وجہ سے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے اور یوں تمام تر رکاوٹوں کے باوجود شعیب ملک کو ٹی20 ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔

یہ شعیب ملک کا آخری ٹی20 ورلڈ کپ ہے، اور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا بھی خیال تھا کہ تجربہ کار شعیب ملک کو اس ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے اور اسی لیے بابر اعظم نے سلیکشن کمیٹی سے شعیب ملک کو پہلے ہی مانگا تھا لیکن اس وقت کپتان کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی۔پھر سرفراز احمد کی جگہ اعظم خان کو قومی ٹیم میں سلیکٹ کرنا بھی کسی مذاق سے کم نہیں تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ چیف سلیکٹر محمد وسیم اپنے اس انتخاب کا بھرپور دفاع بھی کررہے تھے۔ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہوگیا اور حقیقت یہ ہے کہ ان تمام تر تبدیلیوں کے بعد ٹیم اب کچھ متوازن لگ رہی ہے۔

لیکن یہاں اس بات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ جس غیر یقینی کی صورتحال میں قومی ٹیم کا اعلان کیا گیا ہے، اس سے جو دنیائے کرکٹ میں ہماری جگ ہنسائی ہوئی ہے اس کا چیئرمین پی سی بی رمیز راجا کو نوٹس لینا چاہیے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔

یہاں ایک اور بات قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ ٹی20 ورلڈ کپ 2016ء میں بھارت میں کھیلا گیا تھا جس میں پاکستان ٹیم شاہد آفریدی کی قیادت میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکی تھی۔ اس ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پول میچ میں انتہائی ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور ٹیم پہلے ہی راؤنڈ میں ایونٹ سے باہر ہوگئی تھی۔

5 سال پہلے منعقد ہونے والے میگا ایونٹ میں محمد حفیظ اور شعیب ملک قومی ٹیم کا حصہ تھے اور یہ دونوں اس بار بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان گزشتہ 5 سالوں میں انضمام الحق، مصباح الحق اور محمد سیم نے بطور چیف سلیکٹر اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیا ہے مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ اتنے سالوں میں ان تینوں میں کوئی بھی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب نہیں کرسکا جو ٹیم میں ان سینئرز کی جگہ لے سکیں۔

انضمام الحق اپنے دور میں 3 سال تک فہیم اشرف کو بطور آل راؤنڈر کھلاتے رہے لیکن جب 2019ء کا ورلڈ کپ آیا تو ان کو ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا۔ لیکن ورلڈ کپ کے بعد ایک بار پھر وہ ٹیم کا حصہ بن گئے اور اب جب 2021ء میں ٹی20 ورلڈ کپ آیا تو فہیم اشرف منظر سے غائب ہیں۔ یہ کیسا ٹیلنٹ ہے جس پر آپ اتنا انویسٹ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ کسی بڑے ایونٹ میں ٹیم کا حصہ نہیں بن پاتے؟ ایسے ٹیلنٹ کا قومی ٹیم کو کیا فائدہ؟

سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس ورلڈ کپ کے بعد جب محمد حفیظ اور شعیب ملک کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے تو پھر کرکٹ بورڈ کے پاس متبادل کیا ہے؟ آخری لمحات میں اتنی ساری تبدیلیوں اور نوجوانوں کے بجائے 39 اور 40 سالہ کھلاڑیوں پر بھروسہ کرنے سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ کرکٹ بورڈ کے پاس ٹیم کے انتخاب کے لیے کوئی اسٹریٹجی تھی ہی نہیں۔

اس ورلڈ کپ سے پہلے قومی کرکٹ ٹیم کو ایک بڑا مسئلہ کوچنگ اسٹاف کی تبدیلی کا بھی رہا۔ گزشتہ 2 سال سے مصباح الحق بطور ہیڈ کوچ اور وقار یونس بطور باؤلنگ کوچ ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے لیکن اچانک انہوں نے جانے کا فیصلہ کیا یا فیصلہ کروا لیا گیا، مگر اس پوری صورتحال میں یہ کسی نے نہیں سوچا ان بڑے فیصلوں کی وجہ سے ٹیم کے کھلاڑیوں اور ان کی کارکردگی پر کس قدر منفی اثر پڑے گا۔

قومی کرکٹ ٹیم 24 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت کے خلاف پہلا میچ کھیلے گی۔ اس میچ کی پرفارمنس کا یقینی طور پر آگے ایونٹ میں اثر پڑے گا، لہٰذا یہ بات ضروری ہے کہ کھلاڑی اس میچ پر بھرپور فوکس کرتے ہوئے جیتنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد 26 اکتوبر کو نیوزی لینڈ اور 29 اکتوبر کو افغانستان کے خلاف قومی ٹیم میچ کھیلے گی جبکہ قومی ٹیم کا اگلا میچ کس سے ہوگا اس کا انحصار کوالیفائنگ راؤنڈ میں کامیاب ہونے والی ٹیموں پر ہوگا۔

یہ بات اوپر بھی لکھی جاچکی ہے کہ تبدیلیوں کے بعد قومی ٹیم کا اسکواڈ اب کافی بہتر محسوس ہورہا ہے۔ بابر اعظم، محمد رضوان، فخر زمان، حیدر علی، محمد حفیظ، شعیب ملک، سرفراز احمد اور آصف علی کی موجودگی میں اچھا بیٹنگ یونٹ موجود ہے۔

اس کے علاوہ عماد وسیم، محمد نواز اور شاداب خان پر بطور اسپنر پورے ایونٹ میں بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات میں اسپنرز کا کردار بہت اہم ہوگا۔

فاسٹ باؤلنگ کا یونٹ بھی شاہین آفریدی، حسن علی، حارث رؤف اور محمد وسیم کی موجودگی میں کافی متوازن محسوس ہورہا ہے۔

لیکن کاغذ پر نظر آنے والی ٹیم کتنی ہی مضبوط یا کمزور دکھائی دے، اس کی اصل اہمیت کا اندازہ میدان پر ہی ہوتا ہے، اس لیے اب تو بس یہ امید ہی کی جاسکتی ہے کہ قومی ٹیم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے میگا ایونٹ میں بہترین کھیل پیش کرے اور ایک بار پھر چیمپئن بننے کا اعزاز اپنے نام کرے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.