کھوج بلاگ

عوامی مسائل سے لاپروا پارلیمنٹ

اب یہ کہنا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مقدس ایوان "مچھلی منڈی بن گیا" بہت چھوٹا سا لفظ ہے

اب پارلیمنٹ کے اجلاس ہوں تو وہاں پر جو بھگڈر مچتی ہے، ہاہاکار ہوتی ہے، ایک دوسرے کی عزتیں اچھالی جاتی ہیں، ضد،نفرت،تعصب اور گروپ بندی کا اہتمام نظر آتا ہے، بدتمیزی کا رجحان پایا جاتا ہے، یہ دیکھ کر اب یہ کہنا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مقدس ایوان "مچھلی منڈی بن گیا” بہت چھوٹا سا لفظ ہے. اب تو دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کی قیادت یہ ہے جنہیں جس مقصد کے لیے منتخب کرواکے ایوانوں میں بھیجا گیا، وہ وہاں گلی محلی کے "لچے لفنگے” لوگوں سے بھی برے رویے اپنائے نظر آتے ہیں.۔۔

قائدین ملت کیا بتا سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کی یہ ہاہاکار، بدتہذیبی، انا، نفرت انگیز رویے اور اپنے اپنے دھڑے کے لیے ضد و ہٹ دھرمی کے لیے پارلیمنٹ اجلاس میں گزرا ایک دن پاکستانی غریب لاچار و مفلس قوم کو چار کروڑ میں پڑتا ہے؟؟؟مقدس ایوان کا کام قانون سازی ہے اور منتخب نمائندوں کا کام بوقت قانون سازی اپنے حلقے کی عوام کی نمائندگی کرنا ہے نا کہ یہ کہ اس قانون میں ہمارا لیڈر اختلاف رکھتا ہے تو ہم بھی اختلاف کریں گے اور اگر ہمارا لیڈر اشارہ کرتا ہے تو ہم اس کی خوبیاں گنوا دیں گے…

جمہوریت تو اختلاف رائے کا نام ہے۔.. اگر ہر بات کے صحیح و غلط ہونے کا فیصلہ آپ کے لیڈران کی ایماء پر ہی ہونا ہے تو قوم آپ لوگوں کے اتنے  خرچے کیوں برداشت کرے؟؟؟آپ لوگ جس جس پارٹی کے ہیں اپنے اپنے لیڈران کو ذمہ داری سونپیں اور گھروں کو لوٹ آئیں.۔۔کیا ہی اچھا ہو کہ کم از کم قانون سازی کے وقت منتخب نمائندے روبوٹ بن کے اپنے بڑوں کے اشاروں پر ناچنے کی بجائے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے حلقے کی عوام کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون سازی میں حصہ لیں  .۔۔ عام فرد کی نمائندگی کے لیے بھیجے جانے والوں نے اگر وہاں جا کر پارٹیوں کے حکم ہی بجا لانے ہیں تو عام آدمی کا نمائندہ کہلوانا بھی چھوڑ دیں۔۔۔

کیا عجب مذاق ہے کہ ملک کے اہم ترین قوانین منظور کیے جارہے ہیں اور ممبران قومی اسمبلی اپنی عقل و دانش سے محروم نظر آتے ہیں اور محض اپنے لیڈروں کے اشاروں پر اس کی حمایت و مخالفت کرتے ہیں.۔۔کیا ساری اپوزیشن کے اراکین ووٹنگ مشین کے معاملے پر ایک ہی رائے رکھتے ہیں؟؟؟کیا سارے حکومتی اراکین اس مشین کو ہی مسئلے کا حل سمجھتے ہیں؟؟؟یقینا اس بات کو جواب نفی میں ہے مگر یہاں تو وہی عامر لیاقت والی بات دھرائی جائے گی کہ "ہم آئے نہیں لائے گئے ہیں اور پورے اہتمام سے لائے گئے ہیں”

کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس پر پوری مفصل بحث ہوتی، ہر کوئی اپنے دلائل بلند کرتا، اس کی حمایت والے اس نظام کو شفاف الیکشن کی طرف جانے کا یقین دلاتے اور مخالفت والے اپنے دلائل کے ذریعے اس کی خامیوں کو اجاگر کرتے، اس قانون سازی پر یہ بھلا دیا جاتا ہے کہ میں نے اپوزیشن کا ساتھی ہونے کہ وجہ سے اس کی مخالفت نہیں کرنی بلکہ حقائق کی بنیاد پر اپنے حلقہ کی عوام کی نمائندگی کرنی ہے.۔۔بھلا دیا جاتا کہ میں نے حکومتی نمائندہ ہونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند کرکے مکمل حمایت نہیں کرنی بلکہ اس میں خامیوں کی بھی نشاندہی کرنے ہے تاکہ ملک کے اس حساس ترین مسئلے کو ایمانداری سے حل کیا جاسکے.۔۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اراکین پارلیمنٹ میں اکثریت ان کی ہے جن کو کوئی دلچسپی ہی نہیں ان معاملات سے، وہ بس اپنے اپنے جتھے اور گروہ کے ساتھ کھڑے ہیں قطع نظر اس سے کہ وہ درست سمت کھڑا ہے یا غلط سمت…

عوامی مسائل کو حل کروانے یا ان کی نمائندگی کے لیے بولنے کی کسی کو ضروت نہیں.مقصد و مشن ہے تو بس اتنا کہ اپنے سیاسی لیڈر یا آقاؤں کی نظر میں زیادہ اچھا بچہ کیسے بنا جاسکے.۔۔ اس وقت پاکستان میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔۔. مہنگائی لی وجہ سے جینا محال ہوچکا ہے.۔۔ غریب آدمی کے لیے اپنی عزت نفس بچانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے. ملکی معیشت آئی ایم ایف کے سپرد کرنے کی وجہ سے پاکستانی روپیہ 51 فیصد تک ڈی ویلیو ہوچکا ہے.۔۔ کسان کھاد لینے کے لیے رل رہا ہے.۔ ڈی اے پی کا تھیلہ 9000 روپے سے تجاوز کرچکا ہے جو تین سال قبل 2800 روپے کا تھا.۔۔ بجلی پہلے سے دو گنا قیمت پر پہنچ چکی ہے۔۔. گیس کا بحران سر پر کھڑا ہے اور پہلے اس کی لوڈشیڈنگ کے اوقات بتائے جاتے تھے ،اب اس کے آنے کے اوقات بتائے جا رہے ہیں کہ دن میں بس تین وقت دستیاب ہوا کرے گی.۔۔گھریلو سلنڈر 2500 سے تجاوز کرچکا ہے۔۔. آٹا گھی دالیں سبزیاں خریدنے جائیں تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے نظر آتے ہیں.۔۔

ان دو درجن قوانین میں نے کیا ایک بھی ایسا تھا  جس سے یہ بنیادی اور اہم ترین مسائل کی طرف توجہ ہو سکے.۔۔بلکہ الٹا قانون بنا دیا کہ سٹیٹ بینک کو پاکستان کے کسی بھی ادارے کو جواب دہ نہیں ہونا پڑے گا.۔۔کیا حکومتی اراکین میں سے کسی کی حلقہ کی عوام کو اس پر اعتراض نہیں؟؟؟اگر دیکھا جائے تو کسی حلقہ کی عوام ایسی بات کی اجازت نہیں دے سکتی مگر یہ عوام کی سوچ کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کریں توتب…ہماری عدالتوں میں بیس لاکھ سے زائد کیسز التواء کا شکار ہیں، کتنے ہی بے گناہ لوگ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے ایڑیاں رگڑ رہے ہوں گے اور کتنے ہی مجرم یہاں دندناتے گھوم رہے ہونگے مگر اس کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں.۔۔ہمارا نظام انصاف دو صدیاں پرانا ہوچکا ہے.۔۔1861ء کا وہ پولیس ایکٹ نافذ ہے جو انگریز یہاں کی بغاوت کچلنے کے لیے نافذ کرکے گیا تھا اور 1861ء کا وہی فوجداری ایکٹ نافذ ہے جو انگریز نافذ کرگیا تھا.کیا یہ قومی اسمبلی کی کارکردگی پر دھبہ نہیں ہے کہ وہ ابھی تک ایسی بنیادی طرز کی قانون سازی میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی؟؟؟؟

بشکریہ : محمد راحیل معاویہ ،روزنامہ پاکستان

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.