کھوج بلاگ

گوادر کا تاریخی ورثہ لاوارث کیوں؟

اگست کا گرم دن تھا، شام ڈھلنے سے پہلے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ کریموک ہوٹل میں چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ ہوٹل میں مچھیرے بھی خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ہمارے ساتھ بیٹھے بیشتر ماہی گیروں کو شاید یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ ‘کریموک ہوٹل’ گوادر کے قدیم فنِ تعمیرات کا شاہکار ہے۔

کریموک ہوٹل گوادر میں شاہی بازار کے وسط میں واقع ہے جہاں کی زیادہ تر دکانیں منہدم ہوچکی ہیں اور چند باقی ماندہ دکانیں نہایت خستہ حالی کا شکار ہیں۔وادر شہر 1783ء سے 1958ء تک سلطنت آف عمان کا حصہ رہا اور 1958ء میں حکومتِ پاکستان نے اسے عمانی حکومت سے 40 لاکھ پاؤنڈ میں خریدا۔گوات در’ سے گوادر تک کا سفر طے کرنے والی ماہی گیروں کی یہ قدیم بستی اب سی پیک اور گوادر پورٹ کی وجہ سے بین الاقوامی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ برطانوی راج سے لے کر ‘سلطنت آف عمان’ کے زیرِ تسلط رہنے والا گوادر اب پورٹ سٹی اور سی پیک کی وجہ سے وی وی آئی پی موومنٹ کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔گوادر میں پرتگالی، برطانوی اور سلطنت آف عمان ادوار کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے یہاں موجود آثارِ قدیمہ عدم توجہی کی وجہ سے اپنا وجود کھو رہے ہیں۔

گوادر کا قدیم شاہی بازار

گوادر میں مقیم ناصر رحیم سہرابی گوادر کی قدیم تاریخ سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق گوادر کا شاہی بازار ایک قدیم مقام ہے۔ یہاں موجود دکانیں بلاشبہ قدیم طرزِ تعمیرات کی شاہکار ہیں اور یہ گزرے دور کی طرزِ زندگی کا ایک نمونہ پیش کرتی ہیں۔ ان کے مطابق اس قدیم اور تاریخی بازار کو محفوظ کرکے سیاحت کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔شاہی بازار کے قریب اسماعیلی برادری کا ایک قدیم جماعت خانہ بھی موجود ہے جسے 1905ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ عمارت کے مرمتی کاموں اور تزئین و آرائش کی وجہ سے اس کی حالت بازار کی دیگر عمارتوں سے کافی بہتر ہے۔ناصر رحیم بتاتے ہیں کہ اسی محلے میں ایک قلعے کے آثار بھی موجود ہیں اور پرانے وقتوں میں اس قلعے کے اندر بنے ہوئے کنوؤں میں خطرناک قیدیوں کو رکھا جاتا تھا۔

گوادر قلعہ

شبیر رند گوادر کی تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق 1916ء کے اوائل میں سردار بہرام بارانزئی نے لوٹ ماری کے لیے پرشین بلوچوں کا ایک لشکر برطانوی زیرِ نگیں مکران روانہ کیا تھا۔ دراصل سردار یہ سب اپنے بھائی میر امین بارانزئی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کر رہا تھا جو مکران لیوی کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔شبیر رند بتاتے ہیں کہ ’سردار کا لشکر گوادر کے قریب پہنچ چکا تھا اور عمانی سلطان کے سپاہی بھی گوادر کے دفاع کے لیے صف بندی کرچکے تھے۔ اس دوران سلطان کا قاصد مارا گیا۔ ان کو آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ گوادر کی طرف نہ آئیں۔ اس واقعے کے بعد سلطان نے گوادر قلعے کی تعمیر کا حکم جاری کیا اور 1917ء میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا‘۔ناصر رحیم کے مطابق ’قلعے کے دفاع کے لیے مورچے بنائے گئے تھے کیونکہ حملہ آور سمندری راستے سے آتے تھے، یہ مورچے قلعے سے قدیم بتائے جاتے ہیں‘۔

ٹیلی گراف اور ڈاک خانہ

گوادر میں برطانوی دور کی عمارتوں کے آثار اور ان کی باقیات بھی موجود ہیں۔ دستاویزات کے مطابق انگریزوں نے 1863ء میں پہلی مرتبہ گوادر کو ٹیلی گراف کے ذریعے کراچی سے منسلک کیا اور 1894ء میں گوادر میں پہلا ڈاک خانہ قائم کیا تھا۔ برطانوی دور کی یہ عمارت خستہ حالی کے باوجود اپنی بنیادوں پر کھڑی ہے۔گوادر کے مقامی لکھاری حلیم حیاتیان کے مطابق انگریزوں نے برِصغیر آمد کے بعد 18ویں صدی میں کلکتہ سے پورے برِصغیر اور خلیجِ فارس تک اپنا مواصلاتی نظام پھیلایا تھا۔

ستکگیں ڈھور اور ستکگیں کوہ (جلا ہوا قلعہ اور جلا ہوا پہاڑ)

ڈپٹی ڈائریکٹر کیوریٹر آرکیالوجی بلوچستان جمیل بلوچ کے مطابق ستکگیں ڈھور یا کوہ کا ایک حصہ پاک ایران بارڈر جیوانی سے 48 کلومیٹر دُور واقع ہے جو 3500 قبل مسیح پرانا ہے جبکہ اس کا دوسرا حصہ پسنی اور تربت کے راستے شادی کور میں موجود ہے۔

مقامی لوگوں سے یہ سننے کو ملتا ہے کہ زمانہ قدیم میں اس علاقے کو حملہ آوروں نے جلا دیا تھا، مگر اس حوالے سے ٹھوس تاریخی حوالے نہیں ملتے۔ستکگیں ڈھور کو برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ میجر موکلر (Major Mockler) نے 1875ء میں مکران کی مہم کے دوران دریافت کیا تھا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ یہاں کے گھر اور قلعے وادئ سندھ (Indus civilization) کی تہذیب کے زمانے کی عمارتوں کے طرز پر بنے ہوئے ہیں۔شادی کور میں موجود ستکگیں کوہ کو امریکی ماہرِ آثارِ قدیمہ جارج ایف ڈیلس George F Dales اور رفیق مغل نے 1960ء میں ایک سروے کے دوران دریافت کیا تھا۔ امریکی ماہر نے اس کا تذکرہ اپنی کتاب ‘اے سرچ فار پیراڈائیز’ A search for Paradise میں بھی کیا تھا۔بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے استاد عمران شبیر کہتے ہیں کہ ستکگیں ڈھور کو آثارِ قدیمہ کے اعتبار سے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے، یہاں کھدائی کے دوران مٹی کے برتن اور دیگر نوادرات بھی ملے ہیں۔ عمران شبیر کے مطابق شواہد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ 3500 قبل مسیح میں مکران سے میسوپوٹیمیا تک یہ علاقہ صنعتی راہداری کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔

عمانی قلعہ

گوادر چونکہ ماضی میں سلطنت آف عمان کا حصہ رہا ہے لہٰذا یہاں عمانی دورِ حکومت کی نشانیاں بھی مل جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک عمانی قلعہ ہے۔ اس قلعے کو بعدازاں میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا تاہم اس وقت یہ عمارت عوام کے لیے بند ہے۔ قلعے کی عمارت بہتر حالت میں ہے اور یہاں قدیم نوادارت بھی محفوظ ہیں۔ اس وقت یہ میوزیم محکمہ آثارِ قدیمہ کے زیرِ انتظام ہے۔

تحریر؛ظریف بلوچ

متعلقہ خبریں

Back to top button

Adblock Detected

We Noticed You are using Ad blocker :( Please Support us By Disabling Ad blocker for this Domain. We don't show any popups or poor Ads.